لبنان میں ٹرمپ کی ناکام حکمت عملی

ٹرمپ

?️

لبنان میں ٹرمپ کی ناکام حکمت عملی

امریکی ماہرین کے مطابق امریکہ کی لبنان میں پالیسی نہ صرف غیر مؤثر ہے بلکہ اس نے ملک میں عدم استحکام کو بھی شدید حد تک بڑھا دیا ہے اور در حقیقت یہ موجودہ ناپائیدار صورتحال کو جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ واشنگٹن کی یہ پالیسی، اسرائیل کی بلاشرط حمایت کے ساتھ، امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں حکمت عملی کو ناکام بنا رہی ہے۔

نیشنل انٹرسٹ کے مطابق، اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان ایک سال بعد، مکمل تنازعات کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اس مرکز کے تجزیہ کار الیگزینڈر لینگلوئیس کا کہنا ہے کہ طاقت کے ذریعے امن کا طریقہ، جس کا مقصد مختصر مدتی تکنیکی فتوحات ہے، بغیر کسی سنجیدہ نظرثانی کے مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی ساخت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

نومبر ۲۰۲۴ کے معاہدے کے مطابق، دونوں فریقین کو جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹنا اور متقابل حملوں کو روکنا تھا، لیکن اسرائیل نے چند اہم سرحدی علاقوں پر قبضہ اور روزانہ حملے جاری رکھ کر اس معاہدے کو ناکام بنا دیا۔ لبنان کی فوج کی جانب سے جنوبی علاقوں میں اپنی افواج کو تعینات کرنے کی کوشش بھی اسرائیل کے مسلسل حملوں کی وجہ سے متاثر ہوئی اور متعدد لبنانی فوجی اور اقوام متحدہ کے امن فوجی (یونیفل) بھی ہلاک یا زخمی ہوئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی بجائے اس کے جارحانہ رویے کی حمایت کی، جس سے یہ صورتِ حال برقرار رہی۔ اس سے لبنان کی حکومت پر دوہرا دباؤ آیا: ایک طرف مغرب اور اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کا دباؤ اور دوسری طرف داخلی مخالفت اور حزب اللہ کی جانب سے کسی بھی قریبی تعاون کی مزاحمت۔

یہ رویہ صرف لبنان تک محدود نہیں، بلکہ امریکہ نے شام میں بھی اسرائیل کی حمایت کے ذریعے طویل مدتی بن بست پیدا کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قبضے اور عسکری تشدد کی بنیاد پر ناپائیدار صورتحال قائم کرنا مشرق وسطیٰ میں حقیقی امن فراہم نہیں کرے گا اور اس پالیسی کی تکرار موجودہ بحرانوں کا سبب بنی ہے۔

آخر میں، نیشنل انٹرسٹ کے مصنف کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی امن قائم کرنا چاہتے ہیں تو اسے اسرائیل کے رویے کو تسلیم کرنا ہوگا اور واشنگٹن کے اثر و رسوخ سے تل ابیب کو قابو میں رکھنا ہوگا تاکہ خطے میں مزید انتشار اور افراتفری کو روکا جا سکے۔

مشہور خبریں۔

قرآن کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری

?️ 30 جون 2023سچ خبریں:اپنے ملک سے سویڈن فرار ہونے والے 37 سالہ عراقی تارک

چندے کھانے والے دوسروں کو بھی یہی درس دیں گے: عظمیٰ بخاری

?️ 3 اکتوبر 2025لاہور: (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جن

وزیر خزانہ منافع خوروں کے خلاف ایکشن لینے کا حکم دے دیا

?️ 13 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے عید الاضحیٰ

مقاومت اور سردار سلیمانی کا راستہ جاری: یمنی چیئرمین

?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:  مذاکراتی ٹیم کے رکن اور یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل

2023 کے آغاز سے اب تک صیہونیوں کے ہاتھوں 88 فلسطینیوں کی شہادت

?️ 18 مارچ 2023سچ خبریں:فلسطین کے خبر رساں ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ رواں

عالمی یوم قدس کے موقع پر مسئلہ فلسطین ایک بار پھر زندہ ہو گا: حماس

?️ 28 مارچ 2025سچ خبریں: حماس تحریک کے سربراہوں میں سے ایک محمود مردوی نے

فیض آباد دھرنا کیس: فیصلے پر عمل درآمد کیلئے کمیٹی بنادی، حکومت کا سپریم کورٹ میں جواب

?️ 27 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے

وزیراعظم کی زیرصدارت سول و عسکری قیادت کی بیٹھک، ملک دشمن مہم کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ

?️ 28 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم کی زیر صدارت سول و عسکری قیادت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے