?️
سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ریاستِ فلسطین کے لیے عبوری آئین کا مسودہ پیش کیے جانے کے بعد فلسطینی سیاسی منظر نامے میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
یہ اقدام قومی اتحاد کی جانب قدم ثابت ہونے کے بجائے رام اللہ اور حماس کے درمیان تازہ ترین اختلافی نکتہ بن گیا ہے۔
یہ تنازع براہِ راست فلسطین کی مستقبل کی ریاست کی تعریف، جائز سیاسی مرجعیت، قابض طاقت کے ساتھ تعلق، اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ روابط جیسے بنیادی سوالات سے جڑا ہوا ہے۔
محمود عباس، صدر فلسطینی اتھارٹی، نے فروری 2026 کے اوائل میں 70 صفحات پر مشتمل اس مسودے کو موصول کیا، جس کا اعلامیہ مقصد اتھارٹی کو ایک عبوری انتظامی ادارے سے آئینی فریم ورک کی حامل مکمل ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی اتھارٹی برسوں سے بین الاقوامی سطح پر خود کو "ریاست فلسطین” کہلاتی رہی ہے، مگر پہلی بار اس دعوے کو باضابطہ قانونی دستاویز کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فلسطینی عہدیداران کے مطابق، آئین کا یہ مسودہ ابتدائی طور پر پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا اور بعد ازاں عوامی رائے کے لیے جاری کیا جائے گا۔ یہ عمل کئی ماہ جاری رہ سکتا ہے اور بالآخر ریفرنڈم تک جا پہنچے گا۔ تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی واضح ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر یہ آئین منظور بھی ہو جاتا ہے، تو فلسطینی عوام کی روزمرہ زندگی پر اس کا عملی اثر محدود ہو گا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مغربی کنارے اور اہم سرحدی گزرگاہوں پر اسرائیل کا مکمل سیکورٹی کنٹرول برقرار ہے۔
مزید برآں، تل ابیب اس اقدام کو اوسلو معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کر چکا ہے۔ اس مخالفت کا عملی اظہار فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکس محصولات میں سے اربوں ڈالرز روکے جانے کی صورت میں ہو رہا ہے، جس سے رام اللہ کے انتظامی ڈھانچے کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔
ایسے نازک موڑ پر، بعض مبصرین کا خیال ہے کہ محمود عباس جان بوجھ کر ریفرنڈم کے عمل میں تاخیر کر رہے ہیں تاکہ اسرائیل کی جانب سے سیاسی اور مالی دباؤ میں مزید اضافے سے بچا جا سکے۔ یہ اندازہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئینی منصوبہ فوری نفاذ کے بجائے بیرونی دباؤ کو منظم کرنے کا ایک آلہ کار بن کر رہ گیا ہے۔
حماس نے اس پورے عمل پر فوری اور دوٹوک ردعمل ظاہر کیا ہے۔ تحریک کے پولیٹیکل بیورو کے سینئر رکن، باسم نعیم، نے آئین کے مسودے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ایسے حالات کا مرقومہ قرار دیا جو قومی دستاویز کی تیاری کا تقاضا پورا نہیں کرتے۔
انہوں نے دستاویز کی قانونی پیچیدگیوں میں پڑے بغیر کہاکہ قید میں رہنے والی قوم اپنا آئین جیلر کی مرضی سے نہیں لکھتی۔ ہم جیل کے قوانین کو قانونی حیثیت دینے والے نہیں ہیں۔ نعیم نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ یہ متن فرانسیسی نگرانی میں بند کمروں میں تیار کیا گیا اور اس کی جڑیں "نیویارک اعلامیہ” میں پیوست ہیں، جو حماس کے نزدیک مزاحمتی مسیر کو کمزور کرتا ہے۔
گزشتہ موسم گرما میں فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں جاری ہونے والے اور بعد ازاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں توثیق شدہ نیویارک اعلامیے میں حماس کے تخفیفِ اسلحہ، 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی مذمت، فلسطینی اتھارٹی میں ساختی اصلاحات، اور دو ریاستی حل کی پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حماس اس فریم ورک کو فلسطین کاز پر بیرونی مرضی مسلط کرنے کے مترادف قرار دیتی ہے۔
وحدت کا نظام؟
فلسطینی اتھارٹی کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جانے والی تحریک فتح نے حماس کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ آئین کا مسودہ مکمل طور پر فلسطینی ارادے اور عقل کا مرہونِ منت ہے۔ فتح نے اپنے باضابطہ مؤقف میں حماس کو داخلی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس پر زور دیا ہے کہ وہ پی ایل او کو فلسطینی عوام کا واحد جائز نمائندہ تسلیم کرے۔
فتح کے نقطۂ نظر سے، ادارہ جاتی اصلاحات اور طاقت کے قانونی فریم ورک کی ازسرِنو تعریف، کسی بھی سیاسی تعمیرِ نو اور غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی ممکنہ واپسی کی شرط ہے۔ یہ عمل بین الاقوامی برادری کی حمایت اور پیش قیاسی سیاسی نظام کے بغیر ممکن نہیں۔
آئینِ متن سے ماورا گہرا انتشار
موجودہ اختلاف کو محض ایک قانونی دستاویز پر سیاسی نزاع تک محدود نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ دراصل اس گہرے انتشار کا تسلسل ہے جس نے 2007 میں فتح حماس تصادم کے بعد سے فلسطینی سیاسی نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔
فلسطینی قانون ساز کونسل کو قریب دو دہائیوں سے اجلاس کی دعوت نہیں دی گئی، جبکہ محمود عباس اپنی پہلی صدارتی مدت کے اکیسویں سال میں داخل ہو چکے ہیں۔ انتخابات میں مسلسل تاخیر اور حماس کی کامیابی کا خدشہ اس صورت حال کے اہم محرکات ہیں۔ 2006 کے بعد فلسطینی سرزمینوں میں کوئی انتخابات نہیں ہوئے۔
ایسی فضا میں، نیا آئین قومی وحدت کی علامت سے زیادہ دو متضاد حکمتِ عملیوں کا عکس بن کر سامنے آیا ہے: رام اللہ کی حکمتِ عملی جو بین الاقوامی قانونی حیثیت اور اوپر سے اصلاحات پر انحصار کرتی ہے، اور حماس کی حکمتِ عملی جو مغرب اور اسرائیل کے ساتھ تعامل سے وجود میں آنے والے کسی بھی سیاسی فریم ورک کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔
بالآخر، عبوری آئین کا مسودہ فلسطینی اتھارٹی اور حماس کے درمیان خلیج کو غزہ کے انتظام اور سیکورٹی تنازعات سے آگے بڑھا کر ایک بنیادی ترازو پر لے آیا ہے: ریاست کی تعریف، خودمختاری کا حوالہ، اور فلسطینی سیاست کا قابض طاقت اور بین الاقوامی برادری سے نسبت کا تعین۔ جب تک یہ بنیادی انتشار حل نہیں ہو جاتا، آئین جیسی ہر ادارہ جاتی کوشش وحدت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے مقابلے اور تصادم کا ایک نیا میدان فراہم کرے گی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
صیہونی مزاحمتی تحریک سے کیوں ڈرتے ہیں؟
?️ 9 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی فوج نے طوفان الاقصیٰ کی لڑائی میں اس حکومت
اکتوبر
رفح کراسنگ کی مسلسل بلاکنگ کا سلسلہ جاری
?️ 24 جون 2024سچ خبریں: فلسطین ہلال احمر نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان
جون
صہیونیوں کے پاس بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں:مزاحمتی تحریک
?️ 17 اکتوبر 2022سچ خبریں:عرین الاسود مزاحمتی گروپ نے مغربی کنارے کے لوگوں سے صیہونی
اکتوبر
عمران خان اور بشریٰ بی بی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں گواہ پر وکلائے صفائی کی جرح مکمل
?️ 6 جنوری 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان
جنوری
دمشق اور تل ابیب کے درمیان پیرس میں امریکی ثالثی میں سیکیورٹی مذاکرات
?️ 26 جولائی 2025سچ خبریں: ایک باخبر سفارتی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ شام
جولائی
افغانستان میں امن سے خطے میں خوشحالی آئے گی:صدرمملکت
?️ 12 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ افغانستان میں امن
اکتوبر
بھارت نے خطے کے امن کو داؤ پر لگایا ہوا ہے: بابر افتخار
?️ 5 جنوری 2022راولپنڈی (سچ خبریں)ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا
جنوری
نیویارک ٹائمز کا جمال خاشقجی کے قاتلوں کے بارے میں اہم انکشاف
?️ 23 جون 2021سچ خبریں:ایک امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ خاشقجی کے قتل میں
جون