فلسطینی مزاحمتی تحریک کی سعودی حکومت پر تنقید

فلسطینی

?️

سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں فلسطینیوں کی مسلسل نظربندی کا مقصد مزاحمت کے حامیوں کو پریشان کرنا اور صیہونی قابض حکومت کے قریب ہونا ہے جواس ملک کے حکام کے ماتھے پر بدنماداغ ہے۔
سعودی عرب نے سن 2019 کے بعد سے اب تک 60 کے قریب فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے جن میں اس ریاض میں حماس کے نمائندے محمد الخضری بھی شامل ہیں اور ان کی رہائی کے لیےمظاہرے جاری ہیں، حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں درجنوں فلسطینیوں کو حراست میں رکھنا ایک غلطی اور عرب اقدار سے متصادم ہے،رپورٹ کے مطابق انہوں نے ریاض سے مطالبہ کیا کہ وہ حراست میں لیے گئے افراد کو فوری رہا کریں ، انہوں نے کہا کہ ان افراد نے سعودی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مسئلۂ فلسطینی کے حق میں کام کیا ہے۔

درایں اثنا جہاد اسلامی فلسطین کے ترجمان داؤد شہاب نے بھی ، بغیر کسی الزام اور جرم کے محمد الخضری سمیت فلسطینیوں کی مسلسل نظربندی کی شدید مذمت کی،انہوں نے عربی 21 کو بتایا کہ یہ گرفتاریاں فلسطینی عوام کے اور مزاحمت کے حامیوں کے لئے میدان تنگ کرنے اور قابض اسرائیلی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی راہ ہموار کرنے کے لئے عمل میں لائی گئی ہیں،فلسطین الاحرار تحریک کے ترجمان یاسر خلف نے بھی بغیر کسی الزام کے ریاض میں درجنوں فلسطینیوں کی نظربندی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان ممالک کی بدنامی ہے جو تل ابیب سے تعلقات معمول پر لائے ہیں اور اس جعلی حکومت کے قریب ہونےکی کوشش کر رہے ہیں ۔

خلف نے فلسطینی عوام کی شبیہہ اور اس کی جدوجہد کو داغدار کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی قوم کی مزاحمت صرف مقبوضہ علاقوں تک محدود ہے اور فلسطینیوں کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو خراب کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ،اس کے بعد انہوں نے حراست میں لیے گئے افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر قید میں ایک بھی قیدی فوت ہوجاتا ہے تو یہ ان لوگوں کی بدنامی ہوگی جو اپنی حراست جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔

 

مشہور خبریں۔

اسرائیل کو سخت معاشی کساد بازاری کا سامنا :عبرانی اخبار

?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں:عبرانی زبان کی اخبار کالکالیست کی ایک رپورٹ کے مطابق، جنگ

جنگ بندی کی تجویز کے بارے میں لبنانی حکام کے شرایط

?️ 21 نومبر 2024سچ خبریں: امریکی ایلچی آموس ہاکسٹین کے بیروت کے دورے اور جنگ

پاکستان نے افغانستان کے ریلیف فنڈ کو نہ کھول کر FATF کو خطرے میں ڈالا

?️ 15 جنوری 2022سچ خبریں:  ایکسپریس بینک نے ہفتہ کو لکھا کہ مرکزی بینک نے

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مخصوص نشستوں پر بھی نمائندگی بھی ملنی چاہیے

?️ 29 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) گورنر پنجاب چودھری سرور نے قومی و صوبائی اسمبلیوں

چار بین الاقوامی ایجنسیوں کی جانب سے ٹارگٹڈ امداد کے پردے کے پیچھے: ترقیاتی ٹول یا معاشی اثرورسوخ؟

?️ 6 دسمبر 2025سچ خبریں: بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کے اہم میکانزم میں سے ایک

پاکستانی ٹیک کمپنی ’سدا پے‘ ( SadaPay)کا پاکستانی فری لانسرز کے لیے احسن اقدام

?️ 22 اکتوبر 2023لاہور: (سچ خبریں) پاکستانی ٹیک کمپنی ’سدا پے‘  نے پاکستانی فری لانسرز

یوکرین ہتھیار بھیجنے سے برطانوی فوج کمزور

?️ 5 فروری 2023سچ خبریں:اپنے تمام بھاری ہتھیار یوکرین کے حوالے کرنے کے بعد، برطانیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے