فلسطینی حامیوں کو یورپ میں کیسے محدود کیا گیا؟

یورپ

?️

فلسطینی حامیوں کو یورپ میں کیسے محدود کیا گیا؟

گزشتہ ایک سال کے دوران یورپ بھر میں فلسطینی عوام کے حق میں اٹھنے والی آوازوں کو سخت پابندیوں، گرفتاریوں اور قانونی دباؤ کا سامنا رہا۔ اٹلی، فرانس، جرمنی اور برطانیہ میں ہونے والے واقعات نے آزادیِ اظہار اور شہری یکجہتی کے حوالے سے مغربی دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یورپی دارالحکومتوں میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کے باوجود، متعدد حکومتوں نے فلسطین کی حمایت کو “دہشت گردی کی تشہیر یا نتہاپسندی سے جوڑ کر کریک ڈاؤن کیا۔ ناقدین کے مطابق، یہ اقدامات دراصل غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر بڑھتی ہوئی عوامی تنقید کو دبانے کی کوشش ہیں۔

اٹلی میں پولیس نے حال ہی میں چند افراد کو فلسطینی تنظیم حماس کے لیے رقوم فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ حکام کے مطابق، مبینہ طور پر لاکھوں یورو غزہ میں سرگرم اداروں کو منتقل کیے گئے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات شفاف عدالتی عمل کے بغیر لگائے جا رہے ہیں، جس سے خیراتی اور انسانی سرگرمیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

فرانس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فلسطین کے حق میں اجتماعات اور پروگراموں پر پابندیوں پر شدید تنقید کی ہے۔ تنظیم کے مطابق، غزہ سے یکجہتی کے لیے منعقد ہونے والے کئی پروگرام منسوخ کیے گئے اور شرکاء کو “دہشت گردی کی تشہیر” جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ حقوقِ انسانی حلقوں نے ان اقدامات کو جائز سیاسی مکالمے کو دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

جرمنی میں اسرائیل۔غزہ جنگ کے بعد فلسطین حامی مظاہروں پر سخت کریک ڈاؤن دیکھنے میں آیا۔ برلن سمیت مختلف شہروں میں طلبہ کے احتجاجی کیمپ پولیس نے زبردستی ختم کیے، درجنوں طلبہ کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو دہشت گردی کی حمایت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ صحافیوں اور مبصرین نے پولیس تشدد اور جامعات میں آزادیِ اظہار کو لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

برطانیہ میں حکومت نے فلسطین حامی مظاہروں کے خلاف قوانین مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا۔ وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے پولیس اختیارات بڑھانے اور “اشتعال انگیز نعروں” پر قدغن کی حمایت کی۔ اس کے ساتھ ہی، بعض فلسطین حامی تنظیموں کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت فہرست میں شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے اراکین کو طویل سزاؤں کا خطرہ لاحق ہو گیا۔ مزید برآں، دو معروف فلسطین حامی تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس غیر معینہ مدت کے لیے منجمد کر دیے گئے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس (FIDH) کے مطابق، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکا میں اینٹی ٹیررازم اور یہود دشمنی کے قوانین کو فلسطین حامی تحریکوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ یہ رجحان اختلافی آوازوں کے خلاف “غیر معمولی اقدامات” کو معمول بنانے کے مترادف ہے۔

ان اقدامات کے باوجود، یورپ بھر میں طلبہ تحریکیں، امن گروہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے لیے انصاف کا مطالبہ جرم نہیں، اور آزادیِ اظہار پر قدغنیں دراصل غزہ میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ مبصرین کے مطابق، یورپ میں فلسطین حامیوں کے خلاف یہ کریک ڈاؤن مغرب کے جمہوری اور انسانی حقوق کے دعوؤں کے ساتھ ایک واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی وزیر اعظم کا ایران کے بارے میں مغربی ممالک کو مضحکہ خیز مشورہ!

?️ 29 دسمبر 2021سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کل اسرائیلی فوج کے ریڈیو

نیتن یاہو کے لیے اسرائیل کے اندر ایک اور درد سر

?️ 30 اکتوبر 2023سچ خبریں: ایک طرف نیتن یاہو کی کابینہ نے جمعہ کی رات

اکثر فلسطینی خلعِ سلاح کی شدید مخالفت کرتے ہیں

?️ 30 اکتوبر 2025اکثر فلسطینی خلعِ سلاح کی شدید مخالفت کرتے ہیں  ایک تازہ سروے

طوفان الاقصی کے بعد صیہونیوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے منصوبے کا کیا ہوگا؟

?️ 18 اکتوبر 2023سچ خبریں: آیت اللہ خامنہ ای کا جملہ کہ صیہونی حکومت جانے

یمن پر حملے کے بعد نیتن یاہو کی بکواس

?️ 11 ستمبر 2025سچ خبریں: اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے یمن میں غیرعسکری

ایران کے خلاف حملے بند نہ کرنے پر امریکی سنیٹر کی ٹرمپ کو دھمکی

?️ 29 جون 2026سچ خبریں: امریکی کانگریس کی ڈیموکریٹک نمائندہ رو خانا نے ٹرمپ انتظامیہ کی

بھارتی فوج کے زیرِ حراست 4 کشمیری شہید، پونچھ کمیونٹی کی برہنہ احتجاجی پریس کانفرنس

?️ 30 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں تعینات مودی سرکار کے وردی

ایتھوپیا نے ایریٹیریا پر جنگ کی تیاری کا الزام عائد کر دیا

?️ 8 اکتوبر 2025ایتھوپیا نے ایریٹیریا پر جنگ کی تیاری کا الزام عائد کر دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے