فرانس میں اسلام دشمنی کے خلاف مظاہرہ

اسلام دشمنی

?️

سچ خبریں:فرانسیسی شہریوں نےاس ملک میں اسلام دشمنی میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی آج کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فرانسیسی شہریوں نےاس ملک میں مذہبی آزادی پر پابندیوں کے خلاف منصوبے پر احتجاج کیا، اس منصوبے کے تحت فرانسیسی حکومت ایک ایسا قانون نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے تحت مسلمانوں کو مشتبہ افراد قرار دے کر ان پر پابندی لگانے اور کچھ مذہبی آزادیوں کو محدود کرنا ہے، فرانسیسی قانون سازوں نے گذشتہ منگل کو اس بل کو پیش کیا تھا اور امید کی جارہی ہے کہ دونوں پارلیمنٹ اس کو منظوری دے دیں گی۔

واضح رہے کہ ایمانوئل میکرون کی سربراہی میں موجودہ فرانسیسی حکومت نے اپنے مؤقف پر استدلال کیا ہے کہ یہ قانون ضروری ہے اور یہ صنفی مساوات اور سیکولرازم کے لئے فرانس کی اقدار کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، تاہم مظاہرین ان الزامات کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ استدلال کرتے ہیں کہ فرانس کے پاس پہلے ہی ایسے قانونی آلات موجود ہیں ،مزید قونین صرف مذہبی پابندیوں کا سبب ہی بنیں گے، کچھ لوگ آئندہ سال کے دور صدارت میں قدامت پسند ووٹرز کو اکٹھا کرنے کے لئے میکرون کے اس قانون کو ایک چال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یادرہے کہ پیرس کے مضافات میں مظاہرین نے فرانسیسی تاریخ کے ایک استاد کے سر قلم کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے ، صحافیوں کو بتایا کہ ایک واقعہ کی وجہ سے سب کو ایک نظر سے دیکھنا کہاں کا انصاف ہے،واضح رہے کہ آج کے مظاہرے میں تقریبا 150 مسلمان اور غیر مسلم نے حصہ لیا۔

یادرہے کہ رواں سال نومبر میں فرانسیسی میڈیا نے پیرس شہر میں سرد ہتھیار سے حملے کی اطلاع دی تھی جس میں چاقو کے وار سے مارا جانے والا شخص تاریخ کا استاد تھا جس نے پیغمبر اکرم ؐ کی توہین کی اور کلاس میں ان کے کارٹون بنائے، واقعے کا ملزم ایک 18 سالہ چیچن نوجوان تھا جس کا تعلق انتہا پسند گروپوں سے تھا جسے پولیس نے ہلاک کردیا، پیرس میں ایک استاد کے قتل کے تناظر میں میکرون نے اسلام کو پوری دنیا میں بحران کا شکار مذہب قرار دیتے ہوئے بے بنیاد بیانات دیئے تھے اور کہا تھا کہ ان کی حکومت سخت سیکولر پالیسیاں اپنائے گی۔

وسیع پیمانے پر مذمت کے باوجود ، فرانسیسی صدر پہلے بھی اپنے خوفناک بیانات کو دہرا چکے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں میکرون کے تبصرے پر اسلامی ممالک کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا جس میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے۔

مشہور خبریں۔

حماس کا جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے مین منصوبہ کیا ہے؟

?️ 15 مارچ 2024سچ خبریں:خبر رساں ادارے روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی

یورپی یونین کی غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کی مذمت

?️ 3 فروری 2026یورپی یونین کی غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی

ریاض بڑے پیمانے پر بیجنگ کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں: بلومبرگ

?️ 16 جون 2023سچ خبریں:امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ریاض کی جانب سے عرب

انتہائی مطلوب بھارتی گینگسٹر کی سلمان خان کو دھمکی

?️ 27 جون 2023سچ خبریں: کینیڈا میں مقیم بھارت کو انتہائی مطلوب گینگسٹر گولڈی برار

مزاحمتی تحریک کی کامیابی پر غزہ اور مغربی پٹی میں جشن

?️ 21 مئی 2021سچ خبریں:حماس اور عزالدین القسام بریگیڈ نے غزہ کے رہائشیوں سے مطالبہ

برطانیہ میں پولیس کے اختیارات میں اضافے کے خلاف ایک بار پھر شدید مظاہرے شروع ہوگئے

?️ 3 مئی 2021لندن (سچ خبریں) برطانیہ میں پولیس کے اختیارات میں اضافے کے خلاف

اسرائیلی فوج کامیابی کے بغیر غزہ چھوڑنے پر مجبور ہوگی: برگمین

?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں:تجزیہ کار رونین برگمین روزنامہ یدیعوت احرونوت میں لکھتے ہیں کہ

سائفر کیس: عمران خان، شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی 23 اکتوبر تک ملتوی

?️ 17 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت قائم خصوصی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے