غزہ میں قحط کا باضابطہ اعلان سے اسرائیل کو سنگین نتائج کا سامنا

بھوک

?️

غزہ میں قحط کا باضابطہ اعلان سے اسرائیل کو سنگین نتائج کا سامنا
 نوارِ غزہ میں قحط کے باضابطہ اعلان نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ایک نئے قانونی باب کو کھول دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی زیرِنگرانی کام کرنے والے ادارے آئی پی سی نے تصدیق کی ہے کہ شہرِ غزہ، جہاں تقریباً پانچ لاکھ افراد مقیم ہیں، قحط کا شکار ہو چکا ہے۔
یہ اعلان نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ قانونی طور پر ایک سنگین جنگی جرم بھی شمار ہوتا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین قانون کے مطابق، شہریوں کو دانستہ بھوک اور محاصرے کے ذریعے مارنا، اساسنامہ روم اور کنونشن جنیوا کے تحت جنایتِ جنگی قرار دیا گیا ہے۔
غزہ کے معصوم بچے محاصرے کے باعث ایک گھونٹ پانی اور نوالے کے لیے ترس رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں  ڈبلیو ایف پی، ڈبلیو ایچ او، یونیسف اور ایف اے او — نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی نہ دی گئی تو بھوک مزید زندگیاں نگل لے گی۔
بین الاقوامی قانون کے مطابق، اگرچہ اسرائیل نے 2005 میں اپنی فوج غزہ سے نکال لی تھی، لیکن سرحدوں، گذرگاہوں اور وسائل پر کنٹرول کی وجہ سے اب بھی وہ غزہ کا قابض قوت ہے۔ جنیوا کنونشن 1949 کے تحت، قابض قوت پر لازم ہے کہ خوراک اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائے، ورنہ یہ دانستہ نسل کشی کے مترادف ہوگا۔
مصری ماہرِ قانون، ڈاکٹر ایمن سلامہ کے مطابق:قحط کا اعلان صرف ایک انسانی انتباہ نہیں بلکہ ایک غیرقابلِ انکار قانونی دستاویز ہے۔اس اعلان کے بعد عالمی فوجداری عدالت (ICC) پر لازم ہے کہ اسرائیلی حکام کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرے۔سلامتی کونسل کو بھی باب ہفتم کے تحت اقتصادی و سیاسی پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔
رکن ممالک پر لازم ہے کہ اسرائیل کو ہتھیار اور لاجسٹک سپورٹ دینا بند کریں۔کنونشن برائے انسداد نسل کشی (1948) کے مطابق، اگر ممالک خاموش رہے یا عملی قدم نہ اٹھایا تو یہ شراکت در جرم شمار ہوگا، نہ کہ غیر جانب داری۔
سلامہ نے کہا کہ غزہ میں قحط کا اعلان اسرائیل کے لیے قانونی محاصرے کا آغاز ہے۔ جیسے اس نے غزہ کو محاصرے میں لیا، اب خود عالمی قوانین کے محاصرے میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ لمحہ بین الاقوامی قانون کے لیے امتحان ہے۔ اگر عالمی برادری عملی اقدامات نہ کرے تو انسانی حقوق کے قوانین محض "کھوکھلے الفاظ” بن کر رہ جائیں گے۔

مشہور خبریں۔

زیلنسکی کی حکومت میں 100 بلین ڈالر کا ممکنہ غبن

?️ 2 دسمبر 2025 زیلنسکی کی حکومت میں 100 بلین ڈالر کا ممکنہ غبن یوکرین

بھارت افغانستان سے پاکستان کے خلاف ’کم شدت کی جنگ‘ لڑ رہا ہے، وزیرِ دفاع

?️ 30 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ

عرب اور اسلامی رہنماؤں نے فلسطینی پناہ گزینوں کی غزہ واپسی پر زور دیا

?️ 26 ستمبر 2025عرب اور اسلامی رہنماؤں نے فلسطینی پناہ گزینوں کی غزہ واپسی پر

اسرائیلی منظر نامے کی تکرار؛ UNIFIL کے لیے تل ابیب کا خواب

?️ 30 نومبر 2025سچ خبریں: صیہونی ریڈیو کے مطابق، تل ابیو اس بات پر فکرمند

امریکی سینیٹر ٹرمپ کے ساتھ تنازع کے بعد انتخابات سے دستبردار ہو گئے

?️ 30 جون 2025سچ خبریں: امریکی ریپبلکن سینیٹر ٹام ٹِلس ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلاف کے

پنڈورا پیپرز کےمعاملے پر وزیر اعظم نے اجلاس طلب کرلیا

?️ 4 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے پنڈورا پیپرز کے

مغربی پابندیوں نے خوراک کی عالمی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے: مدودف

?️ 3 جون 2022سچ خبریں:  قطر کے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے

امریکی رائے عامہ میں صیہونی بیانیہ کی ناکامی

?️ 1 اپریل 2025سچ خبریں: حالیہ مطالعات اور قابل اعتماد سروے فلسطین اور صیہونی حکومت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے