غزہ میں صہیونیوں کے جرائم کے خلاف آسٹریلیا کی گرین پارٹی کا اعتراض

غزہ

?️

سچ خبریں: غزہ میں ہونے والے ہولناک انسانی جرائم میں بچوں کو قتل کرنے والی صیہونی حکومت کی رسوائی کے ساتھ اب دنیا کے چاروں کونوں پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ فلسطین اب کوئی اندرونی مسئلہ نہیں رہا ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم کی تاب مغرب سے مشرق اور اس سے شمال تک تمام لوگوں اور یہاں تک کہ دنیا کے سیاست دانوں کے ردعمل نے شمال سے جنوب تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

اس سلسلے میں جمعے کے روز ایک امریکی اشاعت نے اطلاع دی ہے کہ اب صیہونیت مخالف لہر کی آواز نہ صرف مسلم ممالک میں زندہ اور اچھی ہے بلکہ اب یہ لہر ایک قریبی سیاسی اتحادی تک بھی پھیل چکی ہے لیکن اس حکومت سے بہت دور ہے۔ .

اس سلسلے میں آسٹریلیا میں گرین پارٹی جو کہ اس ملک کی تیسری بڑی جماعت ہے، نے صیہونی حکومت کے خلاف پابندیوں اور دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

امریکی آن لائن اشاعت دی ایج نے جمعرات کے روز اپنی ایک رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ صیہونی غاصب حکومت کے ساتھ آسٹریلیا کی کئی دہائیوں کی ملی بھگت اور ملی بھگت کے بعد پہلی بار اب آسٹریلوی لیبر پارٹی کے ایک سینیٹر نے اس کی مالی امداد اور حمایت بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ملک کی حکمران جماعت صیہونی حکومت کے پاس ہے۔

امریکی اشاعت نے غزہ میں نسل کشی اور تل ابیب حکومت کی نسل پرستانہ حکومت کو صیہونیوں کے خلاف احتجاج میں آسٹریلیا کے سیاسی حلقوں اور رائے عامہ میں تصادم اور تناؤ کا ایک سبب قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تل ابیب کے خوفناک جرائم کے خلاف عام شہری اب پارلیمنٹ میں کشیدگی کی جگہ بنے ہوئے ہیں اور ان جرائم کا بھیس بدل کر احتجاج کیا گیا ہے۔

امریکی ویب سائٹ کے مطابق غزہ میں اس حکومت کے جرائم نے آسٹریلوی پارلیمنٹ کے ارکان کی آواز بھی بلند کر دی ہے، تا کہ تل ابیب میں اس ملک کی پارلیمنٹ کی گرین پارٹی کے رہنما ایڈم بنڈٹ نے غزہ میں غزہ کے جرائم پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ غزہ کے لوگوں کے خلاف غذائی قلت اور جان بوجھ کر بھوک

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جرائم کا تسلسل اور فلسطینی قوم اس وقت جس المناک اور المناک صورتحال سے دوچار ہے، اس نے آسٹریلوی معاشرے کے مختلف شعبوں کو کئی دھڑوں میں دھکیل دیا ہے اور اس ملک کے سیاست دانوں کو ایک دوسرے سے دوچار کر دیا ہے۔ مشکل پوزیشن، کیونکہ ایک طرف اس ملک کے حکمرانوں کے تل ابیب کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، اور دوسری طرف غزہ کا انسانی بحران ان کے لیے رائے عامہ کے سامنے ایک کڑا امتحان بن گیا ہے، اور آسٹریلوی حکام اس کا علاج کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل ہمیشہ غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان جدائی کی تلاش میں کیوں رہتا ہے؟

?️ 15 اکتوبر 2023سچ خبریں:سنہ 2005 میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں اس کی آزادی

پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان

?️ 11 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ

ایران کے مقابلہ میں امریکہ ناکام ہو چکا ہے:امریکی سینٹر

?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:امریکی سینٹر نے ایران کے مقابلہ میں امریکہ کی شکست کا

سویڈن میں قرآن پاک کی توہین کا سلسلہ جاری

?️ 19 اگست 2023سچ خبریں:سویڈش حکام نے شرمناک حرکت کرتے ہوئے مسلسل 15ویں بار اس

پوسٹروں میں کشمیریوں سے 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی اپیل

?️ 20 اکتوبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں

مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ سامنے آگیا، 54 نکات شامل

?️ 16 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) مجوزہ آئینی ترمیمی بل کا مسودہ سامنے آگیا

صیہونی فوج کے خلاف حزب اللہ کا حالیہ ڈرون حملہ کیسا تھا؟صیہونی اخبار کا اعتراف

?️ 15 اکتوبر 2024سچ خبریں: صہیونی اخبار نے حزب اللہ کے ڈرون حملے کے بعد

وزیراعظم سے چینی سرکاری کمپنی نورینکو کے وفد کی ملاقات

?️ 30 جون 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہبازشریف سے چینی سرکاری کمپنی نورینکو کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے