?️
سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں مزاحمتی سکیورٹی فورسز، جو رادع کے نام سے معروف ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ خان یونس اور غزہ شہر میں دو الگ الگ کمینوں کے دوران صہیونی ریجیم کے مزدور گروہوں کے متعدد ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، خان یونس میں پیش آنے والی جھڑپ کے نتیجے میں مزدور گروہ کے ارکان پسپا ہو گئے اور موقع پر اپنے ہتھیار اور فوجی سازوسامان چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ اسی طرح غزہ شہر میں ایک اور کمین کے دوران ایک دہشت گرد سیل کا فوجی سازوسامان مزاحمتی فورسز کے قبضے میں آ گیا۔
رادع نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ مختلف علاقوں میں ان مزدور گروہوں کی تعاقب اور مکمل خاتمے کی کارروائیاں جاری رہیں گی، اور یہ کہ پیچیدہ زمینی حالات کے باوجود فیلڈ آپریشنز میں کوئی تعطل نہیں آئے گا۔ حماس نے اس موقع پر عوامی حمایت کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صہیونیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو مسترد کیا جاتا ہے جو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔
اس سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آ چکی تھیں کہ صہیونی ریجیم غزہ میں حماس کے خلاف سرگرم چار نیم فوجی گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ یہ گروہ ایک مشترکہ منصوبے کے تحت حماس کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور صہیونی کنٹرول والے علاقوں میں لو لائن کے پیچھے سرگرم ہیں۔
ان میں سے ایک نیم فوجی گروہ کے کمانڈر حسام الاسطل نے اس سے قبل اسکائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ان گروہوں کے اہداف بے نقاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا ایک باقاعدہ منصوبہ ہے — میں، یاسر ابوشباب، رامی حلس اور اشرف المنسی — ہم سب ایک نئے غزہ کے قیام کے خواہاں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ حماس نے گزشتہ دسمبر میں اعلان کیا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے نیم فوجی گروہ کے سربراہ یاسر ابوشباب ہلاک ہو چکے ہیں۔
صہیونی ریجیم اپنے ہی مزدوروں کو بمباری کا نشانہ بنا رہا ہے
دوسری جانب، مزاحمتی سکیورٹی ذرائع کی انکشافات کے مطابق صہیونیریجیممعلومات کے افشا ہونے سے بچنے کے لیے اپنے ہی جاسوسوں اور مزدوروں پر بمباری کر رہا ہے۔
فلسطینی مزاحمتی سکیورٹی ادارے کے ایک ذمہ دار اہلکار نے بتایا کہ صہیونی فوج کے حالیہ حملوں میں جان بوجھ کر ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جہاں صہیونی جاسوسوں اور مزدوروں کو حراست میں رکھا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نشانہ بننے والوں میں وہ مزدور گروہ بھی شامل تھے جنہیں حالیہ کارروائیوں کے دوران مزاحمتی سکیورٹی فورسز نے شناخت کر کے گرفتار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، جاسوسوں کی حراستی جگہوں پر بمباری کوئی اتفاقی عمل نہیں بلکہ ایک منظم اور طویل المدتی سکیورٹی پالیسی کا حصہ ہے، جس پر صہیونیریجیمنے غزہ پر جارحیت کے آغاز سے ہی عمل شروع کر رکھا ہے۔ ان حملوں کا بنیادی مقصد گرفتار شدہ مزدوروں کو جسمانی طور پر ختم کرنا ہے تاکہ وہ اعترافات نہ کر سکیں اور صہیونی جاسوسی نیٹ ورکس اور فوجی عملی طریقۂ کار بے نقاب نہ ہو سکیں۔
سکیورٹی اہلکار نے مزید بتایا کہ فلسطینی مزاحمت حالیہ دنوں میں کئی پیچیدہ منصوبوں کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، جو صہیونی وابستہ گروہوں نے ترتیب دیے تھے۔ ان انٹیلیجنس کامیابیوں کے بعد متعدد عناصر گرفتار ہوئے، تاہم صہیونی فوج نے ان کی حراستی جگہوں کو نشانہ بنا کر بعض کو قتل کر دیا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
غزہ میں فوری جنگ بندی
?️ 16 نومبر 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق مالٹا کی جانب سے
نومبر
حماس کے راکٹ حملوں سے امریکی رہنما فرار
?️ 16 اکتوبر 2023سچ خبریں:امریکی سینیٹ کی اکثریت کے رہنما چک شومر، جنہوں نے ڈیموکریٹک
اکتوبر
مزاحمتی تحریک کے میزائلوں کے بارے میں ان کہی باتیں؛ حزب اللہ کے فیلڈ کمانڈر کی زبانی
?️ 27 فروری 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے اینٹی آرمر میزائل یونٹ کے کمانڈر اور
فروری
بی ایف بائیو سائنسز کے شیئرزکی بولی آج سے شروع گی‘کمپنی حصص سے 1.93 بلین جمع کرنے کا تخمینہ رکھتی ہے. ترجمان
?️ 25 ستمبر 2024کراچی: (سچ خبریں) بی ایف بائیو سائنسز کے آئی پی او کا
ستمبر
لاپتا افراد کمیشن بوجھ بن چکا ہے:جسٹس اطہر من اللہ
?️ 24 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)اسلام آباد ہائی کورٹ نے آبزرویشن دی ہے کہ جسٹس
جون
لبنانی پارلیمنٹ ممبر کا امریکہ پر ملکی معاملات میں مداخلت کا الزم
?️ 14 اپریل 2025 سچ خبریں:لبنان کے ایک معروف رکن پارلیمنٹ اور حزب اللہ کے
اپریل
غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم پر ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ
?️ 4 اپریل 2024سچ خبریں: ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ میں یہ کہتے ہوئے
اپریل
حماس ایک لافانی خیال
?️ 9 نومبر 2023سچ خبریں:بدھ کی شام ایک تقریر میں اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی
نومبر