غزہ بحران پر لندن کو خاموشی مہنگی پڑنے لگی، اسٹیمر حکومت دباؤ میں

لندن

?️

غزہ بحران پر لندن کو خاموشی مہنگی پڑنے لگی، اسٹیمر حکومت دباؤ میں
برطانوی وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ کے نجی پیغامات منظرِ عام پر آنے کے بعد، جن میں انہوں نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو ممکنہ جنگی جرائم قرار دیا تھا، وزیر اعظم کیئر اسٹیمر کی حکومت پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہاؤس آف کامنز کے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیر صحت کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے کہ اگر وہ نجی طور پر اسرائیل کی کارروائیوں کو جنگی جرائم سمجھتے ہیں تو پھر وہ ایسی کابینہ کا حصہ کیوں ہیں جو اسرائیل کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اراکین نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا وہ برطانیہ کے ممکنہ کردار کی تحقیقات کے سلسلے میں عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) سے تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
چند روز قبل اسٹریٹنگ نے ایک تنازع کے دوران، جو سابق برطانوی سفیر پیٹر مینڈلسن سے متعلق دستاویزات کے افشا ہونے پر پیدا ہوا، اپنی کچھ نجی پیغامات اور خط و کتابت جاری کی تھی۔ اس اقدام پر کابینہ کے بعض ارکان اور لندن پولیس نے ناراضی کا اظہار کیا اور اسے باضابطہ جانچ کے عمل سے ہٹ کر یکطرفہ قدم قرار دیا۔ بعد ازاں دیگر وزراء کو بھی متنبہ کیا گیا کہ وہ اس طرز عمل سے گریز کریں۔
ارکانِ پارلیمنٹ کے خط میں اسٹریٹنگ کے ایک نجی پیغام کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اسرائیل “ہماری آنکھوں کے سامنے جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے” اور انہوں نے ان برطانوی ڈاکٹروں سے ملاقات کا ذکر کیا تھا جو غزہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور جنہوں نے خواتین اور بچوں کے خلاف شدید تشدد کے مناظر بیان کیے۔
مبصرین کے مطابق نجی بیانات اور سرکاری مؤقف کے درمیان یہ تضاد حکومت کے لیے مشکل صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت سرکاری بیانات میں انسانی ہمدردی کی بات تو کرتی ہے، مگر قانونی اور سیاسی ذمہ داری کے تعین سے گریز کرتی ہے۔ ان کے بقول اگر باضابطہ طور پر جنگی جرائم کا اعتراف کیا جائے تو اس کے برطانیہ کی پالیسیوں اور حمایت کے حوالے سے قانونی مضمرات ہو سکتے ہیں۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق لیبر رہنما جیریمی کوربن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تاریخ ان عہدیداروں کا احتساب کرے گی جو بحران کو روکنے کی پوزیشن میں ہونے کے باوجود خاموش رہے۔ خط میں وزیر صحت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ واضح کریں آیا وہ ممکنہ بین الاقوامی تحقیقات میں تعاون کریں گے یا نہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسٹیمر حکومت غزہ سے متعلق سیاسی اور قانونی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ اندرونی سطح پر بھی اختلافات اور مزید دستاویزات کے سامنے آنے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب برطانیہ دیگر عالمی تنازعات، جیسے یوکرین، پر سخت مؤقف اختیار کرتا ہے لیکن غزہ کے معاملے میں محتاط بیانات تک محدود رہتا ہے تو یہ دوہرا معیار محسوس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جیسے جیسے غزہ میں انسانی صورتحال سے متعلق رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، مغربی حکومتوں کی خاموشی کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

ہجرت اور معیشت کے جال میں پھنسا یورپ

?️ 16 مارچ 2024سچ خبریں: گذشتہ سال میں یوکرین کے بحران نے یورپ کو ہلا

عبرانی میڈیا نے غزہ پر صہیونی یلغار کو اندھوں کی جنگ قرار دیا

?️ 5 ستمبر 2025عبرانی میڈیا نے غزہ پر صہیونی یلغار کو اندھوں کی جنگ قرار

پاکستان کا دوسرا سی ون تھرٹی طیارہ امداد لیکر قندھار روانہ

?️ 10 ستمبر 2021اسلام آباد/کابل (سچ خبریں) افغان عوام کی امداد کے پیش نظر پاکستان

عرب اور اسلامی ممالک نیتن یاہو کے استکبار کے سامنے کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟؟

?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: لبنان کے ایک تجزیہ کار نے اس بات پر تعجب

سائبر کرائم ایجنسی کا اسلام آباد میں غیرقانونی کال سینٹر پر چھاپہ، 5 غیرملکی باشندے گرفتار

?️ 14 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی

پی ٹی آئی کے محسن لغاری راجن پور کے ضمنی انتخاب میں کامیاب

?️ 27 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے محسن لغاری

عمران خان کے بیٹوں سے متعلق رانا ثناء اللہ کی گفتگو پر جمائمہ بھی بول پڑیں

?️ 10 جولائی 2025لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان کے

اکتوبر میں پاکستان سب سے کم انٹرنیٹ رفتار والے ملکوں میں شامل رہا، اسپیڈ ٹیسٹ گلوبل انڈیکس

?️ 10 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اوکلا کے اسپیڈ ٹیسٹ گلوبل انڈیکس کے اعداد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے