?️
غزہ امن منصوبہ دراصل ایک اسرائیلی منصوبہ ہے
عالمی شہرت یافتہ فلسطینی تجزیہ کار اور روزنامہ رای الیوم کے مدیر اعلیٰ عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا غزہ امن منصوبہ دراصل ایک اسرائیلی منصوبہ ہے، جس کا مقصد فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کو ختم کرنا ہے، تاہم حماس اور دیگر گروہ ہرگز اس جال میں نہیں پھنسیں گے۔
عطوان نے اپنی تازہ تحریر میں لکھا کہ ٹرمپ کے نام سے جاری کیے گئے جعلی امن منصوبے کا اصل جواب یمن نے دیا، جب انصاراللہ نے خلیج عدن میں ایک ڈچ بحری جہاز کو نشانہ بنایا اور اس طرح امریکہ کو واضح پیغام بھیج دیا کہ کوئی بھی معاہدہ یا فریب قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ انصاراللہ نے دراصل امریکہ کے ساتھ فائر بندی کو منسوخ کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب خطے میں موجود امریکی جنگی بحری جہاز، ایئرکرافٹ کیریئرز اور بڑی کمپنیوں کے جہاز یمنی میزائلوں اور ڈرونز کے نشانے پر ہیں۔ یہ پیشرفت نہ صرف غزہ کی مزاحمت کے لیے سہارا ہے بلکہ امریکہ و اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی عملی صورت بھی ہے۔
عطوان کے مطابق، قطر، مصر اور ترکی کی ثالثی ٹیمیں حماس پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ ٹرمپ کے منصوبے کو قبول کرے، لیکن یمن نے میدان میں آ کر اس سازش کو ناکام بنانے کی سمت قدم بڑھایا ہے۔ انصاراللہ کے حملوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مزاحمتی محاذ متحد ہے اور صرف بیانات پر نہیں بلکہ عمل سے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
فلسطینی تجزیہ کار نے لکھا یہ منصوبہ اسرائیل نے تیار کیا ہے اور ٹرمپ جیسے بے وقوف صدر کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے تاکہ غزہ میں مزاحمت کو ختم کیا جا سکے، خصوصاً القسام بریگیڈ اور سرایا القدس کو۔ لیکن حماس کبھی بھی اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور نہ ہی غزہ کو خالی کرے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے اس منصوبے کو مان لیا تو خلعِ سلاح کے بعد تمام وعدے دھوکہ ثابت ہوں گے اور غزہ کے عوام کو بوسنیا کی طرح بڑے پیمانے پر آوارگی اور نسل کشی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
عطوان نے یمن کے کردار کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی ایئرکرافٹ کیریئرز کو یمنی میزائلوں نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج صرف یمن ہی ایسا ملک ہے جو امریکہ جیسی سپر پاور کو چیلنج کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس اور فلسطینی مزاحمتی گروہ بارہا امریکی دھوکے کو بے نقاب کر چکے ہیں اور اب بھی اس فریب کار منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔ آئندہ ہفتے حماس "طوفان الاقصیٰ” آپریشن کی دوسری سالگرہ منائے گی، جو فلسطین کی تاریخ کی سب سے بڑی مزاحمتی کارروائی تھی۔
عطوان نے آخر میں واضح کیا کہ حقیقی امن صرف اسی وقت قائم ہوگا جب غزہ میں نسل کشی اور محاصرہ فوری ختم کیا جائے،مجرموں کو عالمی عدالت میں سزا دی جائے،غزہ کی تعمیر نو کے تمام اخراجات اسرائیل اور اس کے حامی ادا کریں،اور ایک آزاد و متحد فلسطینی ریاست قائم کی جائے جو پورے تاریخی فلسطین پر مشتمل ہو۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
سابق صیہونی وزیر اعظم کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک
?️ 18 دسمبر 2025 سابق صیہونی وزیر اعظم کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس
دسمبر
پشاور میں دفعہ 144 نافذ؛ ہوائی فائرنگ، ڈرون اور پتنگ اڑانے پر پابندی
?️ 24 مئی 2025پشاور (سچ خبریں) ڈپٹی کمشنر پشاور نے فلائٹ سیفٹی کو یقینی بنانے
مئی
تاجر برادری کا بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کا خیر مقدم
?️ 3 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری
اپریل
پی ٹی آئی کا 21 ستمبر کو لاہور میں ہر صورت جلسہ کرنے کا اعلان
?️ 18 ستمبر 2024پشاور: (سچ خبریں) پی ٹی آئی نے 21 ستمبر کو لاہور میں ہر صورت جلسہ کرنے
ستمبر
حماس کے پاس جنگ جاری رکھنے کے لیے باقاعدہ حکمت عملی
?️ 23 دسمبر 2023سچ خبریں:صیہونی غزہ جنگ میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کے
دسمبر
فٹبال ورلڈ کپ کے ٹنیٹوں میں ایک رات گزارنے کی قیمت
?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:قطر میں2022 کے فٹ بال ورلڈ کپ میں فیفا کے پرتعیش
اگست
فضائی آلودگی سے ذہنی صحت پر اثرات سے متعلق اہم تحقیق
?️ 23 دسمبر 2021لندن (سچ خبریں)فضائی آلودگی سے ذہنی صحت پر اثرات سے متعلق اہم
دسمبر
حکومت نے 10 نومبر کو عام انتخابات کرانے کی پلاننگ کرلی
?️ 10 جون 2023گوجرانوالہ: (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے رہنماء اور وفاقی وزیر برائے
جون