عراق کے پارلیمانی انتخابات مستقبل کی علاقائی کشیدگی میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے

عراق

?️

عراق کے پارلیمانی انتخابات مستقبل کی علاقائی کشیدگی میں فیصلہ کن ثابت ہوں گے
عراق میں پارلیمانی انتخابات کے آغاز کے ساتھ ہی اسرائیلی مرکز برائے مطالعاتِ امنیتِ قومی کے ایک سینئر محقق نے انتخابات کے نتائج کو خطے کی آئندہ کشیدگیوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا ہے۔ اسرائیلی روزنامہ یدیعوت آحارانوت کے مطابق محقق دانی سیترینوویچ نے خبردار کیا کہ عراق کی سیاسی تشکیل میں آنے والی تبدیلیاں مستقبل میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ممکنہ تناؤ پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔
سیترینوویچ، جو پہلے اسرائیلی فوج کی ملٹری انٹیلیجنس میں ایران desk کے سربراہ رہ چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ انتخابات کے نتائج ‘‘الحشد الشعبی’’ (عراقی عوامی رضاکار فورس) کے سیاسی اثرورسوخ کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے قریب سمجھے جانے والے گروہ بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں تو یہ پورے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران انتخابات کے ذریعے عراق میں اپنا سیاسی نفوذ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ کسی ممکنہ علاقائی تصادم کی صورت میں الحشد الشعبی اسرائیل کے خلاف اس کے مفادات کی حفاظت کر سکے۔ ان کے مطابق، اگر یہ گروہ پارلیمان میں نمایاں حیثیت حاصل کرتا ہے تو نئی حکومت اور وزیراعظم کے انتخاب پر ان کا اثر مزید بڑھ جائے گا۔
ادھر تہران نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عراق کے معاملات میں ایران کی کوئی مداخلت نہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ عراق کا انتخابی عمل مکمل طور پر داخلی معاملہ ہے اور ایران اس کے نتائج کا احترام کرے گا۔
اسرائیلی محقق نے مزید کہا کہ نئے عراقی پارلیمان کی تشکیل اس لیے بھی اہم ہے کہ بغداد کو مستقبل میں الحشد الشعبی کے کردار اور اسرائیل–ایران تنازع کے ممکنہ منظرنامے میں اپنی پالیسی کا تعین کرنا ہوگا۔ انہوں نے عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی کی اس کوشش کو بھی اہم قرار دیا کہ وہ ایک طرف امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہیں جبکہ دوسری جانب الحشد الشعبی کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ مقتدیٰ الصدر کے انتخابی عمل سے بائیکاٹ اور ان کے لاکھوں حامیوں کے ممکنہ غیرمتحرک رہنے سے سیاسی خلا پیدا ہوسکتا ہے جس سے ایران کے قریب گروہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی بغداد میں ایک سنی امیدوار صفا المشہدی کی ہلاکت کو بھی انتخابی فضا میں غیرمعمولی واقعہ قرار دیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا نے حالیہ دنوں میں خطے کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے نئے خدشات ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران عراق میں مزاحمتی گروہوں کو مسلح کر رہا ہے۔ تاہم عراق اور ایران دونوں نے ایسے دعوؤں کو سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

یسرائیل کاتس اور ایال زامیر کے درمیان کشیدگی  کیوں بڑھ رہی ہے؟

?️ 27 نومبر 2025سچ خبریں: صیہونی اخبارمعاریو نے آج ایک رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل کے

صہیونی مظاہرے وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے ایوانوں تک پہنچے

?️ 7 جولائی 2024سچ خبریں: ایک گھنٹہ قبل شروع ہونے والے مقبوضہ علاقوں میں مظاہرین

طالبان کے ساتھ صلح کرنے اور طاقت کی شراکت کے لیے تیار ہیں: افغان وزیر خارجہ

?️ 3 اگست 2021سچ خبریں:افغان وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر

تحریک انصاف کے مزید 2 ارکان نے استعفی دے دیا

?️ 5 اکتوبر 2021کراچی (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق کراچی سے پاکستان تحریک انصاف کے

لاوروف: ہم اسلامی دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنائیں گے

?️ 15 مئی 2025سچ خبریں: روس کے وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا

غزہ نے تل ابیب کے فوجی و سیاسی مقاصد ناکام بنا کر تاریخی کامیابی حاصل کی

?️ 12 اکتوبر 2025غزہ نے تل ابیب کے فوجی و سیاسی مقاصد ناکام بنا کر

24 مئی سے تعلیمی ادارے اور سیاحتی ادارے کھل سکتے ہیں

?️ 20 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او

10 اسرائیلی قیدیوں کو جلد رہا کر دیا جائے گا: ٹرمپ

?️ 20 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے