عراق کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج واشنگٹن کے لیے مایوس کن ثابت ہوئے ہیں 

عراق

?️

عراق کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج واشنگٹن کے لیے مایوس کن ثابت ہوئے ہیں 

امریکی اخبار الاخبار کے مطابق عراق کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج واشنگٹن کے لیے مایوس کن ثابت ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق میں مزاحمتی جماعتوں کی سیاسی موجودگی نہ صرف برقرار رہی بلکہ زیادہ مستحکم ہوکر پارلیمان میں نمایاں ہوئی ہے، جس سے امریکہ کے قریب سمجھے جانے والے گروہوں کا اثر کم ہوا ہے۔

الاخبار کے مطابق شیعہ اتحاد  جو پارلیمان کی سب سے بڑی فریق بن کر ابھرا ہے، مختصر مدت میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کی کوشش کر رہا ہے۔ اتحاد کی ترجیح یہ ہے کہ داخلی یکجہتی برقرار رہے اور بیرونی مداخلت محدود ہو۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراقی مزاحمتی گروہوں نے پارلیمان میں 25 سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں، جن میں سے صرف کتائب حزب اللہ کو سات نشستیں ملی ہیں۔ یہ نتیجہ واشنگٹن کی اس کوشش کے لیے بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے جس کا مقصد ان گروہوں کے کردار کو محدود کرنا تھا۔

الاخبار نے لکھا ہے کہ امریکہ بغداد پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ عراق کے سیاسی اور معاشی استحکام کو مالیاتی اور تجارتی ذرائع، خصوصاً ڈالر کی منتقلی اور فیڈرل ریزرو کی مالی ونڈو سے مشروط کرنا چاہتی ہے، تاکہ مزاحمتی گروہوں کے غیر مسلح کیے جانے سے متعلق مطالبات منوائے جائیں۔

اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ کے ایلچی مارک ساویا بغداد میں متعدد ملاقاتوں کے دوران عراقی رہنماؤں تک وائٹ ہاؤس کے براہِ راست پیغامات پہنچا چکے ہیں۔ ان پیغامات میں زور دیا گیا ہے کہ نئی حکومت میں ایسا چہرہ لایا جائے جو واشنگٹن کے لیے نرم رویہ رکھتا ہو۔

باوجود اس کے کہ امریکہ سیاسی دباؤ بڑھا رہا ہے، الاخبار کے مطابق واشنگٹن یہ بھی سمجھتا ہے کہ عراق سے تصادم کو بہت زیادہ نہیں بڑھایا جا سکتا، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور توانائی کے عالمی بازاروں میں استحکام کے لیے بغداد اس کے لیے اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ عراق کے حوالے سے "چابک اور گاجر” کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

عراقی سیاسی تجزیہ کار عبدالستار العیساوی نے بھی کہا کہ انتخابی نتائج نے امریکہ کو مایوس کیا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بغداد میں سفارتی ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ایک امریکی وفد جلد عراق کا دورہ کرے گا تاکہ نئی حکومت کی ساخت کے بارے میں اپنے تازہ پیغامات عراقی سیاست دانوں تک پہنچا سکے۔

عراقی سیاست دان داوود القیسی کے مطابق ملک ایک نہایت حسّاس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور حکومت سازی کا ہر قدم علاقائی و عالمی اثرات سے جڑا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ عراقی الیکشن کمیشن نے پیر کی شب انتخابات کے حتمی نتائج جاری کیے جن کے مطابق شیعہ جماعتوں نے 187، سنی اتحادوں نے 76 اور کرد گروہوں نے 56 نشستیں حاصل کی ہیں۔ نتائج کے اعلان کے بعد شیعہ اتحاد "چارچوبِ ہم‌آہنگی” نے خود کو پارلیمان کی سب سے بڑی فریق قرار دے دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

صہیونی فوج کی بربریت کا سلسلہ جاری

?️ 19 اکتوبر 2023سچ خبریں:صہیونی فوج کے ترجمان فلسطینی مزاحمتی فورسز کے ساتھ لڑائی میں

کیا اسرائیل کے ساتھ معمول بننا بن سلمان کے تخت کی ضمانت دے گا؟

?️ 6 جون 2022سچ خبریں:  یوکرین اور روس کے درمیان موجودہ بحران پر عالمی تفریح

کیا چین اور روس عرب ممالک کے لیے امریکہ کا متبادل بن سکتے ہیں؟

?️ 14 ستمبر 2025کیا چین اور روس عرب ممالک کے لیے امریکہ کا متبادل بن

کیا عائشہ جہانزیب خلع لینے جارہی ہیں؟ خود کیا کہتی ہیں؟

?️ 20 جولائی 2024سچ خبریں: نجی ٹی وی کی اینکر عائشہ جہانزیب نے اپنے شوہر

دو تہائی یمنیوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے

?️ 22 مارچ 2022سچ خبریں:انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) نے یمن

شام کو تقسیم کرنے کے تل ابیب اور بعض علاقائی ممالک کے منصوبے کے خلاف انتباہ

?️ 15 دسمبر 2025سچ خبریں: شامی تجزیہ کار محمد توتنجی نے زور دے کر کہا ہے

شریف خاندان کی رگوں میں کشمیری خون ہوتا تو مودی سے ساڑھیاں نہ لیتے

?️ 12 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں)تفصیلات کےمطابق وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی

9 مئی کے پرتشدد واقعات: عدالت کا پی ٹی آئی خواتین کا مزید ریمانڈ سے انکار

?️ 6 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے سرور روڈ پولیس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے