صیہونیوں کو اب تک غزہ سے کیا ملا ہے؟ صیہونی تجزیہ کار کی زبانی

غزہ

?️

سچ خبریں: مغربی اور صہیونی عسکری تجزیہ نگار اور ماہرین ان دنوں غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جنگ کی بے مقصدیت اور منصوبہ بندی کے فقدان پر زیادہ بات کرتے ہیں۔

صیہونی اخبار یدیعوت احرونٹ کے ممتاز سیاسی تجزیہ نگار ناحوم برنیاع نے اس اخبار کے آج کے شمارے میں شائع ہونے والے ایک کالم میں لکھا ہے کہ اسرائیل غزہ کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اس کا واحد مقصد فلسطینیوں کو 7 اکتوبر کے حملوں کی سزا دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شروع سے ہی غزہ میں اسرائیل کی شکست کی پیشین گوئی

برنیاع کے مطابق غزہ کی پٹی کی جنگ میں اسرائیلی فوج کی اس الجھن کی وجہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے وزیر جنگ یواف گیلنٹ کے درمیان دشمنی ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ یہ دونوں ملک کے اعلیٰ ترین عہدے دار سمجھے جاتے ہیں۔

اس صہیونی تجزیہ نگار کے مطابق کہ اس طرح کی دشمنیوں کی اور بھی قیمت چکا پڑ رہی ہے اس لیے کہ بہر حال، فوج ایک ایسا ڈھانچہ ہے جس کی رہنمائی اہرام کی شکل میں ہوتی ہے جبکہ اس کی قیادت میں جنگ کا انتظام دو ایسے سیاست دان کر رہے ہیں جو ایک دوسرے کے دشمن ہیں لہذا یہ ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔

برنیاع نے مزید کہا کہ جنگ کے پچھلے 100 دنوں سے یہ مصائب اور مسائل جاری ہیں ،اہداف پورے نہیں ہوئے اور زیادہ تر قیدی گھر واپس نہیں آئے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سکیورٹی کابینہ کی صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے، جہاں قانون کے مطابق اہم فیصلے وہاں ہونے چاہئیں، لیکن اسرائیل کے سرکاری بیان کے مطابق، جو اس نے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف کو فراہم کیا، اس کابینہ ، جس میں وزیر خزانہ بیٹسل اسموٹریچ اور داخلی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گوور جیسے لوگ ہیں، کا سکیورٹی کے معاملات پر فیصلے کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے!

اس تجزیہ کار نے اس بات پر زور دیا کہ نیتن یاہو اسموٹریچ اور بن گوئر سے بہت خوفزدہ ہیں، اس لیے وہ جنگ کے خاتمے کے بعد کے دن سے پریشان ہیں۔

یہی وہ نقطہ نظر ہیں جن کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو الجھن میں ڈال دیا گیا ہے اور وہ بغیر کسی قسم کی منصوبہ بندی کے بغیر غزہ کے اندر کاروائیاں کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: صہیونیوں میں یحییٰ السنوار کو نشانہ بنانے کی ہمت نہیں

اس کے علاوہ، اس کی وجہ سے امریکی حکومت کو اسرائیل کی حمایت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل کے روزنامہ زمان نے سینٹ کام کے سابق کمانڈر کے حوالے سے خبر دی تھی کہ انہوں نے کہا کہ اسرائیل وضاحت کرے کہ وہ غزہ میں کس سمت پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سابق کمانڈر جنرل کینتھ میکنزی نے اس حوالے سے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسرائیل زیادہ تر قیدیوں کو بحفاظت واپس کر پائے گا۔

مشہور خبریں۔

سعودی عرب کی قید میں بے گناہ فلسطینی اور اردنی شہریوں کی سخت سزاؤں کے بارے میں اہم تفصیلات سامنے آگئیں

?️ 13 اگست 2021ریاض (سچ خبریں)  سعودی عرب کی قید میں بے گناہ فلسطینی اور

ایشیائی ترقیاتی بینک کی بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کیلئے 50 لاکھ ڈالر کی منظوری

?️ 21 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ایشیائی ترقیاتی بینک نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ

سپریم کورٹ نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیدیا

?️ 22 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ

غزہ کے بچے کب سے بھوکے ہیں؟ اقوام متحدہ کی رپورٹ

?️ 8 ستمبر 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر برائے حق خوراک نے اعلان

ایرانی طلبا یونین کا حجاب کے حق میں بولنے والی بھارتی طالبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی

?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:ایرانی طلبا کی کئی بڑی یونینوں نے حجاب کے اپنے بنیادی

ابوعبیدہ کا حزب اللہ سے خطاب: قیدیوں کی آزادی کے لیے صیہونیوں کو گرفتار کریں

?️ 31 مارچ 2026سچ خبریں: حماس کے فوجی ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان نے حزب

باجوڑ اور مہمند کے عمائدین کا دہشتگردی کیخلاف مکمل تعاون کا اعلان، فوجی آپریشن کی مخالفت

?️ 5 اگست 2025باجوڑ: (سچ خبریں) باجوڑ اور مہمند کے قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے

جنگ بندی کی ناکامی کا ذمہ دار سعودی اتحاد ہے:صنعاء

?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:یمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے