صیہونیوں کا خاموش جرم

صیہونی

?️

سچ خبریں:صیہونی حکومت جس نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اس کے ساتھ وقتاً فوقتاً غیر مساوی جنگ میں مصروف ہے تاکہ ان کے دعوؤں کے مطابق مقبوضہ علاقوں سے سلامتی کے خطرات کو ختم کیا جا سکے، ایک خاموش جرم میں اس علاقے میں طبی اور صحت کے وسائل کے داخلے کو فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں غزہ کے مزاحمتی گروہوں کے خلاف بارہا ناکام ہونے والی صیہونی حکومت جس کے پاس ان گروہوں کو روکنے کی ضروری طاقت نہیں ہے، اس علاقے میں بسنے والے فلسطینیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے دوسرے آپشنز کا سہارا لے رہی ہے۔

صیہونی حکومت نے 2006 سے غزہ کا محاصرہ کر کے بیرونی دنیا سے اس خطہ رابطہ منقطع کر رکھا ہے لیکن وہ اس سے مطمئن نہیں ہے اور اس علاقے کے خلاف دباؤ کا دائرہ بڑھا رہی ہے۔

اس سلسلے میں غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان نے صہیونی جرائم سے متعلق تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ صیہونی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی میں طبی اور تشخیصی وسائل کے داخلے پر پابندی اور رسائی کو روکے ہوئے 394 دن ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے اس خطے کے ہسپتالوں میں بہت سارے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں، ان کے مصائب میں اضافہ ہوا ہے اور انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین نیز چوتھے جنیوا کنونشن کے اصولوں پر مبنی علاج کے لیے ان کے بنیادی ضمانت شدہ حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ غزہ کے محاصرے کے سالوں کے دوران صیہونیوں نے مریضوں کو ادویات تک رسائی سے محروم کر کے انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا نیز انہیں علاج کے لیے اس علاقے سے باہر جانے سے روک دیا ، تاکید کی کہ قابضین کی جانب سے انسانیت کے خلاف جرائم جاری ہیں ، وہ غزہ کے لوگوں کے لیے اہم اور ضروری طبی اور تشخیصی آلات کے داخلے کو روک رہے ہیں۔

فالج کے مریضوں کے علاج اور ان کے فالج کو روکنے کے لیے درکار کٹنگ ڈیوائس کے داخلے کو روکنے کے علاوہ، اسرائیلیوں نے چار موبائل ایکسرے مشینوں کے داخلے کو بھی روک دیا ہے، یہ آلہ آپریٹنگ روم کے اندر فریکچر کی تشخیص کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صیہونیوں کا یہ مخالفانہ رویہ ٹیومر کے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے، وہ لوگ جو دل کے مسائل، فالج، پیچیدہ فریکچر اور خصوصی نگہداشت کے مریض ہیں، تشخیصی آلات کی کمی کی وجہ سے ضروری علاج سے محروم رہتے ہیں۔

غزہ کے ادارۂ صحت کے اس اہلکار نے کہا کہ اسرائیلی حکومت جان بوجھ کر غزہ کی پٹی میں ان مریضوں کو بین الاقوامی قانونی معیارات کے مطابق طبی حقوق سے محروم رکھتی ہے، اس لیے مریضوں کی زندگیوں اور ان کی طبی ضروریات کی فراہمی کی تمام تر ذمہ داری صہیونیوں پر عائد ہوتی ہے۔

مشہور خبریں۔

مراکش کی اسرائیلی حکومت کے ساتھ اسلحے کی ڈیل 

?️ 2 جون 2025سچ خبریں: اسرائیلی حکومت کے ٹی وی چینل نیٹ ورک 12 نے

سام سنگ نے کال ریکارڈنگ کا فیچر پیش کردیا

?️ 14 فروری 2024سچ خبریں: اسمارٹ فون بنانے والی جنوبی کورین ملٹی نیشنل کمپنی سام

زیلینسکی کو جسمانی طور پر ہٹانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے: مدودف

?️ 4 مئی 2023سچ خبریں:کریملن محل پر ڈرون حملے کے بعد، جس کا الزام ماسکو

غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں نیتن یاہو کی رسوایی

?️ 2 مارچ 2025سچ خبریں: علاقائی اخبار رائی الیوم کے ایڈیٹر اور معروف فلسطینی تجزیہ نگار

ٹرمپ کے ہاتھوں برطرف ہونے والے برایان ہوک کون ہیں؟

?️ 22 جنوری 2025سچ خبریں:امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت

جرمن کی معاشی کمزوری کی وجوہات

?️ 10 اگست 2023سچ خبریں:جرمنی کے وزیر اقتصادیات رابرٹ ہوبیک گیس کے بحران اور مہنگائی

امریکی اڈے پر حملہ، الحشد الشعبی کا اقتدار اور مشکوک افواہیں

?️ 7 نومبر 2021سچ خبریں: بعض ذرائع نے مخصوص ذرائع سے مالی اعانت فراہم کرنے

لوگوں کو جیلوں کی دھمکیاں دینے سے تنازعہ کشمیر کی حقیقت بدل نہیں سکتی:حریت کانفرنس

?️ 29 اکتوبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے