صہیونی وزیر کی فلسطینی قیدیوں کی جائے حراست پرحملے کی مذمت 

فلسطینی

?️

سچ خبریں:فلسطینی قیدیوں سے متعلق انفارمیشن آفس نے ایک بیان میں ایتامار بن گویر، صہیونی وزیر داخلہ کے رمضان المبارک کے موقع پر واقع عمران (عوفر) جیل میں فلسطینی قیدیوں پر جابرانہ اقدامات اور توہین آمیز سلوک کے ساتھ کیے گئے دھاوے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔

فلسطینی ادارے نے بن گویر کے اس اقدام کو اشتعال انگیز، خطرناک اور انتقامی پیغام قرار دیا ہے جس کا مقصد فلسطینی قیدیوں کی عزت نفس اور ان کے حوصلے پست کرنا ہے۔ یہ واقعہ صہیونی حکومت کی جیلوں میں جاری جبر و ستم اور جرائم کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کے انفارمیشن آفس نے اس دھاوے کو نام نہاد قیدیوں کو سزائے موسم دینے کے قانون کی منظوری کی تیز رفتار کوششوں کے تناظر میں دیکھا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ یہ پیش رفت فلسطینی قیدیوں کے خلاف انتہا پسندانہ پالیسیوں کو باقاعدہ شکل دینے اور بین الاقوامی سطح پر ایسی خلاف ورزیوں کے خلاف کسی احتساب یا روک تھام کے فقدان میں ان کی جان کو حقیقی خطرے میں ڈالنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔
اپنے بیان میں، فلسطینی قیدیوں کے انفارمیشن آفس نے عرب ممالک اور عالمی سطح پر فلسطینی قیدیوں کو صہیونی حکومت کے مظالم سے بچانے کے لیے متحدہ فلسطینی قومی موقف اختیار کرنے اور فوری میڈیا، سفارتی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ادارے نے مزید کہا کہ فلسطینی قیدیوں کے حق میں یکجہتی مہموں کو تیز کرنا ضروری ہے، جو جنیوا کنونشنز، بین الاقوامی قانون اور تشدد کے خلاف کنونشنز کی بنیاد پر ہوں، تاکہ صہیونی حکومت پر ان پالیسیوں کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے جو قیدیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور انسانی اصولوں کے منافی ہیں۔
بن گویر نے جمعہ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے قریب واقع عمران (عوفر) جیل میں دھاوا بول دیا تھا، یہ کارروائی فلسطینی قیدیوں کے ساتھ زیادتی کے ساتھ ہوئی۔
بن گویر فلسطینی قیدیوں کے خلاف توہین آمیز ویڈیوز جاری کرنے اور انہیں قتل کی دھمکیاں دینے کے لیے بدنام ہے، جس کی حالیہ نمایاں مثالوں میں تحریک فتح کے رہنما مروان البرغوثی کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
یہ انتہا پسند وزیر اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر پابندیاں سخت کرنے پر کئی بار فخر کا اظہار کر چکا ہے۔
2022 کے آخر میں بن گویر کے صہیونی حکومت کے وزیر داخلہ (امن داخلی) بننے کے بعد سے، قیدیوں اور جیلوں پر لاگو کردہ تعزیری پالیسیوں کی وجہ سے فلسطینی قیدیوں کی حالت تیزی سے خراب ہوئی ہے، یہاں تک کہ رپورٹوں میں ان کے وزن میں نمایاں کمی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
موصولہ معلومات کے مطابق 5 فروری تک، 350 بچوں سمیت 9 ہزار 300 سے زائد فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔
فلسطینی، اسرائیلی اور بین الاقوامی ادارے کئی بار اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر تشدد کے حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔ اکتوبر 2023 میں غزہ میں طوفان الاقصیٰ کے ساتھ ہی اس سلسلے میں مزید شدت آ گئی ہے۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل شام میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں الجھن کا شکار 

?️ 1 جنوری 2025سچ خبریں: ایک نوٹ شائع کرتے ہوئے، نیوز ون ویب سائٹ نے

شیخ رشید نے عمران خان کو خوش نصیب اور نواز شریف کو بدنصیب قرار دے دیا

?️ 2 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ

اقوام متحدہ: غزہ کٹے ہوئے بچوں کا سب سے بڑا گروپ ہے

?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر

ایرانی سپریم لیڈر کے بیان کی عرب میڈیا میں وسیع کوریج

?️ 4 جون 2026سچ خبریں:عرب میڈیا نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ

مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ظلم و جبرکی پالیسیاں مسلسل جاری ہیں : کل جماعتی حریت کانفرنس

?️ 14 جنوری 2024سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ مقبوضہ

ہماری طرف سے بھی کچھ آنے والا ہے؛عراقی حزب اللہ کا صیہونیوں کو پیغام

?️ 21 اکتوبر 2024سچ خبریں:عراق کی حزب اللہ بریگیڈز سے منسلک ایک ذریعے نے اعلان

کل جماعتی حریت کانفرنس کی پونچھ میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہریوں کے حراستی قتل کی مذمت

?️ 23 دسمبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

ایران کے خلاف خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کے بے بنیاد دعووں کی تردید

?️ 30 اپریل 2026 سچ خبریں:اسماعیل بقائی، ترجمان وزارت خارجہ نے خلیج فارس تعاون کونسل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے