?️
صہیونزم کی تاریخ کا ایک ورق، مارکس اینڈ اسپینسر کے منتظمین کی لابنگ
صہیونیزم کی تاریخ میں برطانوی سیاست پر اثرانداز ہونے کے لیے کی جانے والی منظم لابنگ ایک اہم باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں، جب فلسطین ایک نئے دور میں داخل ہو رہا تھا، صہیونزم ایک بیرونی اور اجنبی نظریے کے طور پر ابھرا۔ ابتدا میں یہ تصور یورپ میں مسیحی انجیلی تحریکوں کے زیرِ اثر پروان چڑھا، جہاں بعض پروٹسٹنٹ حلقے یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہودیوں کی صہیون واپسی خدائی وعدوں کی تکمیل اور مسیح کی دوبارہ آمد کا پیش خیمہ ہوگی۔
اس تناظر میں، یہودیوں کو صرف ایک مذہبی گروہ نہیں بلکہ ایک قوم یا نسل کے طور پر پیش کیا گیا۔ برطانیہ اور امریکہ میں بااثر حلقوں نے اس سوچ کو فروغ دیا اور یہی بنیاد بعد ازاں سیاسی حمایت میں ڈھلی۔ اسرائیلی مورخ ایلان پاپے اپنی کتاب میں واضح کرتے ہیں کہ ایک صدی سے زائد عرصے کی لابنگ کے نتیجے میں برطانوی اور امریکی پالیسی سازوں نے فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر چشم پوشی اختیار کی۔
برطانوی دورِ انتداب میں فلسطینی قیادت کمزور سفارتی وسائل کے ساتھ لندن پہنچی، جبکہ صہیونی قیادت کو منظم استقبال اور حکومتی رسائی حاصل تھی۔ فلسطینی رہنما حاج امین الحسینی کی لندن آمد سادہ اور محدود حمایت کی عکاس تھی، اس کے برعکس حییم وائزمین کو اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور مضبوط لابی کا سہارا حاصل تھا۔
فلسطین کے اندر، صہیونی آبادکاری اور برطانوی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت بڑھتی گئی۔ 1936 کی عرب بغاوت اس مزاحمت کا نقطۂ عروج تھی، جسے برطانیہ نے سخت فوجی کارروائیوں سے کچلنے کی کوشش کی۔ اگرچہ یہ بغاوت بالآخر دبا دی گئی، لیکن اس نے برطانوی پالیسی سازوں کو صہیونی منصوبے کے ممکنہ نتائج پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کیا۔
اسی عرصے میں پیل کمیشن اور بعد ازاں وڈہیڈ کمیشن کی رپورٹس سامنے آئیں، جنہوں نے فلسطین کی تقسیم اور یہودی ہجرت پر پابندیوں جیسے نکات پیش کیے۔ 1939 کے وائٹ پیپر میں یہودی ہجرت اور زمین کی خریداری پر سخت حدود عائد کی گئیں اور ایک دو قومی ریاست کا تصور پیش کیا گیا، جسے صہیونی قیادت نے بالفور اعلامیے سے انحراف قرار دیا۔
ان پالیسی تبدیلیوں کے خلاف ردعمل میں، حییم وائزمین نے دوبارہ لابنگ کو منظم کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے گارڈین کے صحافی ہیری ساچر اور تاجروں سائمن مارکس اور اسرائیل سیف کی مدد حاصل کی، جو بعد میں برطانوی ملبوسات کی معروف کمپنی مارکس اینڈ اسپینسر کے منتظمین بنے۔ ان افراد نے لندن کے مرکزی علاقوں میں لابنگ کا نیا مرکز قائم کیا اور برطانوی پالیسی کو دوبارہ صہیونی مقاصد کے حق میں موڑنے کی کوششیں تیز کر دیں۔
یہ داستان اس بات کی عکاس ہے کہ کس طرح منظم سیاسی و معاشی اثرورسوخ نے فلسطین کی تاریخ اور خطے کی تقدیر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔


مشہور خبریں۔
27 فروری پاکستان کے پرامن قوم ہونے کا ثبوت ہے، آئی ایس پی آر
?️ 27 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور مسلح افواج
فروری
میرے خلاف عالمی نفرت کی وجہ میڈیا پروپیگنڈا ہے: نیتن یاہو
?️ 23 جولائی 2025صیہونی ریاست کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس میں
جولائی
ویڈنزڈے گرل جینا اورٹیگا نے فلسطینیوں کو اپنا ہیرو قرار دے دیا
?️ 9 اکتوبر 2025پیرس: (سچ خبریں) نیٹ فلکس کی مقبول سیریز ویڈنزڈے کی مرکزی کردار
اکتوبر
فوجی تنصیبات پر براہ راست حملوں میں ملوث افراد پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے، پی ٹی آئی سینیٹر
?️ 19 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر سید علی ظفر
مئی
پارلیمانی اجلاس میں اپوزیشن کو شکست کی پریشانی واضح نظرآتی ہے
?️ 27 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا
نومبر
سپریم کورٹ نے ترقیاتی منصوبوں پر سیاستدانوں کی تختیاں لگانے پر پابندی عائد کر دی
?️ 9 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے ترقیاتی منصوبوں پر سیاستدانوں کی
مئی
صیہونیوں کے جرائم کے خلاف یہودی تنظیم کا انکشاف
?️ 16 مئی 2021سچ خبریں:ایک یہودی گروہ نے غزہ میں صیہونی جنگی جرائم کو بے
مئی
الاقصیٰ طوفان کے 2 سال بعد؛ حماس کا جامع موقف اور تفصیلات
?️ 30 دسمبر 2025سچ خبریں: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے 2025 کے اختتام اور طوفان الاقصیٰ
دسمبر