شہید قاسم سلیمانی ایسے کمانڈر تھے جنہوں نے سلطنتوں کو چیلنج کیا

جنرل منیر شحاده

?️

شہید قاسم سلیمانی ایسے کمانڈر تھے جنہوں نے سلطنتوں کو چیلنج کیا

لبنانی فوجی و اسٹریٹجک امور کے ماہر اور اقوام متحدہ کی امن فورس میں لبنانی حکومت کے سابق کوآرڈینیٹر بریگیڈیئر جنرل منیر شحاده نے کہا ہے کہ شہید حاج قاسم سلیمانی محض ایک نمایاں فوجی کمانڈر ہی نہیں تھے بلکہ اپنی شخصیت، تدابیر اور کردار کے باعث مغربی ایشیا کی سب سے مؤثر اسٹریٹجک شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔

میڈیا سے گفتگو میں منیر شحاده نے کہا کہ سردار سلیمانی صرف ایک علاقائی فوجی رہنما نہیں تھے بلکہ میدانِ جنگ کے عین مرکز میں موجود رہ کر انہوں نے گزشتہ دہائیوں میں مغربی ایشیا میں اہم اسٹریٹجک تبدیلیوں کو جنم دیا۔

انہوں نے کہا کہ حاج قاسم کی شخصیت صرف فوجی وردی تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ میدانِ جنگ میں ثابت قدمی، سیاسی بصیرت اور انسانی تواضع کا نادر امتزاج تھے، جس نے انہیں علاقائی معادلات میں ایک فیصلہ کن عنصر اور امریکا و اسرائیل کے لیے براہِ راست ہدف بنا دیا۔

شحاده کے مطابق سردار سلیمانی خاموشی سے کام کرنے، گہرے اعتماد پر مبنی نیٹ ورک قائم کرنے اور تکبر یا بالادستی کے بغیر قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ بند کمروں میں بیٹھنے والے کمانڈر نہیں بلکہ اگلی صفوں میں موجود رہنے والے فیلڈ کمانڈر تھے، یہی وجہ ہے کہ انہیں سیاست دانوں سے پہلے مجاہدین اور مزاحمتی قوتوں کا احترام حاصل ہوا اور ان کا نام نعروں کے بجائے عملی وابستگی اور قربانی کی علامت بن گیا۔

لبنانی ماہر نے کہا کہ علاقائی سلامتی کے میدان میں سردار سلیمانی تکفیری گروہوں کے ابھرنے سے پیدا ہونے والے خطرناک ترین خطرات کے مقابلے میں صفِ اول میں تھے۔ ایسے وقت میں جب افواج بکھر رہی تھیں اور ریاستیں تذبذب کا شکار تھیں، ان کی موجودگی عراق سے سوریہ تک دارالحکومتوں کے سقوط کو روکنے اور مزاحمتی محاذوں کی ازسرِنو تشکیل میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ حاج قاسم کا مقصد توسیع پسندی یا علاقائی غلبہ نہیں تھا بلکہ وہ خطے کو ایسے انتشار اور افراتفری سے بچانا چاہتے تھے جو امریکا اور اسرائیل کے مفادات کو پورا کرتی ہے۔

منیر شحاده نے فلسطین کے مسئلے پر سردار سلیمانی کے موقف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین ہمیشہ ان کے سیاسی اور اعتقادی شعور کا مرکز رہا۔ ان کے نزدیک فلسطین وہ کسوٹی تھا جس پر ہر مزاحمتی منصوبے کی صداقت پرکھی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سردار سلیمانی امتوں کی طاقت کو ان کے اتحاد میں دیکھتے تھے اور مذہبی و نسلی تقسیم کو دشمن کے ہاتھوں میں سب سے خطرناک ہتھیار سمجھتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے صبر و استقامت کے ساتھ مزاحمتی گروہوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور اس اصول کو مستحکم کرنے پر کام کیا کہ “اگر قبلہ فلسطین کی طرف ہو تو راستہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔

لبنانی ماہر کے مطابق سردار سلیمانی کا مقام مزاحمتی قوتوں میں زبردستی مسلط نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ باہمی اعتماد اور خلوص پر مبنی شراکت کا نتیجہ تھا۔ وہ جہاں ضروری ہوتا خود موجود ہوتے اور جہاں غیر موجودگی بہتر ہوتی، وہاں پیچھے رہتے۔ نہ انہوں نے کسی کے کردار سے مقابلہ کیا اور نہ ہی کامیابیوں کا سہرا اپنے سر باندھا، بلکہ معاون، ہم آہنگ اور کامیابیوں کے شریک رہے۔

شحاده نے کہا کہ اسی وجہ سے قاسم سلیمانی کا نام ایران تک محدود نہ رہا بلکہ وہ ایک سرحدوں سے ماورا علامت بن گئے۔ خطے کے عوام انہیں ایسے کمانڈر کی مثال سمجھتے تھے جس نے امریکا کی بالادستی کے سامنے بلا تردد کھڑے ہو کر حقیقی بازدار قوت قائم کی اور بیانات کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے اسرائیلی رعب کو چیلنج کیا۔ ان کا قتل کسی ایک شخص کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ تسلطی منصوبوں کے لیے ان کے خطرناک کردار کا اعتراف تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج، ان کی شہادت کے برسوں بعد، یہ واضح ہو چکا ہے کہ جسے “مکتبِ سلیمانی” کہا جاتا ہے وہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے طریقۂ کار کا نام ہے جو ایمان، سیاسی حقیقت پسندی اور طویل المدتی اجتماعی جدوجہد کے امتزاج پر قائم ہے۔ یہ مکتب آج بھی مزاحمتی قوتوں کی کارکردگی، ان کی استقامت اور امریکی و اسرائیلی منصوبوں کی ناکامی میں جھلکتا ہے۔

آخر میں منیر شحاده نے کہا کہ قاسم سلیمانی جسمانی طور پر موجود نہیں، مگر ایک عمل اور ایک معادلے کے طور پر آج بھی زندہ ہیں۔ وہ شخصیات جو اپنی شہادت کے بعد بھی دشمنوں کو فکرمند رکھیں، دو بار کامیاب ہوتی ہیں: ایک بار میدان میں اور ایک بار شعور و آگاہی میں۔

مشہور خبریں۔

سی ان ان نے امریکی معیشت کے بارے میں بائیڈن کے جھوٹ کو بے نقاب کیا

?️ 11 جون 2022سچ خبریں:    سی ان ان نیٹ ورک نے اس ملک کی

ایوان نمائندگان کو غزہ جنگ کی حقیقت کو نہیں چھپانا چاہیے

?️ 28 جون 2024سچ خبریں: اس ملک کی وزارت خارجہ کی طرف سے فلسطینی شہداء کی

امداد کے معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

?️ 30 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) امریکا کی جانب سے دیگر ممالک کی طرح

جوہری پروگرام سے متعلق میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جارہا ہے، وزیر خزانہ

?️ 21 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان

اسرائیل حساس سکیورٹی موڑ پر، چھ محاذوں پر ممکنہ تصادم کا خدشہ

?️ 3 دسمبر 2025 اسرائیل حساس سکیورٹی موڑ پر، چھ محاذوں پر ممکنہ تصادم کا

وینزویلا میں چوتھے امریکی کی گرفتاری

?️ 18 ستمبر 2024سچ خبریں: وینزویلا کے وزیر داخلہ نے گزشتہ ماہ اس ملک میں چوتھے

لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا حکم معطل کردیا

?️ 9 مارچ 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے پیمرا کی جانب سے سابق وزیراعظم

تل ابیب اور واشنگٹن کے تعلقات کشیدہ

?️ 14 مئی 2024سچ خبریں: المیادین نیٹ ورک نے صہیونی میڈیا کے حوالے سے خبر دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے