سعودی عرب میں ہالووین جشن پر سوشل میڈیا میں تنقید

سعودی

?️

سعودی عرب میں منعقد ہونے والے ہالووین جشن نے دنیا بھر کے بہت سے مسلمان صارفین کو ناراض کیا۔

سچ خبریں:سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے ہالووین جشن کی تصاویر اور ویڈیوز جاری ہونے کے بعد کئی سوشل میڈیا صارفین نے اپنے غصے اور عدم اطمینان کا اظہار کیا، یاد رہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہالووین کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، یہ تقریب خوفناک ملبوسات کی نمائش اور سعودیوں کے تخلیقی ڈیزائن کی نمائش کے لیے وقف تھی نیز اس کا مقصد تفریح سے بھرپور ماحول بنانا تھا۔

واضح رہے کہ ریاض میں ہالووین جشن آتش بازی، جدید صوتی آلات اور خوفناک سائے سے ملتی جلتی سجاوٹ کے ساتھ مکمل ہوا، تاہم اس جشن کے بعد بہت سے صارفین نے "ڈراونا ویک اینڈ” اور "برے ملبوسات” جیسے ہیش ٹیگز شروع کر دیے، ہالووین کے مخالفین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس خیال کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ملکی رسم و رواج کی عکاسی نہیں کرتا، خاص طور پر چونکہ ہالووین کا تعلق کسی اور مذہب سے ہے۔

ٹویٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ اس سال مقدس چیزوں پر توجہ دینے کے بجائے، انہوں نے ہالووین کے ملبوسات پر تبصرے کرنا شروع کر دیے، ہر گزرتے ہوئے سال میں یہ معاملہ معمول بن جاتا ہے، بعض مخالفین نے آل سعود کی طرف سے اس طرح کی تفریح کے قیام کو معاشرے میں درپیش چیلنجوں اور بحرانوں بشمول بے روزگاری، مہنگائی، آزادی اظہار رائے کی کمی اور سیاسی بدعنوانی سے ذہنوں کو ہٹانے کی سازش قرار دیا۔

سعودی

واضح رہے کہ سعودی عرب میں مغربی ممالک اور مغربیت کی پیروی کرتے ہوئے کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں ہے، یاد رہے کہ سعودی عرب میں اس طرف کے جشن اس ملک کے ولی عہد محمد بن سلمان کی خصوصی توجہ اور ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق منعقد کیے جاتے ہیں، کو ایک ایسے ملک میں مذہب کو ختم کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر سمجھا جاتا ہے جو اسلامی مقدس مقامات میں سب سے اہم ہے ،جس کا بادشاہ دو مقدس مقامات کا متولی ہے جنہں حرمین شریفین کہا جاتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اس جشن اور اس طرح کی دیگر کئی تقریبات کی نوعیت سعودی مذہبی حلقوں اور مخالفین اور ناقدین میں غصے اور حیرت کا باعث بنی ہے جبکہ نوجوان سعودی ولی عہد نے آتے ہی سعودی عرب میں بنیادی تبدیلیاں کرنے اور اس ملک کو اسلامی اقدار سے دور کرنے نیز اسے بے دینی کی طرف لے جانے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں، ان سالوں میں، انہوں نے شراب فروخت کی، مردوں اور خواتین کی مخلوط پارٹیاں منعقد کیں، امریکی گلوکاروں کو مدعو کیا جبکہ دوسری طرف سیکڑوں علماء کو گرفتار کیا۔

محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں سماجی تبدیلیاں کیں، اس نے دینی علما کی طاقت کو کمزور کیا، اس کے علاوہ اس نوجوان شہزادے نے مساجد میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال میں کمی اور علماء کی تنخواہوں میں کمی وغیرہ جیسے اقدامات کئے نیز اس کے آنے کے بعد کچھ سماجی پابندیوں میں کمی کے ساتھ سیاسی جبر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں ادیبوں، کارکنوں،علما اور شہزادوں کو قید کیا گیا ہے، جبکہ سعودی دربار اس کی بے ہودہ پالیسیوں سے سعودی نوجوانوں کی توجہ ہٹانے اور اس ملک میں بےدینی پھیلانے کے لیے تفریحی شعبے میں بڑے مالی وسائل خرچ کرتا ہے،اس کے علاوہ سعودی ولی عہد سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کے ذریعے انسانی حقوق اور آزادیوں کی خلاف ورزی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

 

مشہور خبریں۔

سعودی عرب کا پیرس میں زیر حراست سعودی شہری کے لیے معاوضے کا مطالبہ

?️ 11 دسمبر 2021سچ خبریں:فرانس میں سعودی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ وہ

امریکی جرائم کے بارے میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کو یمن کا خط

?️ 22 اپریل 2025سچ خبریں: امریکہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف صیہونی حکومت

بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں

?️ 25 فروری 2026کراچی (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور

ہم صیہونی جیلوں میں موجود تمام فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے کام کر رہے ہیں:حماس

?️ 16 مارچ 2023سچ خبریں:تحریک حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ نے صیہونی حکومت کی

آرمی چیف ایک روزہ سرکاری دورے پر افغانستان پہنچ گئے

?️ 10 مئی 2021کابل(سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے ایک

نواز شریف کی وطن واپسی پر قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، نگران وزیراعظم

?️ 29 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ

ٹیکسوں کی ادائیگیوں کا نیا سسٹم ’ای پیمنٹ 2.0‘ متعارف

?️ 14 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف بی آر  نے ٹیکس کے ملکی نظام

شبلی فراز نے کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں شکست  کی وجہ بتا دی

?️ 20 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے