سعودی اور مصر کے درمیان اختلافات،قاہرہ کو ریاض کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی جلدی نہیں 

ریاض

?️

سعودی اور مصر کے درمیان اختلافات،قاہرہ کو ریاض کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی جلدی نہیں
لبنانی روزنامہ الاخبار نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مصر اور سعودی عرب کے درمیان خطے سے متعلق متعدد مسائل پر شدید اختلافات جنم لے چکے ہیں، اور قاہرہ بظاہر ریاض کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں کوئی جلد بازی نہیں کر رہا۔
رپورٹ کے مطابق مصر نے قطر کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا، وہ بھی اس انداز میں کہ فلسطینی مزاحمت کو کم از کم سیاسی نقصان پہنچے۔ تاہم یہی کردار اب اسے سعودی عرب سے دور کر رہا ہے۔
منابع مصری کے مطابق سعودی عرب اور اس کا اتحادی متحدہ عرب امارات ایسی جنگ بندی چاہتے تھے جس میں مزاحمت کو زیادہ سے زیادہ دباؤ میں لایا جائے—لیکن مصر نے اس نقطۂ نظر کو قبول نہیں کیا اور بعض مراحل میں ریاض کی شمولیت کے بغیر براہِ راست مثبت پیش رفت حاصل کی۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ آتش بس سے قبل مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے پہلی بار اسرائیل کو  دشمن قرار دیا، جو سعودی پالیسی سے یکسر مختلف موقف تھا۔
الاخبار لکھتا ہے کہ ریاض اب بھی حماس کے 7 اکتوبر کے حملے طوفان الاقصی کو اس واقعہ کے طور پر دیکھتا ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ مکمل نارملائزیشن کی راہ مسدود کر دی، اور ’’توافقاتِ ابراہیم‘‘ کے تسلسل پر بھی اثر ڈالا۔
اسی دوران امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ علاقائی نارملائزیشن کو دوبارہ وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ امارات اس سلسلے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں سعودی عرب کے لیے راستہ ہموار ہو سکے۔
الاخبار کے مطابق موجودہ اختلافات محض سفارتی نہیں رہے بلکہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان اعتماد بھی کمزور ہوا ہے۔ مصری ذرائع کے بقول:السیسی، ولیعہد محمد بن سلمان کے علاقائی فیصلوں کے انداز سے ناراض ہیں۔
ریاض نے سرخ سمندر میں اپنے اہم سرمایہ کاری منصوبے روک کر مصر پر اقتصادی دباؤ بڑھایا ہے۔اس سب کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بحری سلامتی اور فوجی تعاون برقرار ہے، خاص طور پر بحیرہ احمر اور نہرِ سوئز کے تحفظ میں۔
اسی کے ساتھ مصر کا یمن کے انصاراللہ (حوثیوں) کے ساتھ مسلسل معلوماتی تعاون بھی جاری ہے، جس کا مقصد بحری آمد و رفت کو معمول پر لانا ہے۔
سوريا کے معاملے پر بھی قاہرہ اور ریاض کے درمیان بنیادی اختلاف پایا جاتا ہے۔ سعودی عرب نے بہت تیزی سے شام کی عبوری حکومت کے رہنما احمد الشرع کو بین الاقوامی سطح پر قابل اعتماد شخصیت کے طور پر آگے بڑھایا، تاہم مصر اس حوالے سے محتاط ہے۔
مصری ذرائع کے مطابق:مصر سمجھتا ہے کہ قومی فوجیں خطوں کی سیاسی استحکام کی ضمانت ہوتی ہیں۔
الشرع نے عالمی قبولیت کے لیے جو رعایتیں دیں خصوصاً اسرائیل سے متعلق وہ طویل المدت خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔
اسی لیے مصر نے سعودی کوششوں کے باوجود شام کے ساتھ کوئی سیکیورٹی ہم آہنگی قبول نہیں کی۔
لبنان کے حوالے سے بھی دونوں ملک جداگانہ نقطۂ نظر رکھتے ہیں:سعودی عرب حزب اللہ پر دباؤ ڈالنے اور ہر قیمت پر اسے غیر مسلح کرنے کا خواہاں ہے۔
مصر کا ماننا ہے کہ مسئلہ دباؤ یا دھمکی سے حل نہیں ہوگا، کیونکہ حزب اللہ کے ہتھیار کا رخ اسرائیل کی جانب ہے۔قاہرہ کے مطابق پہلے اسرائیلی خطرے کا خاتمہ اور لبنانی فوج کی مضبوطی ضروری ہے، پھر سیاسی تصفیہ ممکن ہوگا۔
سعودی عرب اور امارات ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت کر رہے ہیں، جس سے واضح اختلاف پیدا ہوا۔
ایران کے بارے میں،مصر کی جانب سے حالیہ کامیاب ثالثی—جسے ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تناؤ کم کرنے میں اہم سمجھا جاتا ہے—سعودی عرب کو پہلے سے اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کی مغربی کنارے پر بڑے حملے کی تیاری

?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں: کچھ اسرائیلی فوجی ماہرین نے مغربی کنارے میں بڑے پیمانے

صیہونیوں کا خونخوار چہرہ ایک بار پھر منظرعام پر

?️ 21 جون 2023سچ خبریں:رواں ہفتے پیر کے روز مغربی کنارے کے جنین کیمپ پر

باجوڑ پوسٹ پر حملہ کرنے والا دہشتگرد بھی افغانی نکلا، ناقابل تردید شواہد مل گئے

?️ 20 فروری 2026باجوڑ (سچ خبریں) پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا

مارچ تک پورے پنجاب کو صحت کارڈمل جائیں گے: فواد چوہدری

?️ 22 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت نےپنجاب کے ہر خاندان کو ہر سال

سعودی عرب میں حج کے لیے کورونا پر تجارتی مراکز کی سرگرمیاں جاری

?️ 18 جولائی 2021سچ خبریں:سعودی حکومت نے کورونا کے بہانے حج و عمرہ اور مذہبی

بھارت خود کو دائمی جنگ میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے تو یہ اسکی اپنی پالیسی ہے۔ شیری رحمان

?️ 5 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اگر بھارت خود

انتخابات ہائی چیک کرنے والوں کو جمہوریت پر دھبہ قرار دیا: عمران خان

?️ 22 فروری 2021اسلام آباد{سچ خبریں} سینیٹ انتخابات کے متعلق وزیر اعظم عمران خان نے

حزب اللہ لبنان کی طاقت ہے؛امریکہ غیرجانبدار ثالث نہیں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل

?️ 1 نومبر 2025سچ خبریں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے