داعش کو بنانے میں کون کون ممالک براست شامل تھے؟ ترکی کے میگزین کا انکشاف

داعش

?️

سچ خبریں: ترک میگزین یتکنز نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ اور خطے میں بعض حکومتوں کی براہ راست قیادت میں داعش کے قیام کا مقصد خطے میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو مکمل کرنا اور عوام کی نظروں میں اسلام کے عالمی امیج کو تباہ کرنا تھا۔

ہفتے کے روز ترکی کی ایک میگزین نے داعش کے عروج کے بارے میں ایک رپورٹ میں اس خوفناک دہشت گرد تنظیم کی مالی معاونت اور اسے پھیلانے میں مغربی ایشیائی خطے میں بعض مغربی ممالک اور عرب حکومتوں کے کردار کا انکشاف کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک ہی سکے کے دو رخ

ترکی کے میگزین یتکنز نے داعش کو ریاض اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے بعض اہم ممالک کی جانب سے ہتھیاروں اور مالی معاونت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس تنظیم کے اہم عناصر اور کئی ارکان پر کی گئی تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے زیادہ تر ارکان اعلیٰ افسران سابق دور حکومت میں عراقی فوج یا صدام کی انٹیلی جنس میں تھے اور یہ شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ داعش کے ارکان کی سابق عراقی بعث پارٹی سے وابستگی کس حد تک تھی۔

ترکی کی اس میگزین کے مطابق اگرچہ خلیج فارس کے ممالک مشرق وسطیٰ میں انتہا پسند سلفی اور جہادی گروپوں کی حمایت کرنے کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں جیسا کہ افغانستان اور پاکستان میں ان کی توسیع ہوئی ہے لیکن اس بات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ خطے میں بعض دیگر سیاسی حکومتیں بھی ہیں جنہوں نے شام کے بحران کے دوران پس پردہ داعش کے عناصر کی حمایت میں نمایاں کردار ادا کیا جن میں اسرائیل بھی شامل ہے، اس حد تک کہ صہیونی حکام کے مطابق، داعش کے زخمی کارندوں کا اسرائیل میں علاج کیا گیا نیز اس تنظیم نے کبھی بھی تل ابیب پر حملہ نہیں کیا،یہ ثبوت خطے میں داعش کے پھیلاؤ میں بعض غیر علاقائی حکومتوں کے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق خطے میں بعض عرب حکومتوں کے ملوث ہونے کے علاوہ، امریکی سیاستدانوں نے بارہا داعش کی تشکیل میں امریکہ کے کردار کا اعتراف کیا ہے اور یہاں تک کہ 11 ستمبر کے واقعہ کو بھی اسی ملک کی سازش قرار دیا ہے جیسا کہ ٹرمپ کی انتخابی مہموں میں اوباما اور ہلیری کلنٹن پر تنقید کے دوران سامنے آیا ہے۔

اس میگزین کے تجزیہ کار نے وضاحت کی کہ واشنگٹن اور تل ابیب کی طرف سے خوفناک داعش تنظیم کے قیام کا ایک اہم مقصد عالمی رائے عامہ کی نظروں میں اسلام کی شبیہ کو داغدار کرنا اور دریائے نیل سے فرات تک گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو مکمل کرنا تھا۔

اس میگزین کے مطابق اسرائیل نے شام پر داعش کے حملے کے بعد دہشت گردی سے لڑنے کے بہانے امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کی پروپیگنڈہ مہم شروع کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا جبکہ القاعدہ کے کرائے کے عناصر اور داعش مقبوضہ گولان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں صہیونی افسران اور نیتن یاہو کے ساتھ شانہ بشانہ رہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے شہید سلیمانی کو امریکہ کا نمبر ایک دشمن کیوں قرار دیا؟

آخر میں کینیڈین مصنف مائیکل سڈوفسکی کی تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ داعش امریکہ اور اسرائیل کے رہنماؤں کی خفیہ مالی اور فوجی مدد سے ابھری اگرچہ اس کے فریب خوردہ عناصر کو اس کے پیچھے کا علم نہیں تھا کہ اس تنظیم کی پالیسی کس نے بنائی اور اس کے پیچھے امریکی خفیہ ایجنسی ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان: بھارت کی جانب سے دشمنی کی کارروائی کی صورت میں فیصلہ کن جواب دیں گے

?️ 19 اکتوبر 2025سچ خبریں: پاکستانی فوج کے سربراہ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا

امریکہ ایران کے خلاف زمینی جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتا، ٹرمپ کے دعوے محض وہم؛ برطانوی اخبار کا انکشاف

?️ 28 مارچ 2026سچ خبریں:برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق ایران کے خلاف زمینی جنگ

عراق کی ایٹمی تنصیبات میں صیہونیوں کی تخریب کاری

?️ 16 جنوری 2023سچ خبریں:موساد کے ایک سابق انٹیلی جنس عہدیدار نے پہلی بار انکشاف

پنجاب میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے قانون میں تبدیلی کردی گئی

?️ 16 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں) پنجاب میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے قانون

آبنائے ہرمز کے متبادل راستے؛ نئی وابستگی، حتمی حل نہیں

?️ 30 اگست 2026سچ خبریں:آبنائے ہرمز کے متبادل پائپ لائن، بندرگاہ اور زمینی راستوں کا

غزہ سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد کے مسودے پر صیہونی حکومت کا رد عمل

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: اسرائیل کے جنگی وزیر یوسرائیل کاٹس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم

برازیل مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے نئے کردار کی راہ پر

?️ 21 مئی 2026سچ خبریں: جہاں مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران

تل اویو کا یمنی فوجی اہلکار کو کھانے کے دوران قتل کرنے کی ناکام کوشش

?️ 24 اگست 2025سچ خبریں: صیہونی ریاست کے میڈیا outlets نے اعتراف کیا کہ تل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے