?️
سچ خبریں: سینئر علاقائی تجزیہ کار نے حماس کو نکالنے کے لیے قطر پر امریکی اور اسرائیلی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ حماس کے رہنما اپنا دفتر فوری طور پر صنعا منتقل کریں جو فلسطین کے سب سے بڑے حامیوں میں سے ایک ہے۔
انٹر ریجنل اخبار رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر اورخطے کے اسٹریٹجک امور کے سینئر تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے ایک کالم میں لکھا ہے کہ قطر کی حکومت ان دنوں امریکہ اور صیہونی حکومت کے دباؤ میں ہے کہ وہ حماس کے ساتھ تعلقات اور دوحہ میں اس تحریک کے دفاتر کو بند کرے نیز توقع ہے کہ جنگ بندی کے مذاکرات کے نتیجے میں اور فلسطینی فریقوں اور صیہونی حکومت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں یہ دباؤ مزید بڑھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا قطر میں حماس کے دفاتر بند ہونے والے ہیں؟
اس رپورٹ کے مطابق چند روز قبل مقبوضہ علاقوں میں الجزیرہ چینل کے دفاتر کو بند کرنا بھی اسی دباؤ کا ایک حصہ ہے اور توقع ہے کہ یہ کارروائی پھیل کر غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں تک پہنچ جائے گی جس کے بعد اس چینل کے نامہ نگاروں کو غزہ کی پٹی میں سرگرم دیگر 145 صحافیوں کی طرح صیہونی حکومت کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا۔
عطوان کا مزید کہنا ہے کہ فلسطین سے باہر حماس تحریک کے ایک رہنما نے اردن کی اسلامی شخصیات کے ایک محدود گروپ کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ قطر حماس اور اسرائیل کے درمیان ثالثی پر نظر ثانی کر رہا ہے اور اس نظرثانی کے نتائج یہ ہو سکتے ہیں کہ دوحہ امریکہ اور اسرائیل کے زیر اثر حماس کو باضابطہ طور پر اپنے دفاتر کو اس ملک سے باہر منتقل کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔
ساتھ ہی حماس کے اس عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی کوئی سرکاری درخواست ابھی تک حماس کو موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم حماس نے تمام آپشنز کا جائزہ لیا ہے اور ممکنہ متبادل دارالحکومتوں کے ساتھ رابطے کیے ہیں، تاہم اس سلسلے میں صنعاء سب سے زیادہ ممکنہ اور بہترین دارالحکومتوں میں سے ایک لگتا ہے۔
عطوان نے کہا کہ یمن کی تحریک انصار اللہ کے رہنماوں میں سے ایک محمد البخیتی نے X سائٹ پر لکھا ہے کہ صنعا ، عبدالملک الحوثی اور یمن کے عوام حماس تحریک کا اس ملک میں خیرمقدم کرتے ہیں کیونکہ دونوں قومیں ایک جیسی ہیں اور یمن کی سلامتی فلسطین کی سلامتی کا حصہ ہے۔
سینئر علاقائی تجزیہ کار نے صنعاء میں پانے والے عدم تحفظ کے بارے میں بعض شکوک و شبہات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ صنعاء اس وقت اور مستقبل میں بھی محفوظ ترین اور مستحکم عرب دارالحکومتوں میں سے ایک ہے اور اس کے باوجود بحیرہ احمر، خلیج عدن اور بحر ہند میں اسرائیلی بحری جہازوں اور انگریزوں کے خلاف یمنی بحریہ کی جنگ کے بعد اس شہر کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
اس دعوے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے وہ مزید کہتے ہیں کہ قابض اسرائیلیوں نے اپنے جدید ہتھیاروں اور فوجی بیڑے، جس میں ڈرون اور لیس آبدوزیں بھی شامل ہیں، کے باوجود کبھی بھی یمنی حملوں یا ایلات کی بندرگاہ پر میزائل حملوں کا جواب دینے کی جرأت نہیں کی،انہوں نے یمن کی طرف ایک گولی بھی نہیں چلائی اس لیے کہ وہ یمنیوں کے ساتھ طویل المدتی جنگ میں داخل ہونے سے خوفزدہ ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکہ نے حماس کے رہنماؤں کے بارے میں قطر سے کیا مطالبہ کیا ہے؟
عطوان نے کہا کہ یمن کی حکومت اور عوام حماس کے اچھے میزبان اور عظیم حامی ہو سکتے ہیں،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اس ملک میں اپنی مرضی سے جانا چاہتے ہیں یا قطر پر امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کے تحت ایسا کرتے ہیں، وہ حماس کے رہنماؤں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنا دفتر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے صنعاء منتقل کریں اور کسی اقدام کا انتظار نہ کریں، کیونکہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے یمنی عوام اور رہنماؤں کا عزم کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
پچھلے سال پاکستان کے لئے سب سے خطرناک ملک کون سا رہا؟
?️ 1 جنوری 2024سچ خبریں:پاکستانی میڈیا نے ملکی سیکورٹی فورسز کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ
جنوری
عبرانی میڈیا: اسرائیل کی ہزاروں زخمی اور ذہنی طور پر تباہ شدہ فوجیوں کے ساتھ جنگ ابھی شروع ہوئی ہے
?️ 16 دسمبر 2025سچ خبریں: ایک عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے جنگ کے بعد
دسمبر
پارلیمنٹ ہاؤس میں مہمانوں،سیکیورٹی گارڈز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی
?️ 13 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) سیکیورٹی کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں مہمانوں
جولائی
صیہونی انتہا پسند وزیر کی نیتن یاہو کو بھی دھمکی
?️ 31 اکتوبر 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر برائے داخلی سلامتی نے ایک بار پھر
اکتوبر
ممنوعہ فندنگ کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج
?️ 10 اگست 2022 اسلام آباد: (سچ خبریں)پاکستان تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں
اگست
غزہ جنگ کے نتیجے میں اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ
?️ 1 دسمبر 2023سچ خبریں:امریکی ذرایع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے خبردار
دسمبر
معاہدے کی تکمیل کیلئے دیگرشراکت داروں سے یقین دہانی ’ضروری‘ ہے، آئی ایم ایف
?️ 25 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے
مارچ
2021 اور سعودی عرب کی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں مایوسی
?️ 9 جنوری 2022سچ خبریں: جو بائیڈن کے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے بعد
جنوری