حزب اللہ کا 7 اکتوبر اسرائیل کے لیے کیسا رہا؟

حزب اللہ

?️

سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے حالیہ حملوں کو ایک اور 7 اکتوبر قرار دیا اور کہا کہ تل ابیب کو ان حملوں کے خلاف کوئی روک نہیں ہے۔

صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے حالیہ دنوں میں مقبوضہ علاقوں کے شمال میں مختلف ٹھکانوں کے خلاف حزب اللہ کی کارروائیوں کو غزہ کی پٹی کے سرحدی علاقوں کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی 7 اکتوبر کی کارروائی سے تشبیہ دی اور کہا کہ حزب اللہ نے اس علاقے میں بے مثال، جرات مندانہ اور جدید حملے کیے ہیں جب کہ لبنان پر اسرائیل کے حملوں میں کمی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صیہونی حزب اللہ سے کیوں ڈرتے ہیں؟

صیہونی ٹی وی چینل 10 کے بین الاقوامی نیوز سیکشن کے ڈائریکٹر زیف روبینسٹائن نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ صیہونی کابینہ ، سیکورٹی اور عسکری ادارے شمالی اسرائیل کی صورتحال کے بارے میں کوئی رائے نہیں رکھتے جبکہ اس وقت شمالی محاذ میں 7 اکتوبر کو دہرایا جا رہا ہے۔

روبینسٹائن نے مزید کہا کہ حزب اللہ نے حالیہ دنوں میں اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے اور اسرائیل کے ایک مشاہداتی بیلون کو تباہ کیا ہے نیز صیہونی فوجی اڈوں اور بستیوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس تنظیم کے ڈرون اور جاسوس طیارے بھی اسرائیل کے آسمانوں میں موجود ہیں۔

صیہونی حکومت کے ٹی وی کے چینل 13 نے خبر دی ہے کہ حزب اللہ نے حالیہ ہفتوں میں اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے اور وہ ان حملوں کو بے مثال انداز میں زیادہ دلیری اور زیادہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انجام دے رہی ہے۔

اس صہیونی چینل نے اس بات پر زور دیا کہ حزب اللہ کے خلاف کوئی روک نہیں ہے جبکہ پچھلے مہینے میں اسرائیلیوں کو بہت سے انسانی نقصانات پہنچے ہیں جو حزب اللہ کے انسانی نقصانات سے زیادہ ہیں۔

Yediot Aharonot نے مقبوضہ علاقوں کے شمال سے دسیوں ہزار صہیونی آباد کاروں کی نقل مکانی کی ایک نئی لہر کی طرف بھی اشارہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ رجحان اسرائیل کی صورت حال کا مقابلہ کرنے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے جو اسرائیل کے لیے نہایت ہی شرمناک ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں اسرائیل کی ایک اور ناکامی

اس صہیونی اخبار نے صہیونی معاشرے کی تباہی اور صہیونیوں میں انتشار کے احساس کے بارے میں بات کی اور تاکید کی کہ اسرائیلی معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا صحیح اندازہ لگانے اور اس کی تلافی ہونے نیز کابینہ اور آباد کاروں کے درمیان بداعتمادی کے بحران کو دور کرنے میں کئی سال لگیں گے۔

مشہور خبریں۔

علی ظفر بھی شعیب اختر کا ساتھ دینے میدان میں آگئے

?️ 28 اکتوبر 2021کراچی (سچ خبریں)پی ٹی وی اسپورٹس پر شو”گیم آن ہے”کے میزبان نعمان

امریکہ کو جوہری مذاکرات کے لیے فورا سیاسی فیصلہ کرنا ہوگا: بیجنگ

?️ 9 اگست 2022سچ خبریں:    ویانا میں چین کے مستقل ٹویٹر کے نمائندے نے

نیتن یاہو کی کابینہ کے خلاف بغاوت

?️ 21 جولائی 2023سچ خبریں:عدالتی نظام میں اصلاحات کے کابینہ کے منصوبے کا دفاع کرتے

صیہونی شہریوں نے نیتن یاہو کو کیسے الوداع کہا؟

?️ 19 ستمبر 2023سچ خبریں: صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی عدالتی پالیسیوں کے

فلسطین کے بارے میں اسپین کی یورپی ممالک سے اپیل

?️ 14 جون 2024سچ خبریں: اسپین کے وزیر اعظم نے یورپی ممالک سے درخواست کی

سابق حکمرانوں اور حواریوں نے بجلی کے بحران پر کوئی توجہ نہیں دی:وزیراعظم

?️ 16 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم  نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے

غزہ کے ہسپتالوں اور امدادی کارکنوں کے درمیان رابطہ منقطع

?️ 11 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ کے ہسپتالوں اور امدادی دستوں کے درمیان رابطہ منقطع

ملک کی ترقی کے لئے سودی نظام کو ختم کرنا ہوگا

?️ 27 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کےمطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے