بعض مغربی ممالک فلسطینیوں کی حمایت میں عربی حکومتوں سے بہت آگے ہیں: یمن

بعض مغربی ممالک فلسطینیوں کی حمایت

?️

سچ خبریں: یمن کی انصاراللہ تحریک کے رہنما نے بعض عرب حکومتوں کے کمزور موقف پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ یورپی ممالک کا صہیونی مخالف موقف عرب حکومتوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔

المسیرة نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق یمنی انصار اللہ کے رہنما سید عبدالملک الحوثی نے غزہ کی حالیہ صورتحال اور خطے کے حالات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی دشمن فلسطینی عوام کے خلاف اپنی وحشیانہ جارحیت دنیا کے سامنے جاری رکھے ہوئے ہے، دنیا اسرائیلیوں کی جانب سے رفح میں غیر مسلح پناہ گزینوں پر جان بوجھ کر کیے گئے وحشیانہ حملوں کی گواہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ رفح کا وہ علاقہ جسے صہیونی حکومت نے پہلے محفوظ قرار دیا تھا، پناہ گزین فلسطینیوں کو رات کے وقت امریکی ساختہ سات بموں سے نشانہ بنایا گیا، جن میں سے ہر بم کا وزن تقریباً ایک ٹن تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عربی مشہور اخباروں کا عرب ممالک کو ایران کے بارے میں مشورہ

الحوثی نے مزید کہا کہ اس حادثے کے زیادہ تر شہداء خواتین اور بچے تھے اور دھماکوں کی شدت کی وجہ سے شہداء کی لاشیں بکھر گئیں۔

انصاراللہ کے رہنما نے زور دیا کہ صہیونی حکومت کے یہ جرائم امریکہ اور برطانیہ کی حمایت سے انجام پا رہے ہیں اور یہ ممالک اپنے دشمنانہ عزائم کو ظاہر کر رہے ہیں جو عالمی برادری کے لیے خطرہ ہیں، بدقسمتی سے، کچھ عرب حکومتیں بھی اس راہ میں امریکہ کا ساتھ دے رہی ہیں۔

عبدالملک الحوثی نے کہا کہ صہیونی دشمن نے پہلے دن سے ہی فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی اور جرائم کا ارتکاب کیا ہے جبکہ عرب حکومتیں ہمیشہ کی طرح حقائق کو الٹ کر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اپنے تعلیمی نظام اور میڈیا میں صہیونی حکومت کو بے قصور دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔

انہوں نے صہیونی حکومت کے جرائم کو صہیونیوں کے نظریے اور عقائد کا لازمی حصہ قرار دیا اور کہا کہ صہیونی دوسرے انسانی معاشروں کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

انصاراللہ کے رہنما نے کہا کہ صہیونی دشمن کے تمام جرائم امریکی بموں اور سیاسی حمایت کے ساتھ کیے جاتے ہیں اور واشنگٹن غزہ پر حملے کو روکنے کے لیے کسی بھی پابند قرارداد کے اجرا کی مخالفت کرتا ہے۔

الحوثی نے کہا کہ صہیونی حکومت کے جرائم کے ساتھ جاری ہونے والے بے فائدہ بیانات کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ کچھ عرب حکومتیں تو صہیونی حکومت کے جرائم کی مذمت میں بیان بھی جاری نہیں کرتی ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کچھ مغربی حکومتوں نے صہیونی دشمن کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لیے ہیں اور ان کا موقف بہت سے اسلامی اور عرب ممالک سے زیادہ مضبوط ہے، جبکہ افسوس کی بات ہے کہ کچھ عرب حکومتیں اب بھی صہیونی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انصاراللہ کے رہنما نے امریکہ اور یورپ میں طلباء کے احتجاج کو مفید اور مؤثر قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور وسیع ہوگا۔

مزید پڑھیں: مصر میں فلسطینیوں کے حامی طلبہ کا قیام

الحوثی نے کہا کہ صہیونی دشمن کو مصر کے ساتھ اقتصادی تعلقات سے کافی فائدہ پہنچ رہا ہے اور مصری جہاز اب بھی اسرائیل کے لیے بڑی تعداد میں سامان ترسیل کر رہے ہیں،مصر کو چاہیے کہ وہ کم از کم صہیونی دشمن کے ساتھ اقتصادی تعلقات منقطع کرنے جیسے جرات مندانہ اقدامات کرے، اگر مصر ایسا کرتا ہے تو وہ عوام کی حمایت حاصل کرے گا اور یمن کی حکومت بھی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

مشہور خبریں۔

اسرائیلی حکومت کا ایک اور سکینڈل سامنے آگیا

?️ 8 ستمبر 2025اسرائیلی حکومت کا ایک اور سکینڈل سامنے آگیا اسرائیلی اخبار یسرائیل ہیوم

12 سال اور زائد عمر کے بچوں کی ویکسی نیشن کا فیصلہ کیا گیا ہے

?️ 29 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے

صیہونی جارحیت میں شدت کے ساتھ لبنان پر امریکی سیاسی دباؤ میں اضافہ

?️ 8 نومبر 2025سچ خبریں: اسرائیل کی دھمکیوں اور جارحیت میں شدت کے ساتھ ساتھ

دوحہ مذاکرات | مزاحمت کی ذہین پوزیشن پر نیا صیہونی دھوکہ

?️ 14 جولائی 2025سچ خبریں: دوحہ مذاکرات سے واقف ذرائع نے اس بات کی طرف

کسی بھی گروہ کو  دہشت پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے: عثمان بزدار

?️ 18 جولائی 2021لاہور(سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی

ایران کا ٹکڑے ٹکڑے ہونا اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے:وال اسٹریٹ جرنل

?️ 17 جنوری 2026سچ خبریں:امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے

پنجاب کو باہر کی امداد کی ضرورت نہیں تو ہمیں دیں۔ فیصل کریم کنڈی

?️ 5 اکتوبر 2025پشاور (سچ خبریں) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پنجاب

غزہ کی صورتحال ایک اخلاقی اور افسوسناک المیہ ہے:امریکی سینیٹر

?️ 31 جولائی 2025غزہ کی صورتحال ایک اخلاقی اور افسوسناک المیہ ہے امریکی سینیٹر برایان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے