برطانیہ میں غزہ پر اجلاس, تعمیرِ نو یا سیاسی دکھاوا؟

برطانیہ

?️

برطانیہ میں غزہ پر اجلاس, تعمیرِ نو یا سیاسی دکھاوا؟
 برطانیہ کی حکومت نے غزہ کے مستقبل پر ایک بین الاقوامی اجلاس کی میزبانی کرتے ہوئے کوشش کی ہے کہ تانکہ وہ دو سال کی غیر فعال اور بیانیہ تک محدود پالیسی کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا سیاسی کردار حاصل کرے اور جنگِ غزہ کے دوران متاثرہ ساکھ کو بہتر بنائے۔
یہ تین روزہ اجلاس پیر کو دوپہر سے ویلٹن پارک میں شروع ہوا، جو وزارتِ خارجہِ برطانیہ کے زیرِ انتظام ایک سفارتی مرکز ہے۔ اجلاس کا مرکزی موضوع غزہ کی تعمیرِ نو اور مستقبل کی حکمرانی کا نقشہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس میں فلسطینی اتھارٹی، اردن، مصر، جرمنی، اٹلی، یورپی یونین، عالمی بینک اور یورپی بینک برائے تعمیر و ترقی کے نمائندے شریک ہیں۔ تمام مذاکرات بند دروازوں کے پیچھے، میڈیا کی غیر موجودگی میں ہو رہے ہیں۔
یہ اجلاس دراصل یورپ کی اس تازہ کوشش کا تسلسل ہے جس کا مقصد غزہ کے بحران میں اپنا کردار ازسرِنو متعین کرنا ہے۔ ایک ہفتہ قبل پیرس میں فرانس نے اسی نوعیت کا اجلاس منعقد کیا تھا جو انسانی امداد اور جنگ بندی پر مرکوز تھا، لیکن مبصرین کے مطابق اس کا کوئی عملی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اب لندن اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کوشش کر رہا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے میں قائدانہ کردار دکھائے اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی سیاسی حیثیت دوبارہ قائم کرے۔
برطانوی وزارتِ خارجہ نے اجلاس سے قبل اعلان کیا کہ وہ غزہ میں پانی، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے منصوبوں کے لیے ۲۰ ملین پاؤنڈ فراہم کرے گا۔ یہ امداد یونیسف، عالمی ادارہ خوراک اور نارویجین ریفیوجی کونسل کے ذریعے خرچ کی جائے گی۔ برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق، یہ اقدام لندن کی اس "رہنما کردار” کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو وہ غزہ کی تعمیرِ نو اور شہری اداروں کے قیام میں ادا کرنا چاہتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ لندن کا منصوبہ ابھی غیر واضح ہے اور اس میں فلسطینی گروہوں کے کردار کے بارے میں کئی ابہامات موجود ہیں۔ ڈچ تھنک ٹینک کلنگینڈیل کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایسے منصوبے جو صرف تعمیراتی پہلوؤں یا بالادست پالیسیوں تک محدود ہوں اور مقامی شراکت کو نظرانداز کریں، وہ پائیدار نتائج نہیں دیتے بلکہ مزید انحصار اور ناکامی کو جنم دیتے ہیں۔
سائنس جرنل نیچر نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطینی انجینئرز اور ماہرینِ تعلیم کو منصوبہ بندی اور نگرانی کے عمل میں شامل کیا جانا چاہیے، ورنہ تعمیرِ نو کی یہ کوشش محض دکھاوا بن کر رہ جائے گی۔
برطانیہ کے اندر بھی بعض اخبارات جیسے ٹائمز اور ٹیلیگراف نے اس اقدام کو مشکوک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، کیئر اسٹارمر کی حکومت دراصل مشرقِ وسطیٰ میں کھویا ہوا اثر و رسوخ واپس پانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مالی و سیاسی تفصیلات پر اتحادیوں سے کوئی واضح اتفاق نہیں ہوا۔
دوسری جانب یورپ میں فلسطینی حامی گروہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ کی تعمیرِ نو میں مزاحمتی تحریکوں اور مقامی نمائندوں کو شامل نہ کیا گیا تو یہ عمل غیر معتبر اور عارضی ثابت ہوگا۔ لندن میں ہونے والے مظاہروں میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ حکومت "باہر سے تعمیرِ نو” کی بجائے "اندر سے مضبوطی” پر توجہ دے۔
سیاسی مبصرین کے نزدیک، برطانوی اقدام بظاہر تعمیرِ نو کا منصوبہ ضرور ہے، لیکن اس کا اصل مقصد مغربی دنیا کی کمزور ساکھ اور لندن کی ڈگمگاتی سفارتی حیثیت کو بحال کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک فلسطینی عوام کے حقیقی نمائندوں کو شامل نہیں کیا جاتا اور مالیاتی نظام شفاف نہیں بنتا، کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔
اسی لیے تجزیہ نگاروں کے مطابق، ویلٹن پارک اجلاس اگرچہ برطانیہ کے لیے علامتی طور پر اہم ہے، مگر عملی طور پر یہ زیادہ تر ایک سیاسی تاثر سازی ہے نہ کہ غزہ کی حقیقی تعمیرِ نو کا آغاز۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کا جنوبی ایشیا میں جوہری جنگ کے خطرے سے متعلق انتباہ

?️ 3 دسمبر 2025سچ خبریں: پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے

طورخم بارڈر کی بندش سے تاجروں، ٹرانسپورٹرز کی مشکلات میں اضافہ

?️ 24 فروری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاک افغان طورخم بارڈر کی مسلسل پانچویں روز بھی

پی اے سی کی مختلف وزارتوں میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی

?️ 21 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے 58

دہشتگردی پر ہمارا مؤقف واضح، سب کو متحد ہونا ہوگا۔ رانا ثناءاللہ

?️ 2 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء

ٹرمپ ایران جنگ میں پیچھے ہٹ گئے؛ امریکی رکن کانگریس کا بیان   

?️ 8 اپریل 2026سچ خبریں:امریکی رکن کانگریس رو کھنہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی

رفح کراسنگ کا کنٹرول کس کے پاس رہے گا؟!صیہونی ذرائع ابلاغ

?️ 8 مئی 2024سچ خبریں: صہیونی میڈیا نے رفح کراسنگ کے انتظام کے حوالے سے

یوکرین بحران اور مشرق وسطیٰ کی مساوات پر اس کے اثرات

?️ 9 مارچ 2022سچ خبریں:   یوکرین کے بحران کے حوالے سے، یہاں تک پہنچنے کی

قاہرہ: امریکا نے غزہ جنگ کی حمایت کردی، جنگ بندی نہیں ہوگی

?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: مصری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے