?️
برطانیہ میں خواتین کی سلامتی کا سنگین بحران بے نقاب
برطانیہ، جو خود کو انسانی حقوق کا علَم بردار کہتا ہے، ایک نئے سرکاری رپورٹ کے مطابق خواتین کے لیے شدید ناامن ملک بنتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ برطانوی خواتین سڑکوں، سرکاری مقامات اور ٹرانسپورٹ میں جنسی ہراسانی اور تشدد کے تشویشناک خطرات سے دوچار ہیں، جبکہ پولیس اور عدالتی نظام ان جرائم کی روک تھام اور کارروائی میں سنگین کمزوریوں کا شکار ہیں۔
یہ تحقیق انجیولینی رپورٹ کا حصہ ہے جو معروف اسکاٹش قانون دان الیش انجیولینی کی سربراہی میں اس وقت شروع ہوئی جب 2021 میں لندن میں ایک خاتون سارا اورارڈ کو میٹروپولیٹن پولیس کے ایک افسر وین کزنز نے اغوا، زیادتی اور قتل کر دیا تھا۔ رپورٹ کا دوسرا حصہ، جو 11 آذر 1404 کو جاری ہوا، برطانیہ میں عوامی مقامات پر خواتین کی عدمِ سلامتی کی گہرائی کو بے نقاب کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر سال ہر ۲۰ میں سے ایک بالغ شخص ’’خواتین و لڑکیوں کے خلاف تشدد‘‘ جیسے جرائم میں ملوث پایا جاتا ہے، اور ہر ۱۲ میں سے کم از کم ایک خاتون اپنی زندگی میں کسی نہ کسی شکل کے جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ لیکن رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اصلی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ پولیس کا ڈیٹا نامکمل اور غیر قابلِ اعتماد ہے۔
سال 2022–2023 میں روزانہ اوسطاً 2,959 جنسی جرائم پولیس میں رپورٹ ہوئے، تاہم رپورٹ نہ ہونے والے کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ انجیولینی کے مطابق، یہاں تک کہ یہ بھی معلوم نہیں کہ گزشتہ سال کتنی خواتین کو عوامی مقامات پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور یہی خلا پالیسی سازی کے لیے خطرناک ہے۔
رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی لاکھوں خواتین روزمرہ زندگی میں راستے بدلنے، مقام کی لوکیشن شیئر کرنے، رات کے وقت سفر سے گریز کرنے اور ٹرانسپورٹ کے استعمال میں خاص احتیاط برتنے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق 71 فیصد خواتین نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار عوامی جگہ پر جنسی ہراسانی یا تشدد کا تجربہ کر چکی ہیں۔
میڈیا کے مطابق نوجوان خواتین میں یہ خوف سب سے زیادہ ہے، جہاں 87 فیصد لڑکیاں (18 تا 24 سال) خود کو عوامی مقامات پر غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔
رپورٹ واضح کرتی ہے کہ افسروں کے ماضی میں موجود مشکوک جنسی رویوں کو اکثر نظر انداز کیا گیا، جس کے باعث وین کزنز اور 2023 میں سزا پانے والے دوسرے افسر ڈیوڈ کیرِک جیسے واقعات رونما ہوئے۔ انجیولینی کا کہنا ہے کہ پولیس کے اندرونی احتسابی نظام، تربیت اور نگرانی میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔
یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملک کے ایک چوتھائی پولیس دستوں نے اب تک جنسی جرائم کی تحقیقات کے لیے بنیادی پالیسی بھی مکمل طور پر نافذ نہیں کی۔
رپورٹ کہتی ہے کہ کچھ شہروں میں روشنیاں بڑھانے، سی سی ٹی وی، خصوصی تربیت یافتہ کتوں اور فوری رپورٹنگ ایپس جیسے اقدامات کیے گئے، لیکن یہ سب بکھرے ہوئے، وقتی اور غیر مربوط ہیں۔
قتلِ سارا اورارڈ کے بعد وعدہ کیے گئے کئی قومی اصلاحات ابھی تک مکمل نہیں ہو سکیں۔
انجیولینی بتاتی ہیں کہ نیشنل سٹریٹیجک ڈاکیومنٹس تو بن گئے، مگر مستقل بجٹ، مضبوط سیاسی ارادہ اور مربوط حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اصل تبدیلی نہیں آ سکی۔
رپورٹ کے مطابق درست ڈیٹا نہ ہونے کے باعث حکومت اور پولیس مناسب سرمایہ کاری نہیں کر پاتے، جبکہ بجٹ کی کمی سے مقامی پروجیکٹس آدھے میں چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ یہ صورتحال ایک خطرناک دور پیدا کر رہی ہے جہاں مسئلہ موجود بھی ہے اور نظر بھی نہیں آتا۔
اگرچہ برطانوی حکومت نے آئندہ دس برس میں خواتین کے خلاف تشدد کو نصف کرنے کا ہدف رکھا ہے، مگر انجیولینی کے مطابق یہ ہدف محض نعرہ رہے گا جب تک واضح اختیارات، مستقل فنڈنگ اور اداروں میں عملی ہم آہنگی پیدا نہ کی جائے۔
رپورٹ کے آخر میں انجیولینی خبردار کرتی ہیں کہ جب تک خواتین کے خلاف تشدد کی جڑوں کو سمجھ کر حقیقی ترجیح نہ دی جائے، ’’سارا اورارڈ‘‘ جیسے سانحات اور روزمرہ آزار کا سلسلہ جاری رہے گا۔
یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب برطانیہ عالمی سطح پر حقوقِ خواتین کے نام پر دوسرے ممالک سے سخت مطالبات کرتا ہے۔ لیکن یہ سرکاری دستاویز ایک بار پھر یاد دلاتی ہے کہ انسانی حقوق کی چمکدار ویترین کے پیچھے برطانیہ میں خواتین کی سلامتی کا بحران مسلسل گہرا ہو رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
بھارت پاکستان کا پانی روکنا چاہتا ہے جو کبھی نہیں ہوسکتا۔ وزیراعظم
?️ 28 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت
مئی
ایکسوس: اسرائیل حماس کے خلاف اپنی پوزیشن کو ایڈجسٹ کرنا چاہتا ہے
?️ 1 جولائی 2025سچ خبریں: ایکسوس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے
جولائی
امریکی جاسوس غبارہ شام کے الحسکہ پر اڑتا ہوا
?️ 3 اگست 2022سچ خبریں: اپنے اڈوں اور فوجی قافلوں کی حفاظت کو یقینی بنانے
اگست
سعودی عرب کی لڑاکا طیارے منصوبے میں شرکت کی وجہ؟
?️ 21 اگست 2023سچ خبریں:اتوار کو ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب کی جانب سے ایک
اگست
کیڈٹ کالج وانا پر حملہ بارے وزارت اطلاعات و نشریات کا بیان جاری
?️ 13 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گردوں کی جانب
نومبر
اسکولوں میں 11 اکتوبر سے مستقل کلاسز کے آغاز کا اعلان
?️ 8 اکتوبر 2021لاہور(سچ خبریں)تعلیمی اداروں پر 50 فیصد طلباء بلانے کی پابندی ختم کرتے
اکتوبر
لاپتہ افراد کے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکومت کو نوٹس
?️ 21 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس
دسمبر
آئی ایم ایف کو وقت پر انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے تحفظات تھے، سلیم مانڈوی والا
?️ 23 جولائی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر سلیم مانڈوی
جولائی