ایرانی سائنسدانوں کے خلاف موساد کی پوشیدہ جنگ کی رپورٹ

موساد

?️

سچ خبریں:گیارہ سال قبل ٹھیک 21 جنوری 1390 کو ایران کے ایٹمی سائنسداں مصطفی احمدی روشن تہران میں صبح ساڑھے 8 بجے اپنے گھر سے نکلنے کے بعد ایک بم دھماکہ میں قتل کر دیے گیے۔

وہ شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے 2001 میں کیمیکل انجینئرنگ بیچلر کا طالب علم تھے۔ ماجد شہریاری اور مسعود علی محمدی کے بعد وہ تیسرے سائنسدان تھے جنہیں تہران میں اس طرح قتل کیا گیا۔

رشیا الیوم نیٹ ورک کی ویب سائٹ نے غیر مرئی جنگ کے سب سے اہم ایرانی شہیدوں کے پیچھے کون ہے؟ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں ایرانی ایٹمی سائنسدان کے قتل کی برسی کے بہانے اس نے ایرانی ایٹمی سائنسدانوں کے قتل میں موساد کے کردار کے بارے میں لکھا۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصطفی احمدی روشن ایک کیمیکل انجینئرNatanz یورینیم افزودگی کی سہولیات کے نگرانوں میں سے ایک اور گیس کی علیحدگی کے لیے پولیمر جھلیوں کی تیاری کے ماہر ہیں جو یورینیم کی افزودگی کے عمل میں ایک اہم تکنیک ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اس جرم کا ارتکاب کرنے والا فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور ماہرین نے اعلان کیا کہ یہ قتل ایک کنٹرولڈ انداز میں کیا گیا اور جو بھی اس کے پیچھے تھا اس کے پاس علاقے کے بارے میں اچھی معلومات تھیں اور اس کے پیچھے موساد کا ہاتھ تھا۔

رشیا الیوم کے مطابق بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک خفیہ آپریشن کے تناظر میں ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کا قتل 24 جنوری 2007 کو اس وقت شروع ہوا جب 44 سالہ اردشیر حسین پور، شیراز یونیورسٹی کے پروفیسر اور جوہری توانائی کے شعبے میں اپنی تحقیق کے لیے اہم ایوارڈ حاصل کرنے والے کی پراسرار حالات میں موت ہو گئی اور بعض سرکاری ذرائع نے اعلان کیا کہ اس ایرانی سائنسدان کو نامعلوم گیس سے زہر دیا گیا تھا اور اس کارروائی کے پیچھے موساد کا ہاتھ تھا۔

اس بنا پر یہ ایرانی سائنسدان نیوکلیئر الیکٹرومیگنیٹک اسٹڈیز سینٹر کا انچارج تھا جو 2005 میں قائم کیا گیا تھا۔ ان کا شمار اصفہان نیوکلیئر ریسرچ سینٹر کے بانیوں میں ہوتا ہے اور انہیں ایران کی میزائل انڈسٹری کے جینئس کے طور پر بھی جانا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ایرانی میزائل ماڈلز کے ڈیزائن میں ان کا نمایاں کردار تھا۔

اس رپورٹ کے تسلسل میں بتایا گیا ہے کہ اس نادیدہ جنگ کا دوسرا شکار جس کے پیچھے اکثر تجزیہ نگاروں اور سیاسی مبصرین کے مطابق موساد کا ہاتھ ہے12 جنوری 2010 کو شہید ہوا وہ تہران یونیورسٹی اور امام حسین (ع) یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر مسعود علی محمدی تھے۔

رپورٹ کے مطابق جبکہ ایرانی میڈیا نے رضائی نژاد کو جوہری اور نیوٹران فزکس کے ماہر کے طور پر متعارف کرایا دوسرے میڈیا نے ایران کے جوہری پروگرام سے کسی بھی تعلق کی تردید کی اور نشاندہی کی کہ اس نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور نیشنل سیکیورٹی ریسرچ سینٹر میں کام کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

میں ہر مثبت اور تعمیری کام میں کردار کے لیے تیار ہوں۔ چوہدری شجاعت

?️ 23 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے

 عالمی عدالتِ انصاف نے اپنے تاریخی فیصلے میں اسرائیل کے خلاف کیا کہا؟

?️ 24 اکتوبر 2025 عالمی عدالتِ انصاف نے اپنے تاریخی فیصلے میں اسرائیل کے خلاف کیا

عمران خان آئی ایم ایف پروگرام بحالی ناکام بنانے کی کوشش کر رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف

?️ 12 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی

یمن کے خلاف امریکی بحری اتحاد میں بحرین کی شرکت 

?️ 21 دسمبر 2023سچ خبریں:بحرینی سیکورٹی فورسز نے سیاسی احتجاجی کارکن ابراہیم شریف کو گرفتار

ماضی سے عبرت حاصل کریں؛ایرانی صدر کا امریکہ سے خطاب

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:ایران کے صدر نے امریکی حکام کو مخاطب قرار دیتے ہوئے

میدان جنگ میں کسی خیال کو تباہ نہیں کیا جاسکتا

?️ 14 دسمبر 2023سچ خبریں: امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بدھ کی شام کہا کہ

بانی پی ٹی آئی کو دہشت گردوں کا سہولت کار سمجھتا ہوں۔ میاں جاوید لطیف

?️ 7 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) رہنما مسلم لیگ ن میاں جاوید لطیف نے کہا

ترکی میں 2026 اجرت کی شرح پر وسیع مایوسی

?️ 24 دسمبر 2025سچ خبریں: مزدور یونین کے نمائندوں نے 2026 کے لیے اجرت کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے