امریکہ میں زبردست احتجاج؛ جنوب میں ایک چنگاری، پورے ملک میں آگ

امریکہ

?️

سچ خبریں: امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف تازہ ترین احتجاجی لہر نے ملک بھر میں سیاسی اور سماجی بحران پیدا کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امیگرنٹس، پناہ گزینوں اور غیر دستاویزی شہریوں کے خلاف سخت گیر اقدامات کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
گزشتہ تین دنوں میں امریکہ کے بڑے شہروں بالخصوص لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے، جس کے بعد سیکورٹی فورسز کی جانب سے سینکڑوں مظاہرین کی گرفتاریاں اور نیشنل گارڈ کی تعیناتی عمل میں آئی۔
ٹرمپ کی دوسری مدت اور امیگریشن پالیسیوں کی واپسی
جنوری 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری صدارتی مدت شروع ہونے کے بعد، امیگریشن ایک بار پھر وفاقی پالیسی کا مرکز بن گیا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے 2016 کے سخت گیر نعروں کو دہراتے ہوئے امیگرنٹس کے خلاف نئی پالیسیز متعارف کروائی ہیں۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی (DHS) نے "شہری صفائی” کے نام سے ایک نیا پلان پیش کیا ہے، جس کے تحت امیگریشن اہلکاروں کو غیر دستاویزی تارکین وطن کو گھروں، کام کی جگہوں اور یہاں تک کہ میونسپل عمارتوں سے گرفتار کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، "تیزرفتار اخراج” (Expedited Removal) کی پالیسی کو بھی بحال کیا گیا ہے، جس کے تحت امیگرنٹس کو کورٹ کے بغیر ہی چند دنوں میں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ 2025 میں ایک اور ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس میں مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر پابندیاں مزید سخت کر دی گئیں۔ اس اقدام نے نہ صرف نئے امیگرنٹس کے داخلے کو محدود کیا بلکہ زیر التوا کیسز کو بھی معطل کر دیا۔
جنوب سے شروع ہونے والی چنگاری، پورے ملک میں آگ
5 جون 2025 کو ٹیکساس کے سرحدی شہر ایل پاسو میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں ICE اہلکاروں نے ایک غیر دستاویزی ماں کو اس کے چھوٹے بچے کے سامنے تشدد کے ساتھ گرفتار کیا۔ اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا، جس کے بعد آسٹن، ڈینور اور شکاگو سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔
مظاہرین کے نعروں میں "امیگریشن جرم نہیں”، "نہیں امتیازی پالیسیوں کو”، اور "امریکہ سب کا گھر ہے” شامل تھے۔ لاس اینجلس، نیویارک، فلاڈیلفیا اور سان فرانسسکو میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا، جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
احتجاج سے فوجی مداخلت تک 
لاس اینجلس میں حالات اس حد تک کشیدہ ہو گئے کہ کیلیفورنیا کے گورنر نے نیشنل گارڈ کو طلب کر لیا۔ رپورٹس کے مطابق، سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں 270 سے زائد افراد گرفتار اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
اس فوجی مداخلت پر سیاسی رہنماؤں اور میڈیا نے شدید تنقید کی۔ ڈیموکریٹک رہنما الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مظاہرین کو کچلنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال، امریکہ کے تاریک ترین لمحات کی یاد دلاتا ہے۔
سیاسی اور انتخابی اثرات
نیشنل گارڈ کے استعمال نے ٹرمپ انتظامیہ اور ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی تقسیم پیدا کر دی ہے۔ روایتی ریپبلکن رہنما، جیسے لز چینی، نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام پارٹی کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج 2028 کے انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر نوجوانوں، اقلیتوں اور شہری متوسط طبقے کی شرکت بڑھ جائے۔

مشہور خبریں۔

عراق کی مذہبی مناسبات کو یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل کرنے کی تجویز

?️ 16 دسمبر 2025 عراق کی مذہبی مناسبات کو یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل

عمران خان کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے ، شیخ وقاص اکرم کا دعویٰ

?️ 3 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان شیخ وقاص

پی ٹی آئی کا یوم سیاہ پر صوابی میں پاورشو: بیرسٹر گوہر کا ملک کیلئے دانشمندانہ فیصلے کرنے کا مشورہ

?️ 9 فروری 2025صوابی: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر

امریکہ میں سب سے بڑے مسلم گروپ کی طرف سے اسرائیلی رژیم کے جرائم کی مذمت

?️ 7 جون 2026سچ خبریں:  امریکہ میں مسلمانوں کے سب سے بڑے حقوقِ مدنی گروپ

پی ٹی آئی کا عدالتی آزادی کیلئے عوامی تحریک چلانے پر زور

?️ 6 نومبر 2024لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف  نے قوم سے مطالبہ کیا ہے

پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں سماعت کی۔

?️ 18 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے حکمراں

ٹرمپ مسیح نہیں، اپنے زمانے کا یزید ہے:ترک دانشور

?️ 13 اپریل 2026سچ خبریں:ترک ماہرین نے ٹرمپ کے متنازع بیان اور مذہبی علامتوں کے

ایران کے ساتھ تکنیکی مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے: امریکہ

?️ 23 جون 2026سچ خبریں:  ڈونلڈ ٹرمپ، صدرِ امریکہ کے معاون جے ڈی وینس نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے