امریکہ لبنان کے ساتھ کالونی جیسا سلوک کر رہا ہے: حزب اللہ

حزب اللہ

?️

سچ خبریں: لبنان کی پارلیمنٹ میں وفاداری سے مزاحمت کے بلاک کے سینئر رکن حسین الجشی نے آج امریکی-صہیونیستی دشمن کے لبنان کے خلاف جاری دھمکیوں اور جارحیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنانی حکام اور حکومت پر امریکہ کا دباؤ کا مقصد انہیں صہیونی ریژم کی شرائط پر اس کے ساتھ مفاہمت کے معاہدے پر دستخط کرنے اور خطے پر تسلط جمانے اور اس کے وسائل کو لوٹنے کے امریکی-صہیونی منصوبے کی خدمت پر مجبور کرنا ہے۔
امریکہ اور اس کے ڈکٹیٹ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا
حسین الجشی کا کہنا تھا کہ لبنانی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ وہ سخت دباؤ کا شکار ہیں اور امریکی لبنان کو دھمکانے اور ذلیل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
حزب اللہ کے اس نمائندے نے زور دے کر کہا کہ ان سب کے باوجود ہم کبھی بھی امریکہ اور اس کی ڈکٹیٹ کے آگے سرنگوں نہیں ہوں گے اور نہ ہی ہم اس کے دست نگر، یعنی صہیونی غاصب ریژم کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں سے ہم لبنان میں امریکی-صہیونی سازش کے منصوبے کا مقابلہ کرتے آئے ہیں اور اپنی خودمختاری اور اراضی کی آزادی کے دفاع میں ہم نے کبھی بھی پس و پیش نہیں کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہم اپنی سرزمین پر باعزت اور آزاد زندگی بسر کرتے رہیں گے اور ہر قربانی جو درکار ہوگی، ہم دے دیں گے۔ لبنانیوں کی قربانیوں اور شہداء کے خون کا سلسلہ اس واضح فتح کی گواہی ہے جس کا خدائے بزرگ و برتر نے وعدہ فرمایا ہے۔
مزاحمتی بلاک کے مذکورہ نمائندے نے آگے گذشتہ کچھ مہینوں میں لبنانی صحافیوں کے ساتھ امریکی ایلچی کے گستاخانہ رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ایلچی ٹام باراک نے لبنانی صدارتی محل میں ہمارے صحافیوں کی توہین کی، لبنانی فوج کے کردار کو مجروح کیا اور گستاخانہ بیان دیتے ہوئے زور دے کر کہا کہ لبنانی فوج کا کردار اسرائیل کے بجائے اس ملک کے عوام اور خاص طور پر حزب اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔
امریکہ لبنان کے ساتھ نوآبادی جیسا سلوک کرتا ہے
حسین الجشی نے مزید کہا کہ اس امریکی ایلچی نے لبنانی حکومت کو ناکام حکومت قرار دیا ہے اور واشنگٹن کی ایمبیسی لبنان کے خلاف مختلف ٹویٹس جاری کرتی ہے اور حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دیتی ہے، حالانکہ حزب اللہ ہمیشہ لبنان کا محافظ اور اس ملک کے عوام کی ایک بڑی تعداد کی نمائندہ رہی ہے۔
حزب اللہ کے اس نمائندے نے زور دے کر کہا کہ امریکی ایسا سلوک کررہے ہیں گویا کہ انہیں لبنان میں اپنے مفادات کی بنیاد پر جو چاہے کہنے اور کرنے کا حق حاصل ہے اور لبنان کا کوئی بھی فرد جو ان کی پالیسیوں اور مداخلتوں کی مخالفت کرتا ہے، اس پر الزام لگائیں اور سزا دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کچھ دنوں سے امریکی محکمہ خزانہ اور قومی سلامتی کے ایلچی لبنان اور اس کے حکام کو ڈکٹیٹ کررہے ہیں کہ سرکاری اور نجی مالیاتی اداروں کے بارے میں انہیں کیا کرنا چاہیے، اس کے علاوہ وہ لبنانی فوج پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔ امریکیوں کی گستاخی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ لبنانی عوام کے گھروں کی تلاشی کی درخواست کررہے ہیں اور لبنانیوں کے داخلی امور بشمول ہمارے ملک کی پارلیمنٹ کے قوانین میں مداخلت کررہے ہیں، گویا کہ لبنان امریکہ کے زیرِ نگین یا اس کی نوآبادی ہے۔
اس مزاحمتی نمائندے کا کہنا تھا کہ افسوس ہے کہ ملک کے عوامی اور نجی امور میں ان تمام توہین آمیز حرکات، دھمکیوں اور مداخلتوں کے باوجود ہم نے اقتدار کے بعض ستونوں اور ان لوگوں کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں سنا ہے جو لبنان میں خودمختاری اور آزادی کا دعویٰ کرتے ہیں، گویا کہ وہ مفلوج ہوچکے ہیں یا امریکیوں کی ہر بات اور ہر حرکت کو تسلیم کرچکے ہیں۔ درحقیقت، ایسا لگتا ہے کہ انہیں امریکہ کی پوشیدہ تحویل میں زندگی گزارنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
حسین الجشی نے مزید کہا کہ حزب اللہ لبنان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس سلسلے میں ایک قطعی ثبوت شہید سید حسن نصر اللہ کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت تھی اور یہ چیز لبنانیوں کے مزاحمتی آپشن اور اس راستے کے حوالے سے عہد کی نشاندہی کرتی ہے جس پر چلتے ہوئے اس عظیم مزاحمتی رہنما نے شہادت حاصل کی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران حزب اللہ نے اپنے اتحادیوں کے شانہ بشانہ صہیونی دشمن کا مقابلہ کرنے کی ذمہ داری ادا کی ہے اور ملک کی آزادی کے لیے ہزاروں شہداء اور زخمیوں کی قربانی دی ہے۔ اس کے علاوہ حزب اللہ نے ملک کے دفاع میں کبھی بھی مختلف حصوں کے درمیان امتیاز نہیں برتا اور لبنان کے تمام علاقوں اور تمام لبنانیوں کے دفاع میں کھڑی رہی ہے۔
حزب اللہ کے مذکورہ نمائندے نے کہا کہ حقیقی دہشت گرد امریکہ ہے جو اپنے بیڑوں اور ایئرکرافٹ کیریئرز کو ہزاروں کلومیٹر دور سے ہمارے خطے میں لاتا ہے تاکہ لبنان اور خطے کے تمام ممالک پر اپنی دھاک بٹھائے۔ امریکہ وہی دہشت گرد ہے جس نے غزہ کے بچوں اور خواتین کے قتل عام میں حصہ لیا ہے، جن میں 20 ہزار سے زائد بچے اور 10 ہزار خواتین شامل ہیں، جنہیں امریکی ہتھیاروں سے قتل کیا گیا۔ نیز سب کو معلوم ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش امریکہ کی مکمل اور براہ راست حمایت سے خطے کی قوموں کے خلاف جنایات کا ارتکاب کرتا تھا۔

مشہور خبریں۔

قطر کے سابق امیر کا انتقال ؛چار روزہ سرکاری سوگ کا اعلان

?️ 12 جولائی 2026سچ خبریں:قطر کے دیوان امیری نے اعلان کیا ہے کہ سابق امیر

شمسی توانائی کے حوالے سے حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی:وزیر اعظم

?️ 23 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ

آل سعود کے جرائم انکشاف کرنے پر سعودی عرب میں ٹک ٹاک بند

?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:ٹک ٹاک ایپلی کیشن کے ذریعے بے گھر افراد کے نگہداشتی

عمران خان نے توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی اور جیل ٹرائل چیلنج کردیا

?️ 9 دسمبر 2023لاہور: (سچ خبریں) سابق چیئرمین تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان

الازہر کا صیہونیوں کے خلاف سخت بیان

?️ 25 جون 2023سچ خبریں:مصر کی الازہر نے آج ایک بیان میں صیہونی آبادکاروں کی

یورپ کے معاندانہ رویہ پر ترکی کا ردعمل

?️ 15 ستمبر 2023سچ خبریں: ترک وزارت خارجہ نے انقرہ کے بارے میں یورپی پارلیمنٹ

پاکستانی سینما گھروں میں انڈونیشین ہارر فلموں کا رجحان

?️ 12 مارچ 2024کراچی: (سچ خبریں) مجھے یقین ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں میں آپ

وائٹیکر ٹرمپ انتظامیہ سے مستعفی ہونا چاہتے ہیں ؛ وجہ ؟

?️ 16 اکتوبر 2025سچ خبریں:  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے