امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کس طرف جا ر ہے ہیں

امریکہ

?️

امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کس طرف جا رہا ہے
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کھولی جانے والی آشکارا تجارتی جنگ کے بعد، واشنگٹن بیجنگ تعلقات اب ایک نئے جیوپولیٹیکل مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ چین نے حالیہ مہینوں میں عناصرِ خاکِ کمیاب جو ہائی ٹیک صنعت اور دفاعی ٹیکنالوجی کے بنیادی خام اجزاء ہیں کو اپنی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ بنا کر نشان دہی کی ہے کہ معدنی وسائل اب اسٹریٹجک طاقت کا مؤثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ اس تبدیلی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو کھلے تصادم سے کنٹرول شدہ مفاہمت کی طرف منتقل کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات گزشتہ برسوں میں زیادہ پیچیدہ، تہہ دار اور ناپائیدار رہے ہیں۔ ایک جانب سخت ٹیکنالوجی و تجارتی مقابلہ برقرار ہے، جبکہ دوسری طرف تناؤ میں کمی اور محدود اعتماد سازی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ٹرمپ کا گزشتہ ماہ کا دورۂ ایشیا اسی سمت میں ایک اہم اشارہ تھا، جہاں عناصرِ خاکِ کمیاب جو جدید الیکٹرانکس، اسمارٹ فونز، خودرو صنعت، دفاعی نظام اور توانائی کی جدید ٹیکنالوجی میں ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں مرکزِ گفتگو بنے۔ اب یہ عناصر اکیسویں صدی کے نئے تیل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
30 اکتوبر کو بوسان جنوبی کوریا میں ٹرمپ نے چینی صدر شی جِن پنگ سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے چین کی عناصرِ خاکِ کمیاب پر عائد برآمدی پابندیوں کو ایک سال کے لیے معطل کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ وہ تبدیلی تھی جو کئی برسوں کی سخت تجارتی کشیدگی کے بعد سامنے آئی۔
اس معاہدے کے تحت چین نے امریکہ سے سویا خریداری دوبارہ شروع کرنے کا وعدہ کیا، جبکہ امریکہ نے چینی درآمدات پر اوسط ٹیکس 57 فیصد سے کم کر کے 47 فیصد کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ پیغام واضح تھا:فی الحال، معاشی عملیت پسندی سیاسی محاذ آرائی پر غالب ہے۔
چین دنیا کے 70 تا 80 فیصد عناصرِ خاکِ کمیاب کی پیداوار اور پروسیسنگ پر کنٹرول رکھتا ہے، اور یہ اس کے بڑے سفارتی ہتھیاروں میں شامل ہیں۔ بوسان اجلاس سے قبل چین نے انہی عناصر پر سخت برآمدی کنٹرول لاگو کیا تھا جسے بین الاقوامی حلقوں نے آپشن نیوکلیئر قرار دیا۔ یہ دباؤ کارگر ثابت ہوا اور اسی نے بیجنگ کو مذاکرات میں رعایتیں حاصل کرنے کا موقع دیا۔
2025 میں سامنے آنے والی یہ سفارتی پیش رفت بنیادی طور پر ایک توازن ساز عمل ہے۔ تاہم معاہدہ بہرحال چارچوب کی حیثیت رکھتا ہے یعنی نہ اس میں ٹھوس ٹائم لائن ہے، نہ سرمایہ کاری سے متعلق واضح اہداف، اور نہ مانیٹرنگ کا کوئی مؤثر نظام۔ایک سالہ معطلی بتاتی ہے کہ یہ فریم ورک کافی ناپائیدار ہے اور کسی بھی نئے تناؤ کے ساتھ ٹوٹ سکتا ہے۔
عناصرِ خاکِ کمیاب جدید صنعتی معیشت کے ’خاموش انجن‘ ہیں نیم ہادی، طبی امیجنگ آلات، برقی گاڑیوں کے موٹرز، ٹربائنیں، اور دفاعی ٹیکنالوجی سب ان پر منحصر ہیں۔
امریکہ اور اس کے اتحادی اس لیے طویل عرصے سے اس شعبے میں چین کے غلبے کے باعث کمزور رہے ہیں۔ چین تنہا عالمی پیداوار اور پروسیسنگ کا سب سے بڑا منبع ہے، اور یہی چیز اسے بڑی حد تک اسٹریٹجک طاقت فراہم کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صنعتی طاقت کا مستقبل اسی پر منحصر ہوگا کہ کون ملک اہم معدنیات کے بہاؤ کو محفوظ طریقے سے قائم رکھ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کا دورۂ ایشیا صرف تجارتی مذاکرات نہیں بلکہ عالمی صنعتی معمار کی نئی ترتیب کا حصہ تھا۔
سنگاپور کے ایس۔راجاراتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ماہر کوین چن کے مطابق چین نے اپنی حکمتِ عملی ٹرمپ کے انداز سے اخذ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ، لیکن محتاط بارگیننگ کے ساتھ۔
ان کے مطابق چین اب 2018 کی نسبت زیادہ تیار ہے: اس نے اپنی کمزوریاں کم کی ہیں اور دباؤ ڈالنے والے شعبوں کی نشاندہی کر لی ہے۔
لیکن چن خبردار کرتے ہیں کہ اگر بیجنگ نے عناصرِ خاکِ کمیاب کا اہرَم زیادہ استعمال کیا تو طویل المدت میں اس کی تاثیر کم ہو جائے گی؛ کیونکہ امریکہ اور دیگر ممالک بالآخر متبادل سپلائی چین بنا سکتے ہیں۔
امریکہ اس وقت آسٹریلیا، بھارت، قزاقستان اور دیگر ممالک کے ساتھ معدنی تعاون بڑھا رہا ہے۔ یہ کثیر جہتی حکمتِ عملی چین پر انحصار کم کرنے اور نئی عالمی سپلائی چین تشکیل دینے کے لیے اپنائی گئی ہے۔

مشہور خبریں۔

ہمارے میزائل اگر اسرائیل پر لگے نہیں تو کہاں گئے؟؛یمنیوں کا سوال

?️ 1 نومبر 2023سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ تنظیم کے سیاسی دفتر کے رکن

پی ڈی ایم کی جانب سے پرویزالہیٰ کو اپنا وزیراعلیٰ نامزد کرنے کی پیش کش

?️ 21 دسمبر 2022لاہور: (سچ خبریں) پی ڈی ایم کی جانب سے پرویزالہیٰ کو اپنا

وانا؛ دہشتگردوں کے حملے میں رہنما جے یو آئی مولانا سلطان محمد شہید

?️ 10 جنوری 2026وانا (سچ خبریں) جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں خارجی دہشتگردوں کے

مغربی کنارے پر صیہونی افواج کی یلغار؛ متعدد فلسطینی علاقوں میں چھاپے اور گرفتاریاں

?️ 7 جون 2026سچ خبریں:صیہونی افواج نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے

ریحام خان کے معافی مانگنے پر زلفی بخاری کا ردِعمل

?️ 15 اکتوبر 2021لندن(سچ خبریں) ریحام خان نے جھوٹے الزامات لگانے پر زلفی بخاری سے

جنگ بندی کے بغیر اسرائیلی قیدی غزہ سے زندہ واپس نہیں آئیں گے: حمدان

?️ 10 ستمبر 2024سچ خبریں: فلسطینی تحریک حماس کے سینیئر رہنما اسامہ حمدان نے صہیونی

ٹرمپ ایرانی قوم کا کیوں نہیں کچھ بگاڑ سکتا؟

?️ 4 جنوری 2026سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران میں داخلی احتجاجات سے متعلق حالیہ بیانات

سرینگر : مودی انتظامیہ نے کشمیری مسلمانوں کو تاریخی جامع مسجد ،عیدگاہ میں عید نماز ادا نہیں کرنے دی

?️ 7 جون 2025سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے