?️
اسرائیلی بربریت پر روک نہ لگانا غزہ میں تباہی کی اصل وجہ ہے:سعودی عرب
سعودی عرب نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی المیے کی سنگین تر ہوتی صورتحال اس بات کا نتیجہ ہے کہ اسرائیلی جارحیت اور جرائم کے خلاف کوئی مؤثر بازدار نظام یا احتساب موجود نہیں ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی واس کے مطابق وزارت خارجہ نے ہفتے کی شب ایک بیان میں کہا کہ عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان پر یہ ایک بدنما داغ رہے گا اگر وہ فوری طور پر جنگ بندی، قحط کے خاتمے اور غزہ کے عوام پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات نہ کریں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب غزہ میں بڑھتی بھوک اور قحط کی باضابطہ تصدیق پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کی شدید مذمت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ادارہ آئی پی سی (IPC) نے جمعے کو اعلان کیا کہ غزہ شہر جس کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ ہے، شدید قحط کا شکار ہو چکا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ آئندہ چند ہفتوں میں یہی صورتحال دیرالبلح اور خان یونس تک پھیل سکتی ہے۔
اس اعلان کے بعد اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں یونیسف، ڈبلیو ایچ او، ایف اے او اور ڈبلیو ایف پی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ غزہ میں بچوں سمیت ہزاروں جانیں بھوک کے باعث خطرے میں ہیں اور فوری انسانی رسائی اور جنگ بندی ناگزیر ہے۔رپورٹ کے اجراء کے فوراً بعد اسرائیل نے اس پر حملہ کیا اور اس کی ساکھ پر سوال اٹھائے، حالانکہ یہ اعدادوشمار معتبر شواہد پر مبنی تھے۔
اسرائیل نے 2 مارچ سے فائر بندی اور اسیران کے تبادلے کے معاہدے پر عمل روک دیا اور غزہ کے داخلی راستے بند کر دیے ہیں، جس کے باعث سینکڑوں امدادی ٹرک سرحد پر رکے ہوئے ہیں۔ جو امداد کبھی کبھار اندر جانے دی جاتی ہے وہ بھی نہایت محدود اور اقوام متحدہ کی نگرانی کے بغیر تقسیم کی جاتی ہے، جسے عالمی اداروں نے "قطرے کو ترسنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے امریکی حمایت کے ساتھ غزہ میں تباہ کن جنگ مسلط کر رکھی ہے جس میں اب تک 62 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ بڑے پیمانے پر ویرانی، آوارگی اور بھوک اس جنگ کے دیگر نتائج ہیں۔
اسرائیل عالمی دباؤ، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے بدستور قتل عام کر رہا ہے۔ اس سب کے باوجود صہیونی حکام خود تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ اب تک اپنے بڑے مقاصد حماس کی مکمل تباہی اور صہیونی قیدیوں کی رہائی حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ایران کا سب سے بڑا انتقام کیا ہو سکتا ہے؟
?️ 7 اگست 2024سچ خبریں: تہران میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ
اگست
سعودی عرب اور روس کے وزرائے خارجہ کے درمیان علاقائی مسائل پر بات چیت
?️ 13 مئی 2023سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور روسی وزیر خارجہ سرگئی
مئی
الیکشن کمیشن کا قومی اسمبلی کی 33 نشستوں پر 16 مارچ کو انتخابات کرانے کا اعلان
?️ 27 جنوری 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی
جنوری
وزیر اعظم کا چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت سے انکار
?️ 6 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین نیب کی تقرری کے
اکتوبر
پاک بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی فضائی لڑائی:سی این این
?️ 9 مئی 2025سچ خبریں:سی این این کی رپورٹ کے مطابق حالیہ پاک بھارت کشیدگی
مئی
بین الاقوامی وکلاء: ایران پر اسرائیل کا حملہ غیر قانونی تھا/مرٹز جارحیت کو قانونی حیثیت دینے کی جدوجہد
?️ 10 جولائی 2025سچ خبریں: جرمن چانسلر نے آج (بدھ) ایران پر صیہونی حکومت کے
جولائی
الکرامہ آپریشن کو نافذ کرنے والا اردنی نوجوان کون ہے؟
?️ 9 ستمبر 2024سچ خبریں: عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے الکرامہ کراسنگ کے بہادرانہ آپریشن
ستمبر
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے آڈٹ نہ کرانے پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو طلب کرلیا
?️ 19 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے گزشتہ ایک
اپریل