?️
سچ خبریں:لبنانی اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کے اندر ایران کے خلاف براہ راست جنگ میں شمولیت پر اختلافات پائے جاتے ہیں، جبکہ امریکہ خطے سے فوجی سازوسامان مقبوضہ علاقوں میں منتقل کر رہا ہے۔
لبنانی اخبار الاخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں صہیونی حکومت کے ایران کے خلاف ممکنہ براہ راست فوجی مداخلت کے امکانات اور اس حوالے سے تل ابیب کے اندر جاری اختلافات کا جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف صہیونی حکومت کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے دوران صہیونی کابینہ نے پیر کے روز تقریباً 6 گھنٹے طویل اجلاس منعقد کیا، جس میں کشیدگی میں ممکنہ اضافے کے مختلف منظرناموں پر غور کیا گیا۔
اس اجلاس کے دوران صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلی فون پر بھی رابطہ ہوا۔
صہیونی ٹیلی ویژن چینل 12 نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ کسی بھی نئی محاذ آرائی میں تل ابیب کے مفادات اس جنگ کی نوعیت اور اہداف پر منحصر ہوں گے۔ ان کے بقول اسرائیل ایسی مختصر جنگ نہیں چاہتا جو چند دنوں میں کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی سیاسی قیادت کو پیش کی گئی ایک بریفنگ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اپنا حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم اس جنگ میں امریکہ کی جانب سے ممکنہ اہداف کی فہرست وسیع ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
صہیونی نشریاتی ادارے نے ایک اسرائیلی اور ایک امریکی سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے تل ابیب کو آگاہ کیا ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں میں شدت لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق موجودہ مرحلے میں امریکی انتظامیہ اب بھی یہ ترجیح دیتی ہے کہ صہیونی حکومت براہ راست حملوں کے دائرے سے باہر رہے تاکہ ایران کی جانب سے مقبوضہ علاقوں پر ممکنہ جوابی حملوں سے بچا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست شمولیت کے معاملے پر صہیونی کابینہ کے اندر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔
صہیونی وزیر خزانہ بتسلئیل اسموتریچ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اسرائیل کے لیے جنگ میں براہ راست شامل ہونا مفید نہیں، جبکہ ان کے مطابق محدود امریکی فوجی کارروائیوں اور بحری محاصرے تک صورتحال برقرار رہنا اسرائیل کے لیے زیادہ مناسب ہے۔
دوسری جانب صہیونی وزیر تعلیم یوآف کوئریش ایران کے توانائی کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے پر شدید حملوں کے حامی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اختلافات مقبوضہ علاقوں کے اندر موجود دو مختلف رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں ایک فریق ایران کے خلاف براہ راست جنگ کا خواہاں ہے جبکہ دوسرا صرف امریکی کارروائیوں کی حمایت کو کافی سمجھتا ہے۔
اسی دوران خطے میں امریکی فوجی سازوسامان کو بھی یکجا کیا جا رہا ہے۔
صہیونی نشریاتی ادارے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ نے یورپ اور خلیجی ممالک سے مزید فوجی سازوسامان اور اسلحہ مقبوضہ علاقوں میں منتقل کیا تاکہ امریکی جنگی طیاروں کی معاونت کی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق یورپ اور قطر کے العدید فضائی اڈے سے ایندھن بھرنے والے 10 سے زائد طیارے بھی مقبوضہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔
اگرچہ صہیونی ذرائع ان نقل و حرکت کو ایران کے خلاف جنگی محاذ کی نئی ترتیب قرار دے رہے ہیں، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی فوج اپنے مہنگے فوجی سازوسامان کو ایرانی میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے انہیں خطے کے دیگر ممالک سے منتقل کر رہی ہے۔
بعض صہیونی فوجی ذرائع کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں امریکی طیاروں کی موجودگی، خلیجی ممالک کے فوجی اڈوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہے۔
تاہم انہی ذرائع نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے تل ابیب کو زیادہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے ایران کو مقبوضہ علاقوں میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا جواز مل سکتا ہے۔
اسرائیل ہیوم نے ایک اسرائیلی سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے لکھا کہ امریکہ اس سے قبل بھی اپنے فوجی بیڑے کا ایک حصہ خلیج فارس سے اردن منتقل کر چکا تھا تاکہ انہیں ایرانی میزائلوں کی زد سے دور رکھا جا سکے، لیکن بعد ازاں اردن بھی ایران کے شدید حملوں کی زد میں آ گیا۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ ذریعے نے خبردار کیا کہ اگر صہیونی حکومت امریکی طیاروں اور فوجی تنصیبات کی میزبانی جاری رکھتی ہے تو اس سے مقبوضہ علاقے ایران کے ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
یوکرین کا خاتمہ ہو سکتا ہے: دی اکانومسٹ
?️ 8 جولائی 2025سچ خبریں: معتبر جریدے "اکانومسٹ” نے رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین کی
جولائی
پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی میں بھارت کا ہاتھ واضح ہے، بلوچستان میں بھارتی پراکسیز دہشت گردی میں ملوث ہیں، ترجمان دفترخارجہ
?️ 11 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا
جولائی
اسلام آباد میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات پر دوسرا اجلاس منعقد
?️ 2 جنوری 2026 اسلام آباد میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات پر دوسرا
نیدرلینڈز میں سیاسی پناہ گزینوں کی حالت زار
?️ 28 اگست 2022سچ خبریں:جرمنی کے ایک اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں ہالینڈ میں
اگست
فلسطینیوں کا قتلِ عام، پوری انسانیت کے خلاف جنگ ہے:صدر ونزوئیلا
?️ 16 جولائی 2025 سچ خبریں:صدر ونزوئیلا نیکولس مادورو نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو
جولائی
ڈیجیٹل معیشت کی جانب اہم پیش رفت، وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی
?️ 19 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کیش لیس اکانومی اور
جون
تارکین وطن کے لئے ٹرمپ کا سخت پیغام
?️ 12 اکتوبر 2024سچ خبریں: 2024 کے انتخابات کے لیے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ
اکتوبر
روس-اسلامک ورلڈ سربراہی اجلاس جدہ میں منعقد ہوگا
?️ 23 نومبر 2021سچ خبریں:سعودی عرب کا شہر جدہ 24 نومبر کو روس-اسلامک ورلڈ اسٹریٹجک
نومبر