?️
سچ خبریں:برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سیاسی نظام اور فلسطینیوں کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ایک برطانوی اخبار نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہونے والے آئندہ انتخابات ممکنہ طور پر اسرائیل کے آخری انتخابات ثابت ہو سکتے ہیں۔ اخبار کے مطابق، ان انتخابات کے نتائج فلسطینیوں کے مستقبل اور ان کی قسمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
صہیونی حکومت 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کی جانب ایسے وقت بڑھ رہی ہے جب وہ ایک ایسے سیاسی تنازعے میں گھری ہوئی ہے جو محض کابینہ کی تشکیل کے مقابلے سے کہیں آگے ہے۔ یہ کشمکش حکومتی اداروں کے مستقبل اور اس حکومت کے سیاسی نظام کی نوعیت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
حکمران دائیں بازو کے اتحاد کے حامی اس سیاسی معرکے کو اپنی پالیسیوں کے تسلسل کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ انتخابات کے نتائج فلسطینیوں کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
روزنامہ گارڈین کے صحافی جوناتھن فریڈلینڈ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورے کے بعد لکھا ہے کہ جن متعدد صہیونیوں سے انہوں نے گفتگو کی، ان کے نزدیک یہ انتخابات اسرائیل کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں۔ بعض افراد کو خدشہ ہے کہ اگر بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں موجودہ حکمران اتحاد دوبارہ اقتدار میں آ گیا تو یہ اسرائیل کے آخری انتخابات ہو سکتے ہیں۔
اسرائیل میں سیاسی زندگی کا انہدام
تجزیہ کار نے ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ اسرائیل میں سیاسی زندگی کے انہدام کی علامات قرار دیتے ہیں۔ ان میں نیتن یاہو کی جانب سے ان مطالبات کی حمایت بھی شامل ہے جن میں غزہ کی پٹی میں صہیونی فوج کے جرائم پر تنقیدی فلم بنانے والے صہیونی ہدایت کاروں کی شہریت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
فریڈلینڈ کے مطابق، یہ الزامات ایک ایسی سیاسی مہم کا حصہ ہیں جس میں گمراہ کن معلومات پھیلانے اور سازشی نظریات کو فروغ دینے کے ذریعے عوامی توجہ نیتن یاہو کی ناکامیوں سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فریڈلینڈ نے صہیونی کارکن یہودا شاؤل کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیل کے سرکاری ادارے اور عدالتیں، فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ میں کمزوریوں کے باوجود، اب بھی پالیسیوں کا رخ تبدیل کرنے کا امکان فراہم کرتی ہیں۔ شاؤل نے خبردار کیا کہ ان اداروں کا انہدام اسرائیل کو کھائی کی جانب دھکیل سکتا ہے۔
صہیونی آبادکاری میں توسیع
مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے کے بعد فریڈلینڈ نے وہاں کی صورت حال پر روشنی ڈالی ہے۔ شاؤل کے اندازے کے مطابق، 2023 سے اب تک تقریباً 250 نئی صہیونی بستیاں اور آبادکاری کے مراکز قائم کیے جا چکے ہیں۔
تجزیہ کار کے مطابق، اس عمل نے فلسطینی شہروں کو الگ تھلگ جزائر میں تبدیل کر دیا ہے اور ایک مستحکم فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے درکار جغرافیائی تسلسل کو نقصان پہنچایا ہے۔
فریڈلینڈ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ نے انتہا پسند صہیونی وزیر بتسلئیل اسموتریچ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے ساتھ آبادکاری کے منصوبوں میں توسیع کے احکامات دیے اور انتہا پسند آبادکاروں کے پُرتشدد اقدامات کو نظرانداز کیا۔
تجزیہ کار نے آخر میں نتیجہ اخذ کیا ہے کہ 27 اکتوبر کے انتخابات کے اثرات صہیونی حکومت کی حدود سے آگے تک پھیلیں گے، کیونکہ ان کے نتائج اسرائیل کے اندر جمہوریت کے مستقبل اور مغربی کنارے کی صورت حال دونوں پر اثرانداز ہوں گے، جہاں آبادکاری کی ایک غیر معمولی لہر جاری ہے۔


مشہور خبریں۔
ڈسکہ الیکشن میں دھاندلی رپورٹ کو حقائق کے منافی ہے
?️ 6 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں) سابق معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ڈسکہ الیکشن
نومبر
ایران کا افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی پر مبنی امدادا کا سلسلہ جاری
?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:کابل میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے نے کابل میں
جنوری
پاکستان پر قبضے کی حکمت عملی بھارت کو مہنگی پڑے گی۔ خواجہ آصف
?️ 6 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ
مئی
عراقی وزیر اعظم جنرل قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس قتل کیس میں کیا کر رہے ہیں؟
?️ 22 اگست 2023سچ خبریں: عراق کے وزیر اعظم نے ایران، عراق، شام اور لبنان
اگست
پرویز الہٰی کو کرپشن کیس میں نیب کی نئی تحقیقات کا سامنا
?️ 10 جون 2023لاہور: (سچ خبریں) قومی احتساب بیورو نے گجرات اور منڈی بہاالدین کے
جون
گزشتہ سال 78 فلسطینی بچے شہید
?️ 7 اپریل 2022سچ خبریںفلسطینی بچوں کے عالمی دن کے موقع پر قابض صیہونی حکومت
اپریل
معمر قذافی زندہ ہیں:لیبیا کے ایک افسر کا دعویٰ
?️ 21 دسمبر 2021سچ خبریں:لیبیا کے معزول رہنما معمر قذافی کے ایک افسر نے دعویٰ
دسمبر
صیہونی حکومت کی مغربی کنارے میں فوجی ڈیٹرنس بحال کرنے کی کوشش
?️ 17 جون 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سیکورٹی حلقوں نے مستقبل قریب میں مغربی کنارے
جون