امریکہ کو خطے سے کیوں نکالا جانا چاہیے؟ ایران جنگ کے بعد امریکی عسکری طاقت پر بڑا سوال

خطے

?️

سچ خبریں:فارن افیئرز کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ اور خطے میں حملوں نے امریکی فوجی موجودگی اور اس کی عالمی طاقت کے ڈھانچے پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور اتحادی ممالک میں واشنگٹن کی پالیسی پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔

امریکی جریدے فارن افیئرز کی ایک تازہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی عالمی عسکری طاقت کا بڑا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے دنیا بھر میں موجود اتحادی ممالک اپنی سرزمین، بندرگاہوں اور اڈوں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے ہزاروں میل دور رہتے ہوئے مختلف جنگوں میں مداخلت کی صلاحیت اس لیے حاصل کی کیونکہ اسے عالمی سطح پر وسیع نیٹ ورک کی سہولت حاصل رہی۔

تجزیہ کار کے مطابق امریکہ کی جنگی صلاحیت صرف اس کے اپنے فوجی ڈھانچے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس عالمی نظام کا بھی حصہ ہے جس میں متعدد ممالک واشنگٹن کو اپنے فوجی اڈے اور لاجسٹک سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دہائیوں میں امریکہ نے افغانستان، عراق، لیبیا، ویتنام، لبنان اور دیگر ممالک میں اسی نیٹ ورک کے ذریعے فوجی کارروائیاں کیں۔ حالیہ برسوں میں بھی امریکہ نے مختلف خطوں میں اپنی فوجی کارروائیوں کو اسی طرز پر جاری رکھا ہے۔

فارن افیئرز کے مطابق اس نظام کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جیسے جیسے امریکہ کے لیے جنگیں کم لاگت اور آسان بنتی ہیں، ویسے ویسے اس کے عسکری مداخلت کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

رپورٹ میں ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس جنگ میں بھی امریکہ نے خلیجی ممالک میں موجود اپنے اڈوں اور اتحادی ڈھانچے کو استعمال کیا۔

ان ممالک میں قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن اور سعودی عرب شامل ہیں، جہاں سے امریکی فضائی اور بحری آپریشنز کو سپورٹ فراہم کی گئی۔

تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ ممالک نے امریکہ کو مکمل تعاون فراہم نہیں کیا۔ مثال کے طور پر اسپین نے بعض اڈوں تک رسائی محدود کی، اٹلی نے امریکی بمبار طیاروں کو لینڈنگ کی اجازت نہیں دی، جبکہ ترکی نے انجرلیک اڈے کے استعمال پر پابندی لگائی۔

رپورٹ کے مطابق اس جنگ کے دوران ایران نے خطے میں امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنایا، جس سے میزبان ممالک میں یہ خدشہ بڑھ گیا کہ امریکہ کے ساتھ تعاون انہیں براہ راست خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

تجزیہ کار کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ امریکہ کے علاقائی نیٹ ورک کو کمزور کیا جائے اور اس کے اتحادیوں کو واشنگٹن سے دور کیا جائے۔

رپورٹ کے اختتام پر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا اور مزید ممالک نے امریکہ کو فوجی سہولتیں دینے سے انکار کیا تو واشنگٹن کی عالمی فوجی برتری کمزور پڑ سکتی ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہوگا۔

مشہور خبریں۔

بنی گالا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، میڈیکل چیک اپ کیلئے بشریٰ بی بی کا عدالت سے رجوع

?️ 15 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سب جیل بنی گالا میں انسانی حقوق کی

ترکی کی اپوزیشن جماعت کا ہنگامی اجلاس طلب

?️ 23 مارچ 2025 سچ خبریں:ترکی کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت، ری پبلکن پیپلز

پنجاب میں سیلاب سے 30 اموات، ہزاروں دیہات زیر آب، 15 لاکھ سے زائد شہری متاثر

?️ 30 اگست 2025لاہور: (سچ خبریں) پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب

نور مقدم کیس میں حکومت کا اہم فیصلہ

?️ 10 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے

ایک ہی سکے کے دو رخ

?️ 16 اکتوبر 2023سچ خبریں: تاریخی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ داعش اور صیہونیت

سیاسی بحران کا واحد حل مذاکرات ہیں: کاظمی

?️ 10 اکتوبر 2022سچ خبریں:  عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ کاظمی نے آج پیر کو

حکومت کا دریائے سندھ پر نہروں کی تعمیر سے متعلق پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ

?️ 13 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے چولستان کینال کی تعمیر سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے