🗓️
سچ خبریں:صیہونی میڈیا نے یمنی میزائلوں کے خلاف تل ابیب کی ناکامی کو ایک اسٹریٹجک خطرہ قرار دیا ہے اور اس شکست کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔
یمنی مسلح افواج کی جانب سے حالیہ دنوں میں داغے گئے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں صیہونی دفاعی نظام کی ناکامی، علاقائی اور بین الاقوامی میڈیا کے لیے اہم موضوع بن چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے پاس یمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے :صیہونی
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، ہفتے کی صبح یمنی میزائل فلسطین 2 نے تل ابیب کے قریب یافا میں نشانہ بنایا، جبکہ صیہونی دفاعی نظام، بشمول آرو میزائل ڈیفنس سسٹم، ان میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔
دو دن قبل بھی یمنی فورسز کے دو بیلسٹک میزائل تل ابیب کے قریب داغے گئے، جن کے نتیجے میں 20 افراد زخمی اور 100 گھروں کو نقصان پہنچا۔
تل ابیب کی ناکامی اور مسلسل خطرہ
الجزیرہ کے مطابق، دسمبر کے مہینے میں یہ نواں موقع ہے جب یمن کی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، اور صرف گزشتہ پانچ دنوں میں تین بار خطرے کے الارم نے تل ابیب میں افراتفری پیدا کی، ہر بار دو ملین سے زائد صیہونی باشندے پناہ گاہوں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ یمن نے اب تک 201 میزائل اور 170 ڈرون مقبوضہ علاقوں کی طرف داغے ہیں جبکہ اسرائیلی دفاعی حکام اس ناکامی کو عوامی سطح پر چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن حالیہ واقعات ان کی پوشیدہ حقیقت کو بے نقاب کر رہے ہیں۔
دفاعی نظام میں خامیاں اور ناکامیاں
صیہونی میڈیا کے مطابق، ہفتے کو اسرائیل کے دفاعی نظام نے یمنی میزائلوں کو روکنے کے لیے درجنوں میزائل فائر کیے، لیکن ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، یہ صورتحال اسرائیل کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرہ بن چکی ہے، اور ماہرین کا ماننا ہے کہ تل ابیب اس چیلنج کو ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
صیہونی اخبار یدیعوت احرونٹ کے عسکری تجزیہ کار یواف زیتون نے اسرائیلی دفاعی نظام کی ناکامی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارے دفاعی نظام مکمل طور پر ناکام ہو رہے ہیں، تو ہماری فضائی حدود کی حفاظت کون کرے گا؟
جزوی کامیابی کا بے بنیاد دعویٰ
صیہونی ماہرین نے جزوی کامیابی کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے اسے بے معنی قرار دیا، ایک صیہونی دفاعی کمانڈر زفیکا حایمویچ نے وضاحت کی کہ اگر ایک میزائل کا وار ہیڈ، جو دھماکہ خیز مواد پر مشتمل ہے، بغیر تباہ ہوئے اپنی جگہ پر پہنچتا ہے، تو اسے جزوی کامیابی نہیں، بلکہ دفاعی نظام کی ناکامی سمجھا جانا چاہیے۔
اختلافات اور بڑھتے ہوئے خطرات
دیگر تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ میزائل یا تو ایسے راستے سے داغے گئے تھے جو شناخت سے باہر تھے یا ان کے وار ہیڈ نے اپنا راستہ تبدیل کیا، جس کے باعث اسرائیل کا دفاعی نظام انہیں روکنے میں ناکام رہا۔
مزید پڑھیں: کیا نیتن یاہو یمنیوں کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے ؟
ران بن یشای نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے ایٹمی وار ہیڈز کے حصول کی کوشش کی، تو یہ خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی دفاعی نظام کے اندرونی مسائل نے ان میزائلوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا ہے، اور یہ چیلنج اسرائیل کے لیے بے مثال ہے۔
مشہور خبریں۔
یمن میں کون امن قائم نہیں ہونے دے رہا؟
🗓️ 28 جون 2023سچ خبریں:یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے منگل
جون
شمالی غزہ کی لڑائیوں میں مزاحمتی حکمت عملی
🗓️ 12 جنوری 2025سچ خبریں: شمالی غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں کی جانب
جنوری
چینی دوا ساز کمپنیوں کا پاکستان کے ساتھ اہم معاہدہ
🗓️ 2 اپریل 2021کراچی (سچ خبریں)کورنا وائرس کی بڑھتی لہر کو دیکھتے ہوئے ایک مقامی
اپریل
بائیڈن صیہونی حکومت کے ساتھ ہیں یا مظاہرین کے؟
🗓️ 24 جولائی 2023سچ خبریں: امریکی صدر نے ایک بیان میں مقبوضہ علاقوں کی صورتحال
جولائی
امریکی سفارتخانے ہماری مذہبی اقدار کی خلاف ورزی نہ کریں: عرب پارلیمنٹ
🗓️ 5 جون 2022سچ خبریں: عرب پارلیمنٹ نے عرب ممالک میں امریکی سفارت خانوں
جون
امریکی فوجی کا داعش کے ساتھ تعاون
🗓️ 15 جون 2023سچ خبریں:ایک امریکی فوجی نے مغربی ایشیا میں امریکی فوج پر اچانک
جون
صیہونیوں نے یورپی وزیروں کو فسلطین جانے سے کیوں روکا؟
🗓️ 4 اکتوبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت نے ایک غیر منصفانہ اقدام میں یورپی وزرائے خارجہ
اکتوبر
وزیراعظم کا ایس سی او چارٹر اور شنگھائی اسپرٹ کے اصولوں کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ
🗓️ 25 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مختلف
جولائی