ایران امریکہ مذاکرات کا پہلا دور کس کے حق میں رہا؟امریکی تھنک ٹینک کا اعتراف 

ایران امریکہ مذاکرات کا پہلا دور کس کے حق میں رہا؟امریکی تھنک ٹینک کا اعتراف 

?️

سچ خبریں:امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز نیویارک نے اعتراف کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے پہلے دورے میں امریکہ نے اپنے مؤقف میں لچک دکھائی جبکہ ایران نے حکمت عملی سے میدان مار لیا۔

معروف امریکی تھنک ٹینک کونسل آن فارن ریلیشنز (CFR) نے ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ غیر مستقیم مذاکرات کا پہلا دور واضح طور پر ایران کے فائدے میں رہا۔
مذاکرات ہفتہ کے روز سلطنت عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوئے، جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکاف نے بالواسطہ طور پر بات چیت کی۔
تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ براہِ راست مذاکرات کا خواہاں تھا جبکہ ایران نے غیر مستقیم مذاکرات پر زور دیا، اور بالآخر عمان کے وزیر خارجہ نے ثالثی کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان پیغامات منتقل کیے،بات چیت کے اختتام پر دونوں فریقین کا ایک غیر رسمی ملاقات میں صرف رسمی سلام و دعا تک محدود رہنا، ایران کے طے کردہ فارمیٹ کی کامیابی کی علامت ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری امور تک محدود رہے، اور ایران کے میزائل پروگرام کو گفت و شنید کا حصہ نہیں بنایا گیا، جو کہ ایران کی ایک اہم کامیابی ہے، اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے اپنے بعض مطالبات سے وقتی طور پر پسپائی اختیار کی ہے۔
تھنک ٹینک کے مطابق، امریکہ نے اپنی ابتدائی سخت پوزیشن سے ہٹ کر صرف اس بات پر زور دینا شروع کر دیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے جبکہ ٹرمپ حکومت کے پہلے بیانات میں ایران سے مکمل طور پر جوہری اور میزائل پروگرام کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق وٹکاف اور ٹرمپ کا اصل مقصد اب صرف یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہ کرے، جبکہ پہلے ان کا مطالبہ تھا کہ ایران کا پورا پروگرام ختم ہونا چاہیے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اسٹیو وٹکاف نے مذاکرات سے قبل وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا تھا کہ ہماری پوزیشن ایران کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے پر ہے،تاہم مذاکرات کے بعد انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی اور مصالحت کی راہ تلاش نہیں کریں گے۔
تھنک ٹینک کے مطابق، اگر وٹکاف ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں ایران کو جوہری افزودگی کی اجازت ہو اور صرف بین الاقوامی معائنہ یقینی بنایا جائے، تو دراصل وہ اسی برجام جیسے معاہدے کی طرف واپس جا رہے ہیں، جسے ٹرمپ نے 2018 میں بدترین معاہدہ قرار دے کر ترک کیا تھا۔
رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے ماضی کے مطالبات، جیسے مکمل خاتمہ، آہستہ آہستہ فراموش ہو رہے ہیں، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران کی حکمت عملی عقل، صبر اور خوداعتمادی پر مبنی مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

مشہور خبریں۔

بندوق کے زور پر فرانس کے سفیر کو واپس بھیجوانا چاہتے ہیں

?️ 26 اپریل 2021ملتان (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق ملتان میں ایک تقریب سے خطاب

شام میں اسرائیل اور دہشت گردوں کے درمیان تعاون کی نئی جہتوں کا انکشاف

?️ 2 دسمبر 2024سچ خبریں: شمالی شام میں دہشت گردانہ حملوں کے آغاز کے بعد

پانی ہماری ریڈ لائن، 24 کروڑ عوام کے بنیادی حق پر آنچ نہیں آنے دینگے۔ فیلڈ مارشل

?️ 29 مئی 2025راولپنڈی (سچ خبریں) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پانی

صہیونی سلامتی اداروں کا حزب‌اللہ کے خلاف نئی مہم جوئی کے لیے دباؤ

?️ 13 دسمبر 2025سچ خبریں:ایک صہیونی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی حکومت کے

امریکہ کی مکمل حمایت سے غزہ میں نسل کشی جاری

?️ 15 مارچ 2024سچ خبریں:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے غزہ کے الکویت اسکوائر

ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ، ہمارے نقصان میں ہے: صیہونی میڈیا 

?️ 24 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے

ترک صدر کا مغربیوں کے خلاف جارحانہ موقف

?️ 1 جولائی 2023سچ خبریں: ترکی کے صدر نے سویڈن میں قرآن پاک کی حالیہ

سامی جاسم کون ہے اور اسے کیسے گرفتار کیا گیا؟

?️ 14 اکتوبر 2021سچ خبریں:داعش دہشت گرد گروہ کے سربراہ ابو بکر البغدادی کی ہلاکت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے