?️
سچ خبریں:بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کی جنگ بندی کی کوششیں سیاسی جنون نہیں بلکہ اسرائیل اور امریکہ کی اسٹریٹجک ناکامی کی علامت تھیں، ایران نے نہ صرف جنگ کا جواب دیا بلکہ جنگ کے اختتام کی شرائط بھی خود متعین کیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران و اسرائیل کے مابین جنگ بندی کی جلدبازی محض سیاسی عدم توازن یا جنون نہیں، بلکہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی اسٹریٹجک ناکامی کی علامت تھی۔
ایران پر امریکی حملے کے بعد، جس میں قم، اصفہان اور نطنز کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے قطر میں العدید فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے۔ یہ اڈہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔
یہ ردعمل اتنا شدید تھا کہ ٹرمپ، جنہوں نے پہلے ایران کی حکومت گرانے اور ایٹمی سرگرمیاں مکمل ختم کرنے کی بات کی تھی، فوراً لحن بدل کر جنگ بندی کی بات کرنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ تہران اور تل ابیب دونوں جنگ بندی پر آمادہ ہیں اور مقامی وقت کے مطابق سات بجے سے جنگ بندی کا آغاز ہوگا۔
اسرائیلی غلط فہمی اور آخری لمحوں کی جارحیت
جنگ بندی کے آغاز سے پہلے اسرائیل نے یہ سمجھا کہ وہ آخری لمحات میں زیادہ سے زیادہ حملے کر کے برتری حاصل کر لے گا۔ لیکن ان حملوں کے جواب میں ایران نے وعده صادق ۳ نامی آپریشن کے تحت چھ موجوں پر مشتمل جوابی حملے شروع کیے، جن میں اسرائیل کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
اسرائیلی حکومت نے اپنے وزرا کو جنگ بندی پر بات کرنے سے روک دیا، لیکن سابق وزرا اور تجزیہ نگاروں نے اسے نتانیاہو کے لیے ایک المیہ اور عبرتناک انجام قرار دیا۔
اسرائیلی شخصیات کا اعتراف
آویگدور لیبرمن نے کہا: جنگ بندی بغیر کسی معاہدے کے ہمیں دو تین سال میں ایک نئی اور بدتر جنگ کی طرف لے جائے گی۔
اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ ایران نے ابھی اپنے طویلبرد اور وزنی کروز میزائلوں کو استعمال ہی نہیں کیا۔
اسرائیلی وزیر خزانہ اسموتریچ نے کہا: آج کی صبح ہمارے لیے تلخ ہے۔
عمیت ہالیوی، رکن پارلیمنٹ، نے اعتراف کیا کہ ایران کا نظام حکومت بدستور قائم ہے اور اس کے پاس بڑی مقدار میں میزائل موجود ہیں۔
معاریو اخبار نے تسلیم کیا کہ ایران اس جنگ سے پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر نکلا۔
جنرل تام سامیا نے کہا: ایران نے جنگ پر کنٹرول حاصل کر لیا اور جنگ بندی کا وقت خود طے کیا۔ ہم نے صرف وقتی سکون خریدا ہے، وہ بھی بھاری قیمت پر۔
جنگ کا اسٹریٹجک توازن
اسرائیل کا خیال تھا کہ ابتدائی حملوں سے ایرانی حکومت داخلی طور پر کمزور ہو جائے گی، لیکن ایران نے محض 24 گھنٹوں میں منظم جوابی کارروائیاں شروع کیں۔
ایرانی عوام کی اتحاد، ثابت قدمی اور روزمرہ زندگی کی روانی نے صہیونی تجزیہ نگاروں کو حیران کر دیا، جو معاشرتی انارکی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔
ایران کی میزائل طاقت، رفتار، اور درست نشانہ زنی نے ثابت کیا کہ وہ طویل جنگ کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے، جبکہ اسرائیلی پدافند کے پاس میزائلوں کی شدید کمی تھی۔
اسی لیے صہیونی حکومت نے تاریخ کی بدترین ملٹری سنسرشپ نافذ کی تاکہ وعده صادق ۳ کے نقصانات عوام کے علم میں نہ آ سکیں۔
امریکی محاسبات کی غلطی
امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے یہ اندازہ لگایا کہ ایران جھک جائے گا، مذاکرات پر آمادہ ہوگا اور افزودگی روک دے گا۔ لیکن ایرانی حملے نے ٹرمپ کو فوراً پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔
ایران نے جنگ کا انجام خود لکھا
جیسے کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جنگ کا آغاز صہیونی غلطی سے ہوا، لیکن اس کا اختتام ایران نے طے کیا۔
آج یہ حقیقت ہر ایک پر واضح ہے کہ جنگ کی طوالت ایران سے زیادہ نتانیاہو اور ٹرمپ کے لیے خطرناک اور تکلیف دہ تھی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا معاملہ، جو بائیڈن نے پاکستان سے اہم مطالبہ کردیا
?️ 15 اپریل 2021واشنگٹن (سچ خبریں) افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے معاملے کو
اپریل
پی ٹی آئی کا رویہ یہی رہا تو عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی ہوسکتی ہے۔ رانا ثناءاللہ
?️ 10 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر وزیرِاعظم سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا
دسمبر
قومی اسمبلی کے اجلاس کا احوال
?️ 16 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)قومی اسمبلی میں پیر کو ہونے والی اجلاس میں
اگست
ایرانی سائبر طاقت سے صیہونی سائبر ایجنسی پریشان
?️ 28 جون 2023سچ خبریں:گیبی پارٹنوئی نے تل ابیب یونیورسٹی میں انٹرنیٹ ویک کے موقع
جون
کیا مصر بھی برکس میں شامل ہونے والا ہے؟
?️ 26 اگست 2023سچ خبریں: مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے مصر کو اس گروپ
اگست
پاکستان ریلوے کا ایم ایل ون پر جدید ترین فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھانے کا معاہدہ
?️ 4 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کے معروف فائبر برانڈ بینڈ آپریٹر سائبر
ستمبر
صہیونی حکومت کو ایک اور خوفناک اقتصادی دھچکا
?️ 15 اکتوبر 2024سچ خبریں: موجودہ جنگ کے دوران مقبوضہ علاقوں کے لیے غیر ملکی
اکتوبر
صیہونی حکومت کے صدر کا جمہوریہ آذربائیجان کا دورہ منسوخ
?️ 17 نومبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ذرائع ابلاغ نے اس حکومت کے صدر
نومبر