?️
سچ خبریں:صہیونی حکومت کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شام میں پیدا ہونے والی صورتحال قابض حکومت کے لیے سنگین اور تشویشناک حالات پیدا کریں گے۔
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد، اسرائیلی تجزیہ کاروں کے مطابق شام کے مستقبل کی صورتحال غیر واضح اور پیچیدہ ہے، جس کی وجہ سے اسرائیلی حکومت نے اپنی فوج کو شام کی سرحدی علاقے میں تعینات کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر روسی حملہ
اسرائیلی حکومت ، اگرچہ شام میں حکومت کے خاتمے کو ایک تاریخی واقعہ سمجھتی ہے جس کے خطے میں کئی اثرات مرتب ہوں گے اور یہ علاقائی کھیل کے قواعد کو بدل سکتا ہے، لیکن وہ اس بات سے بھی پریشان ہے کہ شام میں ہونے والی تبدیلیاں دوسرے عب ممالک میں بھی منتقل ہو سکتی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل اور فوجی امور کے ماہر عمیرام لیوین نے شام میں جبل الشیخ کی بلندیوں پر اسرائیلی قبضے کو اس بات کا عکاس قرار دیا کہ اسرائیلی حکومت شام میں پیدا ہونے والی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں ممکنہ بے چینی سے بہت زیادہ پریشان ہے۔
لیوین، جو اس سے قبل شمالی محاذ کے کمانڈر اور موساد کے نائب سربراہ کے طور پر کام کر چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت حساس حالات میں ہے۔
غزہ میں جنگ جاری ہے، لبنان کے ساتھ جنگ بندی نام نہاد ہے اور مغربی کنارے پر بھی اسرائیلی فوج کے لیے ایک اور محاذ کھل چکا ہے۔
تل ابیب یونیورسٹی کے فلسطین اسٹڈیز کے صدر اور اسٹریٹجک تجزیہ کار مائیکل میلشٹائن نے یدیعوت آحارونوت اخبار میں اپنے ایک کالم میں اسرائیلی حکومت کے شام کے حوالے سے خدشات پر گفتگو کی۔
انہوں نے 7 اکتوبر کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اسرائیلیوں کو دوبارہ غافل نہیں ہونا چاہیے۔
میلشٹائن نے کہا کہ شام میں بشار الاسد کے بعد کوئی ایسی تبدیلی نہیں آئی جو اسرائیلی حکومت کو نئے مشرق وسطیٰ کے لیے پُر امید کر سکے، جیسا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے منصوبے میں توقع کی جا رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ تل ابیب کو شمالی محاذ اور لبنان میں فوجی کامیابیوں پر خوشی منانے اور جھوٹے فخر کو چھوڑ دینا چاہیے۔
مزید پڑھیں: مغربی ممالک اب بھی شام میں دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں:روس
میلشٹائن نے مزید کہا کہ تل ابیب کو ہوشیار رہنا ہوگا کیونکہ شام میں متضاد مفادات رکھنے والی کئی مختلف تحریکیں موجود ہیں، ان میں سے کچھ جہادی اسلام پسند ہیں، اور یہ فرض کرنا غلط نہیں ہوگا کہ شام مختلف حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔


مشہور خبریں۔
دونوں امریکی جماعتیں کانگریس کا انتخاب جیتنے کی کوشش میں
?️ 21 جنوری 2022سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگلے انتخابات
جنوری
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد مریم اورنگزیب کی کانفرنس
?️ 7 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کابینہ
جون
نیویارک میں سفارتکاری کا عالمی اجتماع، حل کی تلاش یا ناکامی کا تسلسل
?️ 22 ستمبر 2025نیویارک میں سفارتکاری کا عالمی اجتماع،حل کی تلاش یا ناکامی کا تسلسل
ستمبر
امریکی کمپنی کی جانب سے اسرائیل کا بائیکاٹ، اسرائیلی وزیر اعظم بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے
?️ 22 جولائی 2021تل ابیب (سچ خبریں) امریکی کمپنی کی جانب سے اسرائیل کے بائیکاٹ
جولائی
تہران میں پاکستانی سفیر: ہم ایران کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے رہے ہیں
?️ 28 اکتوبر 2025سچ خبریں: تہران میں پاکستانی سفیر نے کہا: ہم ایران اور پاکستان
اکتوبر
بلوچستان میں بدامنی، اراکین اسمبلی کا صوبائی حکومت سے سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ
?️ 28 اکتوبر 2022بلوچستان:(سچ خبریں) بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اور حالیہ دہشت
اکتوبر
امریکی قابضین کے ہاتھوں شام کے 70 آئل ٹینکرز چوری
?️ 17 مئی 2022سچ خبریں:امریکی فوج نے ایک بار پھر شام کا تیل چوری کرکے
مئی
بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات جاری
?️ 16 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم
اکتوبر