?️
سچ خبریں:مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں، لیکن ان ممالک کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی ترقی، دانشورانہ ملکیت اور ڈیجیٹل خودمختاری میں کس حد تک آگے بڑھتے ہیں۔
ٹی وی برکس کے مطابق، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ سے عالمی روزگار کی ساخت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ تبدیلی گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو ٹیکنالوجی کی ترقی اور دانشورانہ ملکیت کے نئے مراکز میں تبدیل کر سکتی ہے، یا پھر انہیں سستی افرادی قوت اور بیرونی بنیادی ڈھانچے پر انحصار کرنے والی معیشتوں تک محدود رکھ سکتی ہے۔
ڈیجیٹل دور میں روزگار کی منڈی میں تبدیلی
عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ مستقبل کے روزگار کے مطابق، 2030 تک ڈیجیٹل رسائی، مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام دنیا کے 60 فیصد کاروباروں کے طریقۂ کار کو تبدیل کر دیں گے۔ اس صورت حال میں ٹیکنالوجی سے متعلق شعبوں، خصوصاً مصنوعی ذہانت، بڑے ڈیٹا (بگ ڈیٹا) اور سائبر سکیورٹی میں روزگار کی طلب بڑھنے کا امکان ہے۔
اس رپورٹ کے تخمینوں کے مطابق، آئندہ 4 برسوں میں روزگار کی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں 170 ملین نئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں، جبکہ تقریباً 92 ملین ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔
اولگا ارگونوا، جو سینٹ پیٹرزبرگ اسٹیٹ یونیورسٹی آف اکنامکس کے شعبۂ بینکاری، مالیاتی منڈیوں اور بیمہ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور روسی اکیڈمی آف سائنسز کی ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ آج استعمال ہونے والی پیشہ ورانہ مہارتوں میں سے تقریباً 40 فیصد کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہوگی۔
ان کے مطابق، ہر 100 کارکنوں میں سے 59 کو دوبارہ تربیت حاصل کرنے یا اپنی مہارتیں بہتر بنانے کی ضرورت پیش آئے گی۔ یہ تبدیلیاں صرف ترقی یافتہ معیشتوں تک محدود نہیں رہیں گی۔
ارگونوا نے ٹی وی برکس سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق روزگار کے مواقع میں اضافے کا رجحان بتدریج ترقی پذیر معیشتوں تک بھی پھیل رہا ہے۔ ان کے مطابق، عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متوسط آمدنی والے ممالک میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں کے مواقع کی تعداد، زیادہ آمدنی والی معیشتوں کے مقابلے میں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
2021 سے 2024 کے درمیان جن ملازمتوں کے اشتہارات میں جنریٹو مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کی شرط شامل تھی، ان کی تعداد تقریباً 9 گنا بڑھ گئی۔ ان میں سے لگ بھگ پانچواں حصہ متوسط آمدنی والے ممالک میں تھا۔
تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں بھی نئے شعبوں سے متعلق ملازمتوں کی طلب میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، ان ممالک کو صرف مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر تیار کرنے والے ماہرین ہی درکار نہیں ہوں گے، بلکہ ایسے ماہرین کی اہمیت بھی بڑھے گی جو اس ٹیکنالوجی کو مختلف صنعتوں میں استعمال کر سکیں۔
ڈیٹا کا تجزیہ، سائبر سکیورٹی، مالیاتی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ادائیگیاں، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، روبوٹکس اور خودکار نظام، زرعی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل صحت اور دور دراز سے طبی خدمات، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم، ای کامرس، ڈیجیٹل لاجسٹکس اور جغرافیائی معلومات کے نظام ان شعبوں میں شامل ہیں جہاں روزگار کے امکانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، مقامی زبانوں اور قومی ڈیٹا سیٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت کو ڈھالنے والے ماہرین بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں ماہر افرادی قوت کی تربیت
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آج اسکولوں میں زیر تعلیم 65 فیصد بچے مستقبل میں ایسے پیشوں سے وابستہ ہوں گے جو ابھی وجود ہی نہیں رکھتے۔ عالمی اقتصادی فورم کی مستقبل کے روزگار نامی رپورٹ میں پیش کیے گئے اس تخمینے پر اقوام متحدہ کے کمیشنوں اور کمیٹیوں کے اجلاسوں میں بھی بحث ہو چکی ہے۔
یہ تبدیلی گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ ان کے تعلیمی نظاموں کو بھی روزگار کی منڈی میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق ازسرنو ترتیب دینا ہوگا۔
ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے ہائر اسکول آف کنٹیمپریری سوشل سائنسز میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے اسٹریٹجک تجزیے کے تحقیقی مرکز کے نائب سربراہ تیموفی وورونین نے اس حوالے سے کہا کہ ایک طرف روایتی سرکاری ادارے ابھی تک نئے پیشوں کے ظہور اور تعلیمی معیار میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت کے لیے پوری طرح تیار نہیں ہیں، لیکن دوسری طرف گلوبل ساؤتھ کے ممالک نے کئی ترقیاتی مراحل کو عبور کرکے براہ راست نئی ٹیکنالوجی کی جانب بڑھنے کی صلاحیت بھی ظاہر کی ہے۔
اس ماہر کے مطابق، بہت سے ترقی پذیر ممالک میں یونیورسٹی کی روایتی تعلیم کا نظام سست رفتاری سے تبدیل ہوتا ہے۔ ان ممالک میں سرکاری تعلیمی معیار کو اپ ڈیٹ کرنے میں اوسطاً 6 سے 9 سال لگ جاتے ہیں۔
نتیجتاً، جب کوئی نیا شعبہ یا مہارت اسکولوں اور جامعات کے نصاب میں شامل ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ ٹیکنالوجی اس سے آگے نکل چکی ہو۔
تاہم، اسکولوں اور جامعات کا کام صرف روزگار کی منڈی کی فوری ضروریات پوری کرنا نہیں ہے، بلکہ انہیں ایسی بنیادی تعلیم فراہم کرنی چاہیے جو ماہرین کو تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ماحول میں نئی مہارتیں سیکھنے اور فرسودہ طریقوں اور آلات کو ترک کرنے کے قابل بنائے۔
ارگونوا کا خیال ہے کہ گلوبل ساؤتھ کے تعلیمی نظاموں کو کسی ایک مخصوص پیشے کی تربیت دینے کے بجائے مسلسل سیکھنے اور تیزی سے دوبارہ تربیت حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
ترقی پذیر معیشتوں کو بیک وقت 2 اہم چیلنجوں کا سامنا ہے۔ پہلا چیلنج جنریٹو مصنوعی ذہانت، بڑے ڈیٹا کے تجزیے اور روبوٹک نظاموں جیسے شعبوں میں ماہر اساتذہ اور تربیت کاروں کی کمی ہے۔ دوسرا چیلنج ڈیجیٹل خلیج ہے، جس کے باعث ٹیکنالوجی اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچے تک رسائی میں عدم مساوات پیدا ہوتی ہے۔
ان رکاوٹوں کے باوجود، گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو ڈیجیٹل مقابلے میں بعض اہم فوائد بھی حاصل ہیں، جن میں نوجوان آبادی سب سے نمایاں ہے۔
وورونین نے کہا کہ افریقہ میں آبادی کی اوسط عمر تقریباً 19.5 سال، جبکہ جنوبی ایشیا میں تقریباً 28 سال ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان خطوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو سماجی زندگی میں قدم رکھنے ہی سے اسمارٹ فون استعمال کرنے لگتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان ممالک میں روایتی یونیورسٹی ڈگریوں کے بجائے مخصوص پیشہ ورانہ اسناد اور عملی مہارتوں کی جانب رجحان بڑھ رہا ہے۔ ترقی پذیر ممالک نے بہت سے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پہلے ہی یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ اب یونیورسٹی کی ڈگری روزگار کی یقینی ضمانت نہیں رہی۔
بھارت، نائیجیریا، انڈونیشیا، کینیا اور دیگر ممالک میں مختصر مدت کے عملی تربیتی پروگرام، جنہیں بوٹ کیمپ کہا جاتا ہے، تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔
ان کے ذریعے شرکا کم وقت میں مختلف عملی مہارتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ بڑی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیاں اور تعلیمی ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم بھی مختصر دورانیے کے کورسز اور پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ پروگرام منعقد کرتے ہیں۔
اس رجحان سے ترقی پذیر ممالک کے ماہرین کو عالمی منڈیوں میں داخل ہونے اور اپنی آمدنی بڑھانے کے مواقع ملتے ہیں۔ نتیجتاً، افریقہ، بھارت، لاطینی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے چھوٹے شہروں میں رہنے والے ماہرین کے لیے روزگار کی تلاش میں لازماً دارالحکومتوں یا بیرون ملک منتقل ہونا ضروری نہیں رہتا۔
ڈیجیٹل روزگار کی منڈی کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارگونوا نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت میں پروگرامر، ڈیٹا تجزیہ کار، ڈیزائنر، انجینئر، استاد یا مشیر اپنی خدمات براہ راست عالمی منڈی میں پیش کر سکتا ہے، جس کا دائرہ اب بہت وسیع ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق، اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کی کانفرنس (انکٹاڈ) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 میں ترقی پذیر معیشتوں کی جانب سے ڈیجیٹل ذرائع سے فراہم کی جانے والی خدمات کی برآمدات کی مالیت تقریباً 1.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ 2023 میں یہ مالیت پہلی مرتبہ 1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔
پلیٹ فارم پر مبنی معیشت بھی اس صلاحیت کی ایک مثال ہے۔ عالمی بینک کے تخمینوں کے مطابق، آزادانہ اور منصوبہ جاتی بنیادوں پر کام کرنے والی معیشت، جسے گگ اکانومی کہا جاتا ہے، عالمی روزگار کی منڈی کا 12 فیصد تک حصہ رکھتی ہے۔ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک عالمی ڈیجیٹل روزگار کے پلیٹ فارموں کی مجموعی ٹریفک کا تقریباً 40 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔
اسی طرح، زیر جائزہ مدت کے دوران اس شعبے کے سب سے بڑے پلیٹ فارموں میں سے ایک پر سب صحارا افریقہ کے ممالک میں ملازمتوں کے مواقع کی تعداد میں 130 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ شمالی امریکہ میں یہ اضافہ صرف 14 فیصد رہا۔
ذہین افرادی قوت کا بیرون ملک اخراج اور ڈیجیٹل خام مال فراہم کرنے کا خطرہ
ترقی پذیر ممالک کے ماہرین میں بڑی کمپنیوں اور بین الاقوامی آجرین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی ان ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ تاہم، ماہرین اس کے ساتھ ڈیجیٹل معیشت کے نئے ڈھانچے سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں بھی خبردار کرتے ہیں۔
ان کے نزدیک بنیادی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسانی افرادی قوت کی جگہ لے سکتی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ ڈیجیٹل ویلیو چین میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو کون سا مقام حاصل ہوگا۔
ارگونوا نے ٹی وی برکس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ نئی ڈیجیٹل ویلیو چین میں ان ممالک کی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا وہ صرف سستی ڈیجیٹل افرادی قوت فراہم کرنے والے ممالک بن کر رہ جائیں گے، یا اپنی ٹیکنالوجی، پلیٹ فارم، ڈیٹا اور دانشورانہ ملکیت بھی خود تیار کریں گے؟
برازیل کی ماہر جغرافیائی سیاست و ٹیکنالوجی خودمختاری ایزابیلّا روچا-داشیچوا بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتی ہیں۔ وہ برکس اور گلوبل ساؤتھ میں ٹیکنالوجی کے معاملات کی ماہر اور برازیل میں برکس پلس اسٹریٹجک ٹیکنالوجی فورم کی سربراہ ہیں۔
اپنے تجزیے میں انہوں نے ڈیجیٹل خودمختاری اشاریے (DSI) کا حوالہ دیا۔ یہ ایک تجزیاتی پیمانہ ہے جو کسی ملک کی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو خودمختارانہ طور پر چلانے، مشکلات کے مقابلے میں اس کی پائیداری برقرار رکھنے اور غیر ملکی ٹیکنالوجی و حل پر انحصار کم کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیتا ہے۔
عمومی طور پر یہ اشاریہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی حکومت اور معاشرہ، خصوصاً بیرونی دباؤ کے حالات میں، اپنی ڈیجیٹل ترقی کی سمت کا آزادانہ تعین کس حد تک کر سکتے ہیں۔
اس ماہر کے حوالے سے پیش کی گئی مطالعات کے مطابق، گلوبل ساؤتھ کے بہت سے ممالک میں ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ہنرمند افراد، ٹیکنالوجی تیار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ماہرین اور نسبتاً ترقی یافتہ ضابطہ ساز ادارے موجود ہیں۔
اس کے باوجود، یہ ممالک بیرونی بنیادی ڈھانچے، پلیٹ فارموں، دانشورانہ ملکیت اور ویلیو چین کے معاملے میں دوسرے ممالک پر انحصار کرتے ہیں۔
روچا-داشیچوا کے مطابق، بنیادی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے کے عمل کو مقامی پیداواری صلاحیت میں تبدیل کیا جائے، تاکہ ماہرین کو اپنے ہی ممالک میں برقرار رکھا جا سکے اور ذہین افرادی قوت کے بیرون ملک اخراج کو روکا جا سکے۔
ان کے مطابق، گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو اب ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ماہرین، ڈیجیٹل صنعتی پالیسی کے تجزیہ کاروں، سرکاری خریداری کے ماہرین، مصنوعی ذہانت کے آڈیٹرز اور ایسے افراد کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے جو جامعات، حکومتوں اور پیداواری شعبے کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔
تاہم، ایسے ماہرین کی تربیت خصوصی اہمیت رکھتی ہے جو مقامی انفارمیشن ٹیکنالوجی منصوبے اور پلیٹ فارم بنانے اور انہیں ترقی دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اس طرح کی حکمت عملی ڈیجیٹل خام مال کے نام سے معروف طرز معیشت کے قیام کو روک سکتی ہے۔ اس طرز میں خام مال برآمد کرنے پر انحصار کرنے والی معیشتوں کا روایتی ڈھانچہ ڈیجیٹل شعبے میں بھی دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے۔
روایتی نظام میں گلوبل ساؤتھ کے ممالک عالمی منڈیوں کو سستے وسائل فراہم کرتے تھے، لیکن تیار شدہ مصنوعات کی حتمی قدر میں ان کا حصہ محدود رہتا تھا۔ ارگونوا کے مطابق، ڈیجیٹل معیشت میں ڈیٹا اور سستی ڈیجیٹل افرادی قوت تیل، معدنیات اور زرعی مصنوعات کی جگہ لے سکتی ہے۔
ڈیٹا کی درجہ بندی، آن لائن مواد کی نگرانی، بنیادی پروگرامنگ، کال سینٹرز میں کام اور ڈیجیٹل نوعیت کے چھوٹے چھوٹے کام ایسے شعبے ہیں جنہیں ترقی پذیر ممالک کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، ویلیو چین کے سب سے زیادہ منافع بخش حصے، مثلاً الگورتھم، کلاؤڈ بنیادی ڈھانچہ، پلیٹ فارم، رجسٹرڈ ایجادات، برانڈز اور دانشورانہ ملکیت، دنیا کے چند محدود ٹیکنالوجی مراکز میں مرتکز رہ سکتے ہیں۔
گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے ڈیجیٹل ترقی کی حکمت عملی
ماہرین کا خیال ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو ڈیجیٹلائزیشن کے مواقع سے فائدہ اٹھانے اور دانشورانہ ملکیت کے نئے مراکز بننے کے لیے اسٹریٹجک فیصلوں، مالی سرمایہ کاری اور تعلیمی نظام و ماہر افرادی قوت کی تربیت میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
وورونین نے اس سلسلے میں کئی ترجیحات پیش کیں۔ ان کے مطابق، بچوں کی تعلیم کو صرف ابتدائی کوڈنگ تک محدود رکھنے کے بجائے معماری طرز فکر اور پرامپٹ انجینئرنگ کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ خودمختارانہ طور پر سیکھنے، تیزی سے دوبارہ تربیت حاصل کرنے، مختلف شعبوں کے علم کو یکجا کرنے اور بچوں و نوجوانوں کے لیے بین الشعبہ جاتی تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر شراکت داری قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس نظام میں حکومت بنیادی ضوابط اور پالیسیوں کا تعین کرے، جبکہ کاروباری ادارے، تحقیقی مراکز اور صنعتی کمپنیاں تعلیمی نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔
ماہرین کے مطابق، ایسے حالات پیدا کرنے سے صرف سستی افرادی قوت تیار کرنے کے بجائے ایسے ماہرین کی تربیت ممکن ہو سکے گی جو دانشورانہ ملکیت اور جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی تیار کر سکیں اور بالآخر گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنا سکیں۔
روچا-داشیچوا نے ٹی وی برکس سے گفتگو کرتے ہوئے زور دیا کہ مستقبل میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے پیشے وہ ہوں گے جو گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو محدود خودمختاری سے آگے بڑھ کر اس صلاحیت تک پہنچنے میں مدد دیں کہ وہ خود طے کر سکیں کہ ٹیکنالوجی کیسے تیار کی جائے، اسے کیسے منظم کیا جائے اور قومی ترقی کے لیے اسے کس طرح استعمال کیا جائے۔


مشہور خبریں۔
جنوبی یمن کے سمندری پانیوں میں جہاز کے قریب مسلح کشتیوں کی موجودگی کی اطلاع
?️ 1 جولائی 2026سچ خبریں:برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشن سینٹر نے اعلان کیا ہے
جولائی
مسئلہ فلسطین کی کامیابی شام کی کامیابی ہے: بشار الاسد
?️ 17 مئی 2022سچ خبریں: روس کی رپورٹ میں شام کے صدر بشار الاسد کے
مئی
مراد سعید کی اپوزیشن پر شدید تنقید، لوٹ ماربچانے کے لئے بیانات دے رہی ہے
?️ 13 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعیدنے اپوزیشن پر شدید
مارچ
بلوچستان میں دہشتگردی پر وزارت خارجہ کا بیان سامنے آگیا
?️ 4 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے بھارتی
فروری
سعودی جنگی طیاروں کی یمن کے صوبہ مأرب پر بمباری
?️ 8 ستمبر 2026سچ خبریں:المسیرہ کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے صوبہ مأرب
ستمبر
ایران کے خلاف جنگ اور عالمی میڈیا؛ ٹرمپ کے لیے شکست ہضم کرنا مشکل ہے
?️ 8 مئی 2026سچ خبریں:امریکہ اور صیہونی حکومت کی ایران کے خلاف جنگ میں اسٹریٹجک
مئی
ملک بھر میں اومیکرون کی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے
?️ 3 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق این سی اوسی کا کہنا
جنوری
سوڈان کی خانہ جنگی میں صیہونی حکومت کا کردار؛ حمیدتی کے اسرائیل سے رابطوں کا انکشاف
?️ 29 اگست 2026سچ خبریں:افریقہ انٹیلیجنس کی رپورٹ میں سوڈان کی ریپڈ سپورٹ فورسز اور
اگست