?️
سچ خبریں:ایران جنگ کے بعد وسطی ایشیائی ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے کے اقدامات شروع کر دیے، قزاقستان، ازبکستان اور یورپی یونین کے درمیان نئے عسکری و لاجسٹک منصوبے سامنے آ گئے۔
ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جارحیت کے بعد مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے عالمی اثرات کے نتیجے میں وسطی ایشیائی ممالک نے اپنے علاقائی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
ایشیا نیوز کے مطابق قزاقستان نے ترکی کی فوجی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھولنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ازبکستان کے ساتھ مل کر یورپی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پروگراموں کے ذریعے بین الریاستی اتحاد کو مزید مستحکم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
مغربی ایشیا کی جنگ نے متاثرہ ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ 57 دفاعی منصوبوں میں 1.07 ارب یورو کی سرمایہ کاری کرے گی، جس کا مقصد ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جسے دفاعی شینگن کہا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت یورپ سے مشرقی سرحدوں تک فوجی اہلکاروں، سازوسامان اور لاجسٹک نقل و حرکت کے لیے ریلوے، سڑک، سمندری اور فضائی راستوں پر مشتمل بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے، جو ممکنہ طور پر نیٹو کے اقدامات کا متبادل یا تکمیلی کردار ادا کرے گا۔
یہ منصوبہ اس وقت رومانیہ اور مالدووا میں جاری ہے، جبکہ مالدووا کا دارالحکومت کیشیناؤ یورپی یونین میں شمولیت سے قبل ہی اس پروگرام کا حصہ بن چکا ہے، جہاں مقامی میڈیا کے مطابق فوجی قافلے یوکرین کی جانب رواں دواں ہیں۔
حالیہ دنوں میں قازقستان نے اپنی پارلیمان کی منظوری کے قریب ایک معاہدے کے تحت ترکی کی فوجی پروازوں کے لیے فضائی حدود کھولنے کا اعلان کیا، جو اگرچہ محدود نوعیت کا ہے مگر عملی طور پر ترک ریاستوں کی تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں قزاقستان کی فضائی حدود لاجسٹک ہم آہنگی کے لیے کلیدی اہمیت اختیار کر چکی ہیں، کیونکہ اس کے ذریعے ترکی سے ازبکستان تک ترسیل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ ترکی نیٹو کا رکن ہے اور روس کے مقابل کھڑا ہے، جبکہ قزاقستان اور ازبکستان سی ایس ٹی او کے رکن ہونے کے باعث ماسکو کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے ان اتحادوں پر ازسرنو غور کو جنم دیا ہے۔
ترک ریاستوں کی تنظیم اب اپنے ایک ممکنہ عسکری اتحاد کے قیام پر غور کر رہی ہے، جو یورپ میں ابھرتے ہوئے دفاعی ڈھانچے سے مماثلت رکھتا ہو، جبکہ اس بدلتی ہوئی طاقت کی ترتیب پر روس کا ردعمل بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اس تناظر میں بخارا میں قاسم جومارت توقایف اور شوکت مرزیایف کے درمیان حالیہ ملاقات نے ظاہر کیا کہ آستانہ اور تاشقند نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے وسطی ایشیا کو ایک خودمختار طاقت کے مرکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو مشرق و مغرب دونوں کے ساتھ توازن قائم کر سکے۔
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مختلف خطے اب بڑی طاقتوں پر انحصار کے بجائے اپنی دفاعی اور اقتصادی حکمت عملی خود تشکیل دینے کو ترجیح دے رہے ہیں، تاکہ توانائی، معیشت اور لاجسٹکس سے متعلق بحرانوں کا بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔ اس تناظر میں وسطی ایشیا تیزی سے یورپ کے قریب ہوتا جا رہا ہے، چاہے وہ منڈیوں کا معاملہ ہو یا دفاعی تعاون کا۔


مشہور خبریں۔
دو ریاستی منصوبے کی سرکاری ناکامی کی وجوہات
?️ 29 اکتوبر 2023سچ خبریں:میدان اور حفاظتی اثرات کے علاوہ الاقصی طوفان نے خطے میں
اکتوبر
کیا اسرائیلی پولیس کے ایس ایم ایس سسٹم میں کوئی خرابی تھی؟
?️ 20 دسمبر 2023سچ خبریں:عبرانی زبان میں آئی ایس کی ویب سائٹ نے اعلان کیا
دسمبر
برطانوی وزیر انسداد بدعنوانی مستعفی! وجہ ؟
?️ 16 جنوری 2025سچ خبریں: Neue Züriche Zeitung، برطانوی انسداد بدعنوانی کی وزیر ٹیولپ صدیق نے
جنوری
امریکہ کی یوکرین کے لیے نئے امدادی پیکج کی تیاری
?️ 13 مارچ 2024سچ خبریں: امریکی حکام کے مطابق اس ملک کی حکومت یوکرین کی
مارچ
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی قرآن پاک کی ایک آیت کی تلاوت کے ذریعہ مسلمانوں کی تعریف
?️ 14 مارچ 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے قرآن پاک کی ایک آیت
مارچ
حکومت اور اپوزیشن میں اعلیٰ سطح پر رابطے بحال ہوگئے
?️ 12 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) حکومت اور اپوزیشن میں اعلیٰ سطح پر رابطے
نومبر
عوفر جیل میں صہیونیوں کی بربریت پر حماس کا شدید ردعمل
?️ 18 فروری 2025سچ خبریں: فلسطین کی تحریک حماس نے عوفر جیل میں فلسطینی قیدیوں
فروری
صیہونی حکومت کے خلاف ایران کی کارروائی پر اقوام متحدہ کے سربراہ کا ردعمل
?️ 14 اپریل 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے مقبوضہ علاقوں پر ایران
اپریل