ایران کے خلاف جنگ سے خلیجی عرب ممالک کے خواب چکنا چور

ایران کے خلاف جنگ

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف جنگ نے خلیج فارس کے ممالک کی فضائی صنعت، عالمی تجارتی روابط اور معاشی ترقی کے منصوبوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات نے خطے کی فضائی گزرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی سکیورٹی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ نے خلیج فارس کے عرب ممالک کی فضائی صنعت اور معاشی ترقی کے اس ماڈل کو سنگین چیلنج سے دوچار کر دیا ہے، جس کی بنیاد انہیں عالمی تجارت، سیاحت اور فضائی سفر کے بڑے مراکز میں تبدیل کرنا تھا۔

رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1۔ جغرافیائی محلِ وقوع، جو اب سکیورٹی کا خطرہ بن گیا

خلیجی ممالک نے اپنے جغرافیائی محلِ وقوع کو یورپ اور ایشیا کے درمیان فضائی سفر کے بڑے مراکز میں تبدیل کرنے کے لیے سینکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

یہ خطہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی سے چار گھنٹے کی پرواز کے فاصلے پر واقع ہے، لیکن یہی جغرافیائی اہمیت اب اس کے ہوائی اڈوں کو ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے میزائلوں اور ڈرونز کی ممکنہ زد میں بھی لے آئی ہے۔

2۔ فضائی سلامتی کے عالمی تشخص کو نقصان

ہوائی اڈوں پر حملوں کی اہمیت صرف عمارتوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے جسمانی نقصان تک محدود نہیں ہے۔

سعودی عرب میں امریکہ کے سابق سفیر مائیکل ریٹنی کے مطابق، توانائی کی تنصیبات پر حملے شدید معاشی نقصان پہنچا سکتے ہیں، لیکن ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے نفسیاتی اثرات مختلف ہوتے ہیں، کیونکہ اس سے کسی ملک کی بیرونی دنیا سے رابطے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

ان کے مطابق، خطے کے ہوائی اڈوں اور فضائی کمپنیوں کی ساکھ اس تصور پر قائم ہے کہ متعلقہ ممالک محفوظ اور سیاحوں کے لیے پُرکشش مقامات ہیں۔ میزائل اور ڈرون حملوں کا مسلسل خطرہ اس تصور کو ختم کر سکتا ہے۔

3۔ بین الاقوامی پروازوں کی معطلی

جنگ کے دوران یورپ اور شمالی امریکہ کی متعدد غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں کے لیے پروازیں روک دی ہیں۔

بعض کمپنیوں نے براہِ راست پروازوں کی معطلی آئندہ سال تک بڑھا دی ہے، جس کے نتیجے میں خطے کا منافع بخش موسمِ سرما کا سیاحتی سیزن بھی متاثر ہو رہا ہے۔

4۔ اربوں ڈالر مالیت کے طیاروں کی منتقلی

رپورٹ کے مطابق، ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے جنگ کے دوران فضائی تنصیبات پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شامل تھے۔

ان حملوں کے بعد ہوائی اڈے پر موجود طیاروں کو وہاں سے منتقل کرنے کی بڑے پیمانے پر کوشش شروع کی گئی۔ ان طیاروں کی مجموعی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔

ہوائی اڈے کے دوبارہ کھلنے کے بعد بھی متعدد مسافر بردار طیاروں نے وہاں پروازیں کرنے سے گریز کیا۔

فضائی سلامتی کے تجزیہ کار اور ورجن اٹلانٹک کے سابق سکیورٹی ڈائریکٹر اینڈی بلیک ویل کے مطابق، کسی ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنے کا اعلان اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہاں پرواز کرنا محفوظ بھی ہو گیا ہے۔

5۔ عدم تحفظ کے پوشیدہ معاشی اخراجات

خلیجی ممالک کے لیے فضائی سفر کے خطرات بڑھنے سے بیمہ اخراجات، پروازوں کے شیڈول میں تبدیلی، طویل فضائی راستوں کے انتخاب اور طیاروں کو خطرے سے دوچار ہوائی اڈوں سے منتقل کرنے کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بعض غیر ملکی کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کے منتظمین نے فضائی سفر کے خطرات کم کرنے کے لیے طویل زمینی راستے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ ریاض میں مقیم کاروباری منتظمین کے ایک گروپ نے کاروباری اجلاسوں میں شرکت کے لیے فضائی سفر کے بجائے صحرائی علاقے سے گزرتے ہوئے دو بین الاقوامی سرحدیں عبور کیں اور 18 گھنٹے کا زمینی سفر کرکے دمشق پہنچے۔

6۔ ہوائی اڈوں کے توسیعی منصوبے غیر یقینی کا شکار

جنگ نے خلیجی ممالک کے ہوائی اڈوں کی توسیع کے بڑے منصوبوں کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔

دبئی میں 35 ارب ڈالر کی لاگت سے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی توسیع کا منصوبہ جاری ہے۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ 2032 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ مکمل ہونے کے بعد اس ہوائی اڈے کی سالانہ گنجائش 26 کروڑ سے زیادہ مسافروں تک پہنچ جائے گی، جس سے اسے دنیا کے سب سے بڑے فضائی مراکز میں شامل کرنے کا ہدف ہے۔

اس کے برعکس، ریاض میں شاہ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے منصوبے کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سعودی عرب نے 2022 میں اس ہوائی اڈے کی تعمیر کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد 2030 تک سالانہ 12 کروڑ مسافروں کی گنجائش حاصل کرنا تھا۔

تاہم، باخبر ذرائع کے مطابق، یمنی حملوں کے بعد اس منصوبے کی بعض سرگرمیاں روک دی گئی ہیں اور سکیورٹی صورتِ حال واضح ہونے تک اس کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی برقرار ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بعض حصوں کو اتنا نقصان پہنچا ہے کہ ان کی مرمت میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

7۔ خلیجی ممالک کا معاشی ماڈل خطرے میں

متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک نے فضائی صنعت کو صرف مسافروں کی آمدورفت سے آمدنی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھا، بلکہ اسے عالمی تجارت، سیاحت، تفریح، ٹیکنالوجی اور مالیاتی سرگرمیوں کے مراکز بننے کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بنایا ہے۔

کنگز کالج لندن کے سکیورٹی اسٹڈیز کے سینئر پروفیسر آندریاس کریگ کے مطابق، ان ممالک کا حکومتی اور ترقیاتی ماڈل عالمی مالیاتی نظام، اشیا کی نقل و حمل، لاجسٹکس، سپلائی چین اور انسانی آمدورفت کو دنیا کے ساتھ مربوط رکھنے پر قائم ہے۔

ان کے مطابق، ان سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ فضائی نقل و حمل کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ اسی لیے ہوائی اڈوں کا غیر محفوظ ہونا ان ممالک کی معاشی حکمتِ عملی کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیے کے مطابق، خلیجی ممالک نے جس جغرافیائی محلِ وقوع کو عالمی معاشی ترقی کا اہم اثاثہ بنایا تھا، ایران کے خلاف جنگ کے بعد وہی مقام ان کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ نے وینزویلا سے روس، چین، ایران اور کیوبا سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا ہے

?️ 7 جنوری 2026سچ خبریں: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا سے

میانوالی: پنجاب پولیس نے فتنہ الخوارج کا تھانے پر حملہ ناکام بنادیا، 4 دہشت گرد ہلاک

?️ 2 دسمبر 2024 میانوالی: (سچ خبریں) پنجاب پولیس نے ضلع میانوالی میں 4 دہشت

اپوزیشن کو وزیر داخلہ کا انتباہ: قانون ہاتھ میں نہ لے

?️ 6 فروری 2021راولپنڈی(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے اپوزیشن کو متنبہ کرتے

صہیونی قیدیوں کے حوالے کرتے وقت حماس کا نیا اقدام

?️ 2 فروری 2025سچ خبریں: فلسطینی تحریک حماس دشمن کو مختلف پیغامات پہنچانے کے مقصد

آئی پیک کی طاقت اور ویٹو کا زوال؛ صہیونی لابی کے بارے میں مبصرین کیا کہتے ہیں؟

?️ 4 اگست 2026سچ خبریں: نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے کچھ عرصہ قبل ایک

انتظار ختم، فواد خان کی بھارتی فلم ’ابیر گلال‘ ریلیز

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: فلمی شائقین کا طویل انتظار ختم ہوا، پاکستانی اداکار فواد

مستقبل میں بھی افغان امن کے لیے کام کرتے رہیں گے: فیض حمید

?️ 4 ستمبر 2021کابل (سچ خبریں)  میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی

ماضی کی نسبت آج حماس کو تباہ کرنا زیادہ مشکل ہے: صہیونی ماہرین

?️ 21 جنوری 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کے چینل 12 نے غزہ کی پٹی کے خلاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے