جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن؛ بھارت کی فوجی برتری یا پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس؟

جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن؛ بھارت کی فوجی برتری یا پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس؟

?️

سچ خبریں:بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور جنگ کے امکانات نے دونوں ممالک کے درمیان طاقت کے توازن کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

الجزیرہ نیوز چینل نے ایک رپورٹ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور طاقت کے توازن پر روشنی ڈالی ہے، رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان 1947 سے جاری کشیدگی کے تناظر میں 22 اپریل کو پیش آنے والے واقعے نے، جس میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، سرحدی علاقوں میں تناؤ کو شدید کر دیا اور دونوں ممالک کے درمیان زمینی اور فضائی راستے معطل کر دیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے مسلسل واقعات دو جوہری طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، جیسا کہ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران دیکھنے میں آیا تھا۔
بھارت اور پاکستان کا فوجی موازنہ
آبادی اور افرادی قوت  
– بھارت کی آبادی 1.4 ارب سے زائد، جبکہ پاکستان کی آبادی 252 ملین ہے۔
– بھارت کی افرادی قوت 662 ملین اور پاکستان کی 108 ملین ہے۔
فوجی قوت  
– بھارت کے فعال فوجی اہلکاروں کی تعداد تقریباً 1.5 ملین ہے، پاکستان کے 654 ہزار۔
– بھارت کے پاس 1.1 ملین ریزرو فوجی ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 550 ہزار۔
دفاعی بجٹ  
– بھارت کا سالانہ دفاعی بجٹ تقریباً 75 ارب ڈالر، پاکستان کا تقریباً 8 ارب ڈالر۔
– بھارت پر 371 ارب ڈالر اور پاکستان پر 93 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے۔
زمینی طاقت  
– بھارت کے پاس 4201 ٹینک، 150000 بکتر بند گاڑیاں اور 264 موبائل راکٹ لانچرز ہیں۔
– پاکستان کے پاس 2627 ٹینک، 18000 بکتر بند گاڑیاں اور 600 موبائل راکٹ لانچرز موجود ہیں۔
ایٹمی طاقت  
– بھارت اور پاکستان دونوں کے پاس 200 سے 250 جوہری ہتھیار ہیں۔
– بھارت کا اگنی میزائل 5000 کلومیٹر تک مار کرتا ہے جبکہ پاکستان کا شاہین 2500 سے 3000 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
– پاکستان کے پاس 165 ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں اور ہر سال تقریباً 30 نئے وارہیڈز تیار کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔
فضائی قوت  
– بھارت کے پاس 2229 طیارے ہیں، جن میں 513 جنگی طیارے شامل ہیں۔
– پاکستان کے پاس 1399 طیارے ہیں، جن میں 328 جنگی طیارے شامل ہیں۔
– بھارت کے پاس 899 ہیلی کاپٹرز، پاکستان کے پاس 373 ہیلی کاپٹرز ہیں۔
بحری قوت  
– بھارت کے پاس 293 بحری جنگی اثاثے اور پاکستان کے پاس 121 ہیں۔
– بھارت کے پاس 18 آبدوزیں اور دو طیارہ بردار بحری جہاز موجود ہیں، پاکستان کے پاس 8 آبدوزیں ہیں۔
– بھارت کے پاس 13 ڈسٹرائرز ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس کوئی نہیں۔
 دفاعی شراکت دار
– پاکستان نے چین اور ترکی کے ساتھ فوجی تعاون کو وسعت دی ہے، چینی FC-31 طیارے اور ترکی کے قاآن جنگی طیارے خریدے ہیں۔
– بھارت امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ اپنی فوجی شراکت داری مضبوط کر چکا ہے، اپنے دفاعی نظام، میزائلوں اور ڈرونز کی ترقی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
 نتیجہ
اعداد و شمار کے مطابق، تکنیکی برتری اور فوجی حجم کے لحاظ سے بھارت کو برتری حاصل ہے، تاہم، پاکستان کی جوہری صلاحیت اور دفاعی حکمت عملی اسے بھارتی فوجی برتری کے مقابلے میں اہم ڈیٹرنس فراہم کرتی ہے، جنوبی ایشیا میں اسلحے کی یہ دوڑ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔

مشہور خبریں۔

افغانستان کے مسائل وہاں کے عوام کو ہی حل کرنے چاہئے: وزیر خارجہ

?️ 8 ستمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے  کہ

بلوچستان میں سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کی کارروائی میں 4 دہشت گرد ہلاک

?️ 11 ستمبر 2025کوئٹہ (سچ خبریں) بلوچستان کے ضلع پشین میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور

ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 0.6 فیصد تک گرنے کا انتباہ

?️ 5 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ایشیائی ترقیاتی بینک  نے موجودہ سیاسی بحران، سیلاب

شامی فضائی دفاعی نظام کا دہشت گردوں کے ڈرون کا نشانہ

?️ 4 اکتوبر 2021سچ خبریں:شامی فضائی دفاعی نظام حمیمیم نے ادلب میں دہشت گرد گروہوں

ریاض نے بھی قدس میں صیہونی مخالف آپریشن کی مذمت کی

?️ 28 جنوری 2023سچ خبریں: ریاض نے مقبوضہ فلسطین میں پیشرفت میں اضافے پر موقف

صیہونی فوجیوں نے آٹھ فلسطینیوں کو لیا حراست میں

?️ 14 نومبر 2021سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں کے مختلف علاقوں میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونیوں

کرم ایجنسی کے حالات پر گرینڈ جرگہ بلایا جائے، جماعت اسلامی خدمات پیش کرے گی، حافظ نعیم

?️ 22 نومبر 2024کراچی: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن  نے مطالبہ

ہندوستان میں بڑھتے اسلامو فبیا کو روکنے کے لیے جمعیت علمائے ھند کا اقدام

?️ 30 مئی 2022سچ خبریں:جمعیت علمائے ھند نے ہندوستان میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے