عارضی جنگ بندی اور بنیامین نیتن یاہو کا غیر یقینی سیاسی مستقبل 

عارضی جنگ بندی اور بنیامین نیتن یاہو کا غیر یقینی سیاسی مستقبل

?️

سچ خبریں:ایران کے ساتھ جنگ کے بعد اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کے تناظر میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ میں عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد، حالیہ فوجی معادلات میں ایران کی برتری کے باوجود، صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے ایک تاریک مستقبل کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ صہیونی حکومت کی عدالت میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

خبر رساں چینل الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں ایران کے خلاف امریکی۔صہیونی جنگ کے بعد دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ بندی بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی دور کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔

فلسطین میں الجزیرہ کی نامہ نگار فاطمہ خمایسی نے بتایا کہ جنگ کے آخری لمحات میں ایرانی میزائلوں نے مقبوضہ علاقوں کے مرکز اور جنوب کو نشانہ بنایا، جن میں اسٹریٹجک شہر دیمونا بھی شامل تھا۔ ان کے مطابق ایرانی میزائل حملوں کے باعث مرکزی شہروں میں لاکھوں صہیونی باشندے پناہ گاہوں میں جانے پر مجبور ہو گئے، جبکہ تل ابیب کے مشرق میں واقع شہر پتاح تکوا میں ایک عمارت براہ راست میزائل کی زد میں آ گئی۔

الجزیرہ کے مطابق صہیونی امور کے ماہر ڈاکٹر مہند مصطفی کا کہنا ہے کہ یہ جنگ، چاہے اس مرحلے پر ختم ہو یا نہ ہو، نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو پہلے ہی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی پیروی کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ صورتحال ایران کی اس جنگ میں کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس پر نیتن یاہو نے اپنی دوبارہ وزارت عظمیٰ کی امیدیں قائم کر رکھی تھیں۔

مصطفی نے اپنے تجزیے میں جنگ بندی کو نیتن یاہو کے لیے ایک بڑی سیاسی شکست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے میں لبنان کے محاذ کی شمولیت کے باعث اسرائیلی داخلی محاذ کو بھی شدید دھچکا لگا ہے، کیونکہ اس جنگ میں حزب اللہ کی غیر متوقع طاقت نے صہیونی حلقوں کو حیران کر دیا۔ ان کے مطابق اب نیتن یاہو کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ جاری رکھنے پر قائل کرنا ممکن نہیں رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی وزیر اعظم نے بڑی امیدیں دلا کر امریکی صدر کو اس جنگ میں شامل کیا تھا، لیکن وہ امیدیں پوری نہیں ہو سکیں۔ یہاں تک کہ اگر نیتن یاہو لبنان میں بفر زون کے قیام کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں، تب بھی وہ صہیونی عوام کو دوبارہ اپنے حق میں ووٹ دینے پر قائل نہیں کر سکیں گے۔

امریکی کونسل آن فارن ریلیشنز کے مہمان رکن مائلز کاگینر نے اس حوالے سے کہا کہ امریکہ نیتن یاہو کو ایران کو نشانہ بنانے سے باز رکھنے پر آمادہ کر سکتا ہے، تاہم اسے لبنان اور دیگر ایسے علاقوں میں حملے جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے جنہیں وہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی سیاست کے ماہر ڈاکٹر محجوب الزویری نے مقبوضہ علاقوں پر ایران کے آخری میزائل حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے یہ حملے ایران میں سیاسی فیصلے کے فوجی اداروں تک پہنچنے میں تاخیر کے باعث ہوئے ہوں، تاہم ان کا اصل مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ جنگ میں آخری بات تہران نے کی ہے۔

الزویری کے مطابق اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی نظام سیاسی اور فوجی طور پر اب بھی منظم ہے اور اس کا ہاتھ اب بھی ٹریگر پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں کے لیے ٹرمپ کی جانب سے ایرانیوں سے پہلے وضاحت پیش کرنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ جنگ کو مزید جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔

مشہور خبریں۔

کیا سلامتی کونسل غزہ میں جنگ بندی کروا سکتی ہے؟

?️ 24 مارچ 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی قرارداد کے مسودے

ہزاروں صیہونیوں کا مصر کے سینا کی جانب فرار، جنگی صورتحال کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی

?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں:رپورٹس کے مطابق جنگی حالات اور پروازوں پر پابندی کے باعث

وزیر اعظم عمران خان کا کسانوں کی مدد کرنے کا اعلان

?️ 15 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے کسانوں کی مدد کرنے

پیپلز پارٹی نے عام انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ نہیں کیا

?️ 6 اکتوبر 2022کراچی (سچ خبریں) وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے عام انتخابات ملتوی

بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہوسکتا۔ صدر زرداری

?️ 2 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے

روس یوکرین تنازعہ کیسے حل ہو سکتا ہے پاکستان نے فارمولا دے دیا۔

?️ 3 مارچ 2022 روس یوکرین تنازعہ کیسے حل ہو سکتا  پاکستان نے فارمولا دے دیا

َآزاد کشمیر کا نیا وزیر اعظم کون ہوگا

?️ 27 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں وزیرِ اعظم عمران

امریکہ چین تجارتی جنگ میں شدت وائٹ ہاؤس ٹرمپ الیون مذاکرات کے لیے بات چیت کر رہا ہے

?️ 31 مئی 2025سچ خبریں: سی این این نے اعلان کیا: وائٹ ہاؤس امریکی صدر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے