?️
(سچ خبریں) طویل افغان جنگ لاکھوں انسانوں کو نگلنے اور لاکھوں لوگوں کو خانمان برباد کرنے کے بعد بھی کسی طرح بند ہونے کا نام نہیں لے رہا اور نہ ہی دور دور تک اس بات کے امکانات نظر آتے ہیں کہ افغانوں کے دشمن اور دہشتگردی کو ذریعہ معاش بنانے والے ممالک ایسی کسی مثبت تبدیلی کوکسی نتیجے تک پہنچنے دیں گے، امریکہ نے افغانستان کی عوام سے کافی وعدے کیئے لیکن ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا گیا۔
اب روس بھی افغانستان میں امن کے قیام کی کوششیں کررہا ہے اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا دو روزہ دورئہ پاکستان بھی اختتام پزیر ہوگیا، اس دوران میں دفتر خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ روسی وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان اور افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔
وزیراعظم عمران خان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے دورئہ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا۔ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے روس کے ساتھ دفاعی تعاون کی بھی پیش کش کی۔
روسی وزیر خارجہ کے دورئہ پاکستان کے اختتام پر شاہ محمود قریشی اور سرگئی لاوروف نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ روس نے پاکستان کو خصوصی فوجی آلات دینے اور اسلام آباد کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کا اعلان کیا۔ اسی کے ساتھ دونوں ممالک کے دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
روس نے کورونا ویکسین اسپوتنک 5 کی تیاری کے لیے پاکستان میں پلانٹ لگانے پر غور کا بھی وعدہ کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان جن امور پر کلیدی بات ہوئی ہے ان میں توانائی کے شعبوں میں تعاون بالخصوص گیس پائپ لائن کے مجوزہ منصوبوں پر عمل درآمد کے جائزے کو ترجیح حاصل رہی۔
جو مسئلہ سب سے زیادہ غور و فکر اور تبادلہ خیال کا مرکز تھا وہ افغانستان اور اس کا مستقبل ہے۔ افغانستان کے مسئلے پر ماسکو کانفرنس سے پہلے اور بعد میں مختلف سطحوں پر دونوں ممالک کے وفود کی آمدروفت ہوتی رہی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی عسکری قیادت کا بھی اہم دورہ ہوا تھا۔ ماسکو کانفرنس کی خاص بات یہ ہے کہ افغانستان کے مختلف فریقوں بالخصوص افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت کرانے کے لیے روسی حکومت نے مثبت کوششیں کی ہیں۔
روس نے بھارت سے اچھے تعلقات کے باوجود اسے ماسکو کانفرنس میں مدعو نہیں کیا، جبکہ امریکی تجویز کے مطابق اقوام متحدہ کے تحت ترکی میں منعقد ہونے والی بین الاافغان کانفرنس میں بھارت کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔ جس پر پاکستان کو سخت تحفظات ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کی روک تھام کے بارے میں زبانی کلامی بہت باتیں کی جاتی ہیں لیکن افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی بھارتی سرپرستی سے آنکھیں اور کان بند کرلیے جاتے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ نے شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کشمیر کے تنازع پر بھی بات کی اور دونوں ممالک نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر اتفاق کا اظہار کیا۔ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا ایک ہی راستہ ہے اور یہ کہ اقوام متحدہ کشمیر میں رائے شماری کے لیے نظام الاوقات اور طریقہ کار کا اعلان کرے۔
اس مشترکہ اتفاق کا فطری تقاضا یہ ہے کہ روس سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں ان تمام ممالک کو متحرک کرے جو مسئلہ کشمیر کی سنگینی اور عواقب کا ادراک رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ میں رائے شماری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کی طویل اور پیچیدہ تاریخ ہے۔
پاکستان کا قیام جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد ہوا تھا جس کے بعد فاتح اقوام متحدہ، روس اور امریکا کے درمیان دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے سرد جنگ شروع ہوگئی تھی۔ روس جو اس وقت سوویت یونین تھا مسلسل پیش قدمی کررہا تھا۔ یہاں تک کہ اس کی فوجوں نے 1979ء میں افغانستان پر قبضہ کرلیا اور یہ صاف نظر آرہا تھا کہ سوویت یونین کی نظر گرم پانیوں تک ہے اور اس کے توسیعی قدم افغانستان تک نہیں رکیں گے۔
اس دن کے بعد سے افغانستان بدامنی کا شکار ہے، لیکن روس افغانستان کی جنگ جیت نہیں سکا اور اس نے دس سال بعد افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس شکست نے سوویت یونین کے نظام کو منہدم کردیا۔ اسی واقعے نے عالمی سیاست میں تبدیلی کی رفتار کو تیز کردیا۔
روس نے تو اس تاریخ سے سبق لیا لیکن امریکا کے تکبر میں اضافہ ہوگیا اور وہ نائن الیون کے پراسرار واقعے کو بنیاد بنا کر ناٹو کی فوجوں کے ہمراہ افغانستان پر قابض ہوگیا۔
افغانستان کی تاریخ کے مطابق امریکا کو بھی اس جنگ میں شکست ہوگئی۔ امریکی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی جنگ نے عالمی سیاست اور اس کی صف بندیوں کو بدل دیا ہے۔ طاقت کے نئے مراکز سامنے آئے ہیں جن میں روس کی بحالی کے ساتھ مستقبل کی طاقت چین کا ابھار بھی شامل ہے۔
اس تناظر میں روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نئی جہت استوار ہوئی ہے اس کے راستے میں بڑی رکاوٹیں ہیں جنہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو ایک بہتر مستقبل دیا جاسکے۔


مشہور خبریں۔
صیہونی "شریانِ حیات” کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟
?️ 5 مئی 2025سچ خبریں: فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں واقع بین گوریون ایئرپورٹ صیہونیوں
مئی
سال نو پر ہلڑ بازی سے متعلق پنجاب حکومت نے حکم نامہ جاری کردیا
?️ 29 دسمبر 2021لاہور(سچ خبریں) سال نو پر ہلڑ بازی کرنے والے شہری ہوشیار رہیں
دسمبر
سعودی میڈیا کی نظرمیں بن فرحان کا دورہ تہران
?️ 18 جون 2023سچ خبریں:عرب ذرائع نے اطلاع دی کہ تہران اور ریاض کے درمیان
جون
توشہ خانہ کیس، الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک سے عمران خان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات مانگ لیں
?️ 5 اکتوبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم عمران خان کا توشہ خانہ سے لیے
اکتوبر
خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم
?️ 6 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ
جنوری
غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت ایک غیر معمولی سانحہ ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، اسحٰق ڈار
?️ 9 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ
جون
آرمی چیف کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
?️ 27 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل
اگست
شام میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد
?️ 11 اگست 2022سچ خبریں:شام میں سکیورٹی امور کے ایک ماہر نے اس ملک میں
اگست