?️
سچ خبریں:برطانوی اخبار نے اجلاس شرم الشیخ کو منافقانہ اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہی طاقتیں جو اسرائیل کو ہتھیار دے کر فلسطینیوں کے قتلِ عام میں شریک رہیں، اب غزہ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتیں،دنیا کو چاہیے کہ فلسطینیوں کے درد و رنج کو معمولی نہ سمجھے اور اسرائیل کو سزا سے بچنے نہ دے۔
برطانوی روزنامہ گارڈین نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے اجلاس پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ اجلاس ان ممالک کی منافقت کی عکاسی کرتا ہے جو ایک طرف اسرائیل کے جرائم میں شریک رہے اور اب امن کے نام پر غزہ کے مستقبل پر فیصلہ سازی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا غزہ منصوبہ, عرب دنیا کے لیے ایک نیا امتحان
اخبار کے مطابق، یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب غزہ میں قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی کے بعد دنیا کی نگاہیں فلسطینیوں کے مستقبل پر مرکوز ہیں،تاہم، گارڈین نے لکھا کہ وہی ممالک جو اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتے رہے، اب صلح کے داعی بن کر بیٹھ گئے ہیں یعنی چور ہی نگہبان بن گیا ہے۔
گارڈین نے متنبہ کیا کہ اگرچہ جنگ بندی اہم قدم ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جنایت کاروں کو معافی مل گئی ہے، اسرائیلی قبضہ، نسل کشی اور تباہی کے یہ سلسلے ختم نہیں ہوئے بلکہ اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں قاتلانِ غزہ کو ہی ثالث اور منصف بنا دیا گیا ہے۔
اخبار کے مطابق، آنے والے دنوں میں غزہ سے جو تصاویر دنیا دیکھے گی، وہ اس کی تباہی کی اصل وسعت کو نمایاں کریں گی ، محلے ملبے میں بدل گئے ہیں، سورج کی روشنی بغیر سایوں کے پڑتی ہے، اور لوگ اب خالی زمینوں پر خیمے لگا کر دوبارہ جینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
گارڈین نے لکھا کہ آج غزہ کے لوگ واپس لوٹ رہے ہیں، مگر ان کے گھروں کی جگہ اب مٹی کے ڈھیر ہیں، ہزاروں بچے یتیم ہو چکے ہیں، ہزاروں والدین نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کو دفن کیا ہے،
اور دنیا اب بھی خاموش ہے۔
تجزیے میں کہا گیا کہ غزہ کی جنگ صرف ڈھانچوں کو نہیں بلکہ معاشرتی بافت کو بھی تباہ کر گئی ہے۔ کئی خاندانوں کی تین سے چار نسلیں صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔
گارڈین نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر جنگ بندی انہی شرائط پر برقرار رہی تو اس کا مطلب ہوگا کہ قاتل بدستور آزاد ہیں، اور یہی جرم آئندہ بھی دہرایا جائے گا۔
اخبار نے لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ، جس نے اسرائیل کی نسل کشی کو ممکن بنایا، آج خود کو امن کا ہیرو قرار دے رہا ہے، اور اس کا داماد جیرڈ کوشنر اسرائیلی جارحیت کو استثنائی فیصلہ کہہ کر سراہ رہا ہے۔
گارڈین کے مطابق، ٹرمپ کا نام نہاد صلح کا منصوبہ دراصل غزہ کی تاریخ کو مٹانے کی سازش ہے ، ایک ایسی تاریخ جو قبضے، بستیوں کے پھیلاؤ، اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی نفی سے بھری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ ممالک جو اسرائیل کو اسلحہ دیتے رہے اور عالمی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتے، اب غزہ کے مستقبل کا تعین کرنے کے دعوے دار بن بیٹھے ہیں، ایسے ہم نوا کبھی بھی مظلوم قوم کے لیے امن نہیں لا سکتے۔
گارڈین نے زور دیا کہ دنیا کو غزہ کے درد کو نارملائز نہیں ہونے دینا چاہیے،فلسطینیوں کے قتلِ عام، جبری بے دخلی، قیدیوں کے ساتھ ظلم اور گھروں کی لوٹ مار کو معمولی سمجھنا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا غزہ منصوبہ ایک تباہی ہے:برطانوی اخبار
آخر میں اخبار نے خبردار کیا کہ اگر دنیا نے اسرائیل کو جواب دہ نہ بنایا تو تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرائے گی، امن اُس وقت ممکن ہے جب فلسطینی قوم کو خودمختاری، انصاف اور سزاؤں سے پاک اسرائیل کے نظام کے خلاف عالمی اتفاقِ رائے حاصل ہو۔ قاتلوں کے حامی کبھی امن نہیں لا سکتے۔


مشہور خبریں۔
سعد رضوی کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کا رد عمل سامنے آگیا
?️ 4 نومبر 2021لاہور(سچ خبریں ) لاہورہائی کورٹ نے کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان کے
نومبر
قذافی کے بیٹے کے قتل میں فرانس ملوث
?️ 7 فروری 2026 سچ خبریں: روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی رشیا ٹوڈے نے
فروری
امریکا کی جانب سے شدید انتباہ کے باوجود اسرائیل کی ہٹ دھرمی جاری، خطے میں بڑی جنگ ہوسکتی ہے
?️ 29 مئی 2021تل ابیب (سچ خبریں) دہشت گرد ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ
مئی
زیلنسکی یہودیوں کے لیے باعث رسوائی ہے: پیوٹن
?️ 17 جون 2023سچ خبریں:کیف کی طرف سے نو نازی نظریے کو نظر انداز کرتے
جون
شہید حسن نصراللہ کی تشییع جنازہ پر صیہونی جنگی طیاروں کی پرواز؛لبنانیوں کے عزم پر صیہونی اخبار کی حیرت
?️ 24 فروری 2025 سچ خبریں:ایک صیہونی اخبار نے شہید حسن نصراللہ کی تشییع جنازہ
فروری
غزہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے دردناک نتائج
?️ 12 نومبر 2023سچ خبریں: فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے راکٹ حملوں اور غیر مستحکم معاشی
نومبر
اسرائیل اور ترکی کے مابین تصادم کے ممکنہ مناظر
?️ 24 جولائی 202516 جولائی کو شام پر صہیونی ریاست کے حملے کوئی پہلا واقعہ
جولائی
صیہونی حکومت کے حق میں سعودی اور امارات کی حرکتیں بے نقاب
?️ 26 نومبر 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی کی حمایت میں صیہونی عبوری حکومت کے خلاف
نومبر