فلسطینی میزائلوں کے سامنے ڈھیر ہوتا اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم

فلسطینی میزائلوں کے سامنے ڈھیر ہوتا اسرائیلی آئرن ڈوم سسٹم

?️

(سچ خبریں) مقبوضہ علاقوں میں صہیونی عہدوں پر مزاحمتی راکٹ حملوں کا ایک اہم نکتہ ان میزائلوں کے خلاف آئرن ڈوم سسٹم کے نظام کی ناکامی ہے، جسے اسرائیلی خود بھی تسلیم کرتے ہیں۔

یہ نظام، جسے صہیونی حکومت کی صنعت کا فخر سمجھا جاتا ہے اور صہیونیوں نے اس کے بارے میں بہت ساری داستانیں گھڑی ہوئی تھیں، اب وہ مزاحمتی میزائلوں سے بالکل ناکارہ ہوچکا ہے۔

یہ توقع کی جارہی تھی کہ صہیونی حکومت کی آئرن ڈوم  نامی یہ ٹیکنالوجی، بالآخر جوابی صلاحیت کی ایک اعلی سطح پر پہنچ جائے گی، جس میں تمام بڑی مغربی، مشہور اور غیر مشہور کمپنیاں بھی شامل ہیں، اور گذشتہ ایک دہائی سے سالانہ لاکھوں ڈالر اس پر خرچہ کیا جارہا ہے، لیکن صہیونی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ یہ نظام ہر سات میزائلوں میں سے صرف ایک میزائل کی نشاندہی کرنے کی طاقت رکھتا ہے جبکہ باقی تمام میزائل اسرائیل کے اندر گر رہے ہیں۔

اسرائیل کا آئرن ڈوم سسٹم جو امریکی اور یورپی بجٹ سے کافی زیادہ پیشرفتہ ہوا ہے اور میزائلوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس میں کافی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، لیکن اس کے باوجود صہیونی غاصب حکومت کا اصلی مقام تل ابیب بھی اسلامی مزاحمت گروہوں کی میزائلوں کا نشانہ بنتا رہا ہے جس کی کافی ساری ویڈیوز بھی منشر ہو چکی ہیں۔

اسی طرح صہیونیوں کے دوسرے کچھ اہم شہر بھی مزاحمتی گروہوں کی میزائلوں کا نشانہ بنے، جو صرف کسی ایک خاص زمانے میں نہیں بلکہ کئی بار اور الگ الگ دور میں نشانہ بنے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کا یہ سسٹم بالکل ناکارہ ہے جو اسرائیل کو فلسطینیوں کے حملوں سے بچانے میں کارآمد ثابت نہیں ہوا۔

فلسطین سے آنے والے راکٹ حملوں کا اب تک اسرائیل کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، اسرائیل کو ایک فلسطینی راکٹ روکنے پر 50 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک خرچہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے، دوسری طرف فلسطینی تنظیموں کو راکٹوں کی تیاری کے لئے خرچہ انتہائی کم آ رہا ہے، ایک راکٹ روکنے کے لئے اسرائیل کو جتنا خرچ کرنا پڑ رہا ہے ان راکٹوں کی تیاری کا خرچہ اس سے انتہائی کم ہے۔
اسرائیل کا جدید اور خودکار دفاعی نظام آئرن ڈوم ان راکٹ حملوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہو گیا ہے، اسرائیل کے ایک اخبار یروشلم پوسٹ سے بات کرتے ہوئے میزائل ایکسپرٹ اوزی رابن نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کو ایک راکٹ تیار کرنے میں 300 سے 800 ڈالر خرچ آ رہا ہے جبکہ اسی راکٹ حملے کو روکنے میں اسرائیل فی راکٹ 50 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر خرچ کر رہا ہے۔

اوزی رابن نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے تیار کئے ہوئے راکٹ انتہائی سادہ اور زیادہ مہنگے نہیں ہیں لیکن ان میں ہدف کو نشانہ بنانے کی بہترین صلاحتیں موجود ہیں، فشر انسٹی ٹیوٹ فار سپیس ریسرچ سینٹر کے سابق چیئرمین تل انبار کا کہنا ہے کہ اسرائیل ابھی تک فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے راکٹ حملوں کا توڑ تیار کرنے میں ناکام ہے، یہی وجہ ہے کہ ان راکٹ حملوں سے بچنے کے لئے اسرائیل کو کروڑوں ڈالر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔

تل انبار نے کہا کہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں کے لونگ رینج راکٹ پر ایک ہزار ڈالر سے کم لاگت آ رہی ہے، شارٹ رینج راکٹوں کی لاگت کے مقابلے میں لونگ رینج راکٹ زیادہ مہنگے نہیں ہیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں حماس اور اسلامک جہاد نے 3100 راکٹ فائر کئے ہیں، ادھر اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینتز نے بتایا کہ آئرن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم نے 1000 راکٹوں کو ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنایا ہے۔

البتہ اس رپورٹ میں حزب اللہ اور شام سے یمن تک دیگر مزاحمتی گروپوں کی میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے جنہوں نے صہیونیوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں شدید جنگ جاری ہے اور فلسطین کی اسلامی مزاحمت، حزب اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جس میں آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑنے کے قاعدے پر عمل کرتے ہوئے دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔

البتہ صیہونی، ملک میں ہنگامہ آرائی اور جنگ جاری رکھنے کے نتائج سے خوفزدہ ہونے کی وجہ سے جنگ کے خاتمے کے لئے کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہاں تک کہ نیتن یاہو اسرائیل اور حماس کے مابین ثالثی کرنے کے لئے کچھ روز قبل مصر سے مدد مانگ چکے ہیں۔

لیکن مزاحمت نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے بدلے میں ان کے مطالبات کافی بڑے ہیں جس سے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی لیکن ایک چیز بالکل واضح ہیکہ نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن یہ جنگ مزاحمت کے حق میں خوف اور وحشت کے توازن میں حیران کن تبدیلی کی شروعات ہوگی، اور اسرائیل کو اس جنگ میں ایک ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مشہور خبریں۔

فیس بک کے ’کمیونٹی نوٹس‘ میں مزید فیچر متعارف

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے کراؤڈ سورسڈ فیکٹ چیکنگ

انتہاپسند صیہونی وزیر اور ان کے پارٹی وزراء کا صیہونی کابینہ سے اجتماعی استعفیٰ

?️ 19 جنوری 2025سچ خبریں:عبری زبان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق، اسرائیل کے وزیر برائے

پاکستان نے نیلم ۔ جہلم پروجیکٹ سے متعلق بھارتی پروپیگنڈا مسترد کردیا

?️ 16 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)پاکستان نے اس بھارتی پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار

حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان منتخب

?️ 5 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) امیر جماعت کراچی حافظ نعیم الرحمن کو امیر جماعت

شام میں اسرائیلی فوج کی درندگی

?️ 23 جون 2023سچ خبریں:المیادین نیوز چینل کے مطابق شام کی وزارت خارجہ نے ایک

غزہ جنگ کا خاتمہ ہی اسرائیلی قیدیوں کی واپسی کا واحد راستہ ہے: اولمرت

?️ 7 جون 2025سچ خبریں: اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرت نے کہا ہے کہ

غزہ کی طبی امداد بنیادی ضروریات کو پورا نہیں کرتی

?️ 22 جنوری 2024سچ خبریں:غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی

یوکرین کے سلسلے میں ٹرمپ کی الجھی ہوئی سیاست اور ہتھیاروں کی سپلائی 

?️ 19 اگست 2025یوکرین کے سلسلے میں ٹرمپ کی الجھی ہوئی سیاست اور ہتھیاروں کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے