?️
سچ خبریں:صہیونی سیاسی، عسکری اور سکیورٹی حلقوں میں اسرائیل کی جنگی حکمت عملی پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔ عبرانی ذرائع ابلاغ اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران، لبنان اور غزہ کے محاذوں پر اسرائیل اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور کسی فیصلہ کن فتح کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایران کے خلاف صہیونی حکومت اور امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کو تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس جنگ سے وابستہ وہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے جن کے بارے میں ابتدا میں بڑے دعوے کیے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی معاشرے میں مایوسی اور ناکامی کا احساس مسلسل بڑھ رہا ہے اور سیاسی، سکیورٹی اور عسکری حلقے بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر پا رہے کہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف وسیع حملوں اور لبنان و غزہ پر مسلسل کارروائیوں کے باوجود صیہونی تجزیوں میں یہ سوال شدت سے زیر بحث ہے کہ آیا یہ جنگیں اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل کر سکی ہیں یا نہیں۔
جنگیں اسرائیل کے خلاف خطرات ختم نہ کر سکیں
صہیونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیاں مختلف محاذوں پر درپیش خطرات کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل ایک ایسے طویل اور فرسایشی جنگی دائرے میں پھنسنے کا خطرہ مول لے رہا ہے جس کا کوئی واضح اختتام یا فیصلہ کن نتیجہ نظر نہیں آتا۔
عبرانی ویب سائٹ وائی نیٹ پر شائع ہونے والے ایک تجزیہ میں سابق صیہونی افسر اور محقق Michael Milshtein نے لکھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اب تک کے سب سے سنجیدہ مذاکرات دکھائی دیتے ہیں، لیکن سامنے آنے والا ممکنہ فریم ورک اسرائیل میں شدید تشویش پیدا کر رہا ہے۔
تجزیہ کے مطابق دستیاب اطلاعات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مجوزہ معاہدہ امریکہ کی جانب سے تہران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے مکمل خاتمے، بحری محاصرے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے مشروط ہے، جبکہ جوہری معاملہ بعد کے مرحلے میں زیر غور آئے گا۔
اس سابق صہیونی افسر نے کہا کہ وہ بنیادی مسائل، جنہیں ایران کو محدود کرنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جاتا تھا، مجوزہ مفاہمتوں میں شامل نہیں ہیں۔ ان میں ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور خطے میں اس کے اتحادی گروہ نمایاں ہیں۔
صیہونی عوام مایوسی کا شکار
دوسری جانب ممتاز صہیونی کالم نگار Amit Segal نے عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم میں لکھا کہ جنگی محاذ اب بھی کھلے ہوئے ہیں اور صیہونی عوام شدید مایوسی کا شکار ہیں، کیونکہ حکومت اور فوج نے جنگ کے آغاز میں انہیں مکمل فتح کا وعدہ کیا تھا، جو پورا نہیں ہو سکا۔
اسرائیل لبنان اور غزہ میں بھی کامیابی حاصل نہ کر سکا
عبرانی اخبار ہارٹیز نے اپنی ایک رپورٹ میں غزہ اور لبنان میں اسرائیل کی ناکامیوں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل اپنی فوجی طاقت کی حدود کو تسلیم کرنے کے بجائے جنگی محاذوں کو مزید وسعت دے رہا ہے اور ایسے اہداف کے حصول کی کوشش کر رہا ہے جنہیں حاصل کرنے میں وہ تقریباً دو برس سے ناکام ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ لبنان میں جنگ بے معنی شکل اختیار کر چکی ہے اور کسی کو معلوم نہیں کہ اس کے حقیقی مقاصد کیا ہیں یا اس کا انجام کیا ہوگا۔ اخبار کے مطابق اسرائیل کو جلد از جلد اس جنگ کا خاتمہ کرنا چاہیے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ غزہ میں جنگ کا دوبارہ آغاز سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ دو سال سے زیادہ عرصے پر محیط جنگ، وسیع پیمانے پر تباہی اور فلسطینی علاقوں میں مسلسل فوجی کارروائیوں کے باوجود اسرائیل وہ اہداف حاصل نہیں کر سکا جن کا دعویٰ کیا جاتا تھا، اس لیے مزید جنگ بھی مختلف نتائج پیدا نہیں کرے گی۔
اسرائیل لبنان میں ایک فرسایشی جنگ میں الجھ چکا ہے
Eyal Zisser، جو تل ابیب یونیورسٹی کے نائب صدر ہیں، نے لبنان کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنی تشخیص میں کہا کہ اسرائیل لبنان میں سنگین تزویراتی غلطیاں کر رہا ہے، خصوصاً وہاں کے شیعہ معاشرے کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے۔
ان کے مطابق اسرائیل دانشمندی کے بجائے ایک فرسایشی جنگ میں الجھ گیا ہے۔ صیہونی افواج سرحدی علاقوں میں محدود فاصلے تک کارروائیاں کر رہی ہیں اور مسلسل جانی نقصان اٹھا رہی ہیں۔
اسرائیل کو کوئی فیصلہ کن فتح حاصل نہیں ہوگی
Lilach Shoval، جو اسرائیل ہیوم کی عسکری امور کی نامہ نگار ہیں، نے ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جنگ کے منظرناموں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر تیسری جنگ شروع ہوتی ہے تو ایران پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ اپنے میزائل اسرائیل کی جانب داغنے کی کوشش کرے گا۔
ان کے مطابق اگر ایران کو جون 2025 کی جنگ میں جواب دینے کے لیے 18 گھنٹے اور فروری کی جنگ میں دو گھنٹے پچاس منٹ درکار تھے تو آئندہ کسی ممکنہ جنگ میں اس کا ردعمل اس سے بھی زیادہ تیز ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں مائیکل ملشٹائن نے کہا کہ ایران، لبنان اور غزہ سے متعلق مجوزہ انتظامات خطے کی جنگی صورتحال کو نئی شکل دے سکتے ہیں، لیکن وہ فیصلہ کن فتح کی ضمانت نہیں دیتے جس کی اسرائیل کو تلاش ہے۔ ان کے بقول موجودہ متبادل ایک ایسی طویل اور فرسایشی جنگ ہے جس کا کوئی واضح تزویراتی اختتام نظر نہیں آتا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ حالیہ واقعات نے ایک اہم سبق دوبارہ واضح کر دیا ہے جسے تل ابیب طویل عرصے سے نظر انداز کرتا آیا ہے: واضح سیاسی اور تزویراتی حکمت عملی کے بغیر فوجی کامیابیاں بے معنی ہوتی ہیں، دشمن کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے مگر اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، اور کسی علاقے پر کنٹرول لازماً طویل المدت سلامتی کی ضمانت نہیں بنتا۔
انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ابھرنے والے تمام معاہدے اپنے اندر چیلنجز رکھتے ہیں، لیکن موجودہ متبادل ایک ایسی کثیر محاذی فرسایشی جنگ ہے جس کی نہ کوئی زمانی حد ہے اور نہ کوئی واضح مقصد۔ موجودہ حقائق کی روشنی میں اسرائیل کے لیے کسی مکمل اور فیصلہ کن فتح کا تصور حقیقت سے دور دکھائی دیتا ہے۔


مشہور خبریں۔
کورونا: سندھ میں 8 اگست تک لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ
?️ 30 جولائی 2021کراچی (سچ خبریں) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت
جولائی
آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس کی سپریم کورٹ میں سماعت
?️ 21 اپریل 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس کی
اپریل
کتنے فلسطینی بچوں کو بھوک سے مرنے کا خطرہ ہے؟یونیسف کی رپورٹ
?️ 12 جون 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ(یونیسف) نے غزہ میں 3
جون
سعودی اتحاد کے ہاتھوں یمنی آثار قدیمہ کی لوٹ مار
?️ 22 جولائی 2022سچ خبریں:یمنی آثار قدیمہ کے ماہر کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد
جولائی
عمان صنعا اور سعودی اتحاد کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے:یمنی عہدیدار
?️ 25 دسمبر 2022سچ خبریں:یمن کی قومی سالویشن حکومت کے نائب وزیر اعظم نے دفاع
دسمبر
ایران کے خلاف جنگ کے نتائج: جرمنی میں مہنگائی کی بلند ترین شرح اور فرانس میں معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ
?️ 13 مئی 2026سچ خبریں: ایران کے خلاف امریکی جنگی پالیسی کے نتیجے میں جرمنی
مئی
روسی شخص نے خلا میں سب سے زیادہ وقت گزارنے کا ریکارڈ قائم کر دیا
?️ 5 فروری 2024سچ خبریں: روسی خلا باز اولیگ کونونینکو نے خلا میں سب سے
فروری
اسمارٹ ڈیوائسز کی لائٹ نیند میں خلل نہیں ڈالتی، تحقیق
?️ 9 جنوری 2024سچ خبریں: ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موبائل و
جنوری