?️
سچ خبریں:ایران اور امریکہ کی چالیس روزہ جنگ کے بعد مغربی تجزیہ کار امریکہ کے ممکنہ سویز لمحے پر بحث کر رہے ہیں۔ ڈالر، عالمی بالادستی، اقتصادی دباؤ اور امریکی طاقت کے مستقبل پر ایک تفصیلی تجزیہ۔
حالیہ دنوں میں امریکہ کا سویز لمحہ کی اصطلاح مغربی ذرائع ابلاغ اور تجزیاتی حلقوں میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والے تصورات میں شامل ہو گئی ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکہ کا سویز لمحہ کی اصطلاح مغربی ذرائع ابلاغ اور تجزیاتی حلقوں میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والے تصورات میں شامل ہو گئی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان چالیس روزہ جنگ کے نتائج، خواہ اس کے فوجی نتائج کچھ بھی ہوں، واشنگٹن کی عالمی حیثیت پر وہی اثرات مرتب کر سکتے ہیں جو 1956 کے سویز بحران نے برطانوی سلطنت پر ڈالے تھے۔
اس تقابل کو سمجھنے کے لیے پہلے سویز بحران کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔ 1956 میں جمال عبدالناصر کی جانب سے نہر سویز کو قومی تحویل میں لینے کے بعد برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر مصر پر حملہ کیا۔ ان کا مقصد نہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا اور یورپی نوآبادیاتی طاقتوں کی حیثیت کو برقرار رکھنا تھا، لیکن لندن اور پیرس کی توقعات کے برعکس امریکہ نے اس فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کی۔
نیٹو کا سویز لمحہ
پروجیکٹ سنڈیکیٹ میں پرنسٹن یونیورسٹی کے تاریخ اور بین الاقوامی امور کے پروفیسر ہیرالڈ جیمز کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ سویز بحران وہ موڑ تھا جہاں دنیا نے یہ محسوس کیا کہ برطانیہ اب واشنگٹن سے آزاد ہو کر عالمی نظام کا انتظام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ امریکہ کے مالی دباؤ اور برطانوی پاؤنڈ کے خلاف دھمکیوں نے بالآخر لندن کو پسپائی پر مجبور کر دیا اور اسی وقت سے سویز لمحہ کی اصطلاح کسی عالمی طاقت کے زوال کے آغاز کی علامت بن گئی۔
آج بعض مغربی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ واشنگٹن خود ایک ایسے ہی تجربے سے گزر رہا ہے۔ اسپیکٹیٹر نے نیٹو کا سویز لمحہ کے عنوان سے اپنی ایک رپورٹ میں استدلال کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ کی حقیقی طاقت اور اس طاقت کے بارے میں پیش کی جانے والی تصویر کے درمیان موجود فرق کو نمایاں کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جس طرح سویز بحران نے برطانیہ کی حدود کو آشکار کیا تھا، اسی طرح ایران کے ساتھ تصادم امریکہ کی بالادستی کی حدود کو بھی نمایاں کر سکتا ہے۔
اقتصادی میدان میں بھی کئی اہم علامات سامنے آ رہی ہیں۔ جغرافیائی سیاسی اور مالی امور کے تجزیہ کار نکولس نیوس کا کہنا ہے کہ امریکہ کے سرکاری قرضے اور مجموعی قومی پیداوار کا تناسب ان سطحوں تک پہنچ چکا ہے جو زوال پذیر طاقتوں کی یاد دلاتا ہے۔ ان کے مطابق کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ امریکی حکومت کے قرضوں پر سود کی لاگت دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جس سے عالمی سطح پر امریکہ کے کردار کو برقرار رکھنے کی صلاحیت پر سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ تاریخ میں بہت سی سلطنتیں فوجی شکست سے پہلے مالی کمزوری کا شکار ہوئی ہیں۔ برطانیہ بھی سویز بحران سے قبل شدید اقتصادی مشکلات سے دوچار تھا اور یہی صورتحال امریکی دباؤ کے سامنے اس کی مزاحمت کو کمزور کرنے کا باعث بنی۔
ڈالر پر عالمی اعتماد میں کمی
مالیاتی منڈیوں کے معروف ماہر لوک گرومن کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اصل جنگ لازماً میدان جنگ میں نہیں لڑی جا رہی۔ ان کے مطابق امریکہ کی حقیقی طاقت ڈالر اور اس کے قرضوں کی منڈی کی ساکھ پر قائم ہے۔ گرومن کا خیال ہے کہ اگر واشنگٹن توانائی کی اہم گزرگاہوں کی سلامتی یقینی بنانے میں ناکام رہتا ہے تو ڈالر پر عالمی اعتماد بتدریج کم ہو جائے گا اور یہ کسی بھی فوجی شکست سے کہیں زیادہ بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔
اسی تناظر میں دنیا کے معروف سرمایہ کار اور بریج واٹر کمپنی کے بانی رے ڈالیو نے بھی خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی ڈالر کے لیے ایک سویز لمحہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق عالمی کرنسیوں کی حیثیت بنیادی طور پر بین الاقوامی اعتماد پر قائم ہوتی ہے اور اگر دنیا امریکہ کی توانائی کی شاہراہوں کے تحفظ کی صلاحیت پر شک کرنے لگے تو مختلف ممالک کی جانب سے ڈالر سے دوری کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔
فوجی میدان میں بھی بعض تجزیہ کار امریکہ کی بڑھتی ہوئی محدودیتوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی میں شان میتھیوز نے لکھا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کو اپنی بعض جدید دفاعی تنصیبات اور فوجی وسائل مشرقی ایشیا سے مشرق وسطیٰ منتقل کرنا پڑے۔
اس تجزیہ کار کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اب گزشتہ دہائیوں کی طرح بیک وقت دنیا کے کئی علاقوں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
یہ جائزہ سویز بحران کے بعد برطانیہ کی صورتحال سے کافی مماثلت رکھتا ہے، جب لندن کو مشرقی سویز اور دنیا کے دیگر علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی کو بتدریج محدود کرنا پڑا تھا۔
ایک اور اہم علامت امریکہ کے اتحادیوں کے رویے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تاریخ میں بڑی طاقتوں کے زوال کے دوران ان کے اتحادی زیادہ خودمختار کردار اختیار کرنے لگتے ہیں۔ مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ بحران کے دوران بعض یورپی اور ایشیائی ممالک نے توانائی اور بحری سلامتی کے معاملات پر براہ راست ایران کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دی اور واشنگٹن کے اقدامات کے منتظر نہیں رہے۔
بعض تجزیہ کار اس رجحان کو بین الاقوامی بحرانوں کے انتظام میں امریکہ کی صلاحیت پر اتحادی ممالک کے کم ہوتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب سی بی ایس نیوز نے رپورٹ دی ہے کہ بحران کے بعض مراحل میں امریکی حکومت کو ملکی توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے ایران کے تیل کی برآمدات کے حوالے سے نسبتاً نرم اور لچکدار پالیسی اختیار کرنا پڑی۔ اگرچہ اس پالیسی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں متضاد آراء موجود ہیں، لیکن یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی تبدیلیاں اب بھی براہ راست امریکی معیشت کو متاثر کر سکتی ہیں۔
نتیجہ
آخر میں گارڈین نے اپنے ایک تجزیے میں لکھا ہے کہ اصل مسئلہ صرف کسی ایک جنگ یا بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ امریکہ کی ناقابل شکست سپر طاقت کی تصویر کا بتدریج کمزور ہونا ہے۔ اخبار کے مطابق بڑی طاقتیں اس وقت زوال کے مرحلے میں داخل ہوتی ہیں جب وہ دوسروں کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام ہو جائیں کہ وہ اب بھی عالمی نظام کو تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اس بنیاد پر ابھی یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان چالیس روزہ جنگ واشنگٹن کا حقیقی سویز لمحہ ثابت ہوئی ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تنازع نے مغربی فکری حلقوں میں امریکہ کی طاقت کی حدود، ڈالر کے مستقبل اور امریکی بالادستی کے دوام کے بارے میں ایک سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ بحث آنے والے برسوں تک جاری رہ سکتی ہے اور اس کے اثرات بین الاقوامی نظام پر بتدریج نمایاں ہو سکتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
عمران خان کے لانگ مارچ حملہ،عمران خان زخمی
?️ 3 نومبر 2022وزیر آباد: (سچ خبریں) تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران وزیر آباد میں
نومبر
قومی اسمبلی کے اسپیکر نے عہدہ چھوڑنے کی دھمکی دی
?️ 9 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسپیکر
مارچ
جنوبی کوریا میں سام سنگ کے ہزاروں کارکنوں کی ہڑتال
?️ 10 جولائی 2024سچ خبریں: سام سنگ کے ہیڈ کوارٹر ہواسیونگ میں منعقدہ ایک مظاہرے میں
جولائی
وینزویلا کی عبوری صدر کا اعلان: نکولس مادورو ہی وینزویلا کے قانونی صدر ہیں
?️ 13 فروری 2026وینزویلا کے عبوری صدر کا اعلان: نکولس مادورو ہی وینزویلا کے قانونی
فروری
پاک اور افغانستان کی زمینیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہوں گی
?️ 2 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ
جولائی
ریاستی اداروں پر الزامات ملک کے مفاد میں نہیں
?️ 7 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) بلوچستان اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ نے حالیہ سیاسی
نومبر
واشنگٹن میں صیہونی سفارتخانے کے دو اہلکار ہلاک
?️ 22 مئی 2025 سچ خبریں:واشنگٹن ڈی سی میں موزه یہود کے باہر فائرنگ سے
مئی
حماس اور جہاد اسلامی کو خریدا نہیں جاسکتا:صیہونی ذرائع
?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں:اسرائیلی فوج کے اعلیٰ ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ حماس
دسمبر