?️
سچ خبریں:رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ ایران کی مزاحمت اور فیصلہ کن جوابی کارروائی نے نیتن یاہو کے ایران میں نظام کی تبدیلی کے منصوبے کو ناکام بنا دیا اور طاقت کا توازن پلٹ دیا۔
رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر اور معروف فلسطینی تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے خطے کی حالیہ صورتحال اور ایران کے خلاف امریکی جارحیت کے جواب میں ایران کی بھرپور کارروائیوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی مزاحمت اور فیصلہ کن جواب نے نیتن یاہو کے تمام پتے ناکام بنا دیے اور جنگ کا نقشہ بدل دیا۔
عبدالباری عطوان نے رائے الیوم کے اپنے تازہ اداریے میں لکھا کہ صہیونی حکومت کے مجرم وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے طویل وقفے کے بعد بدھ کے روز ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنی دھمکی آمیز بیان بازی شروع کردی۔
نیتن یاہو کا ایران میں نظام گرانے کا منصوبہ الٹا پڑ گیا
عبدالباری عطوان نے لکھا کہ نیتن یاہو نے کسی واضح وجہ کے بغیر دھمکی دی کہ اس نے تمام فوجی اور انٹیلی جنس اداروں کو ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ نیتن یاہو کو دوبارہ ایسی دھمکیاں دینے کی جرأت کیسے ہوئی، کیونکہ وہ اپنی فوج اور فضائیہ کے ساتھ، جس پر تمام صہیونی فخر کرتے ہیں، اس مقصد یعنی ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے پہلے ہی 2 جنگیں لڑ چکا ہے۔
فلسطینی تجزیہ کار نے زور دے کر کہا کہ نیتن یاہو اپنے وہم میں یہ سمجھ رہا تھا کہ امام سید علی خامنہ ای اور ایران کے متعدد فوجی کمانڈروں و اعلیٰ حکام کی شہادت کے بعد ایرانی نظام سقوط کا شکار ہوجائے گا۔ لیکن جب ان ہلاکتوں کا نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور ایران میں ایسی قیادت سامنے آئی جو جدوجہد جاری رکھنے اور جنگ کو علاقائی جنگ میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم تھی تو نیتن یاہو نے اپنی دھمکیاں روک دیں اور اس کے بعد اس کی کوئی آواز سنائی نہیں دی۔
تجزیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے امریکی۔صہیونی دشمن کی فضائی حملوں اور ملک میں داخلی بدامنی پر انحصار کے ذریعے کی جانے والی کوشش ناکام ہونے کے بعد نیتن یاہو نے ایرانی عوام کے نام ویڈیو پیغامات جاری کرنے کا سہارا لیا۔ اس نے ایرانیوں کو سڑکوں پر نکلنے کی ترغیب دی اور وعدہ کیا کہ وہ ان کی حفاظت کرے گا اور انہیں تمام ضروری فوجی و مالی معاونت فراہم کرے گا۔
ایران نے نیتن یاہو کا آخری پتہ کیسے ناکام بنایا؟
رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر نے مزید لکھا کہ نیتن یاہو کی اس حمایت کا ایک ثبوت 6000 سیٹلائٹ فونز کی اسمگلنگ تھی، جو اسٹارلنک نیٹ ورک کے ذریعے کام کرتے تھے، تاکہ اس کے جاسوس ایک دوسرے سے رابطہ کرسکیں اور بغاوت کی کارروائی کو منظم کرسکیں۔ تاہم ایرانی انٹیلی جنس ادارے نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان تمام فونز کا سراغ لگایا، ان کے تمام صارفین کو گرفتار کیا اور انہیں ایک ایک کرکے ختم کردیا۔
تجزیہ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی فوج کو ایران کے خلاف جنگ پر اکسانا، جس کا مقصد ایرانی نظام کا تختہ الٹنا تھا اور جسے نیتن یاہو اور امریکہ و یورپ میں موجود صہیونی لابیوں نے منظم کیا تھا، نیتن یاہو کا آخری اور فیصلہ کن پتہ تھا۔
عطوان نے لکھا کہ لیکن ایران کی مزاحمت، طاقتور میزائل حملوں اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی تباہی نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا اور ٹرمپ اور اس کی حکومت کو ایسے جال میں پھنسا دیا جس سے وہ اقتدار سے استعفا اور شکست تسلیم کیے بغیر نکل نہیں سکتے۔
عطوان نے مزید کہا کہ یہی صورتحال اس بات کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ ٹرمپ نے ایران میں نظام کی تبدیلی، اس کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے، افزودگی کی تمام سرگرمیاں روکنے اور 465 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم حوالے کرنے سے متعلق اپنی دھمکی آمیز بیان بازی سے کیوں پیچھے ہٹنا شروع کیا۔ بالآخر اس نے فوجی آپشن ترک کرکے اقتصادی جنگ کا راستہ اختیار کیا۔
تجزیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ کی ناکامی اور ایرانی عوام کی اپنے نظام کے ساتھ حمایت کے بعد صہیونی حکومت اور اس کے رہنماؤں کی بیان بازی بھی تبدیل ہونا ناگزیر ہوگئی۔ اس سے قبل نیتن یاہو کا دعویٰ تھا کہ وہ امریکی مداخلت کے بغیر صرف اسرائیلی فوج کے ذریعے ایران پر فوری حملہ کرکے اسے تباہ کرسکتا ہے، لیکن اب وہ یہ دھمکی دے رہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو صہیونی حکومت جواب دے گی۔
عبدالباری عطوان نے لکھا: طاقت کا توازن کس قدر بدل گیا ہے! ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے لارک جزیرے اور جنوبی ایران کے کئی شہروں پر امریکی فضائی حملوں کا جواب دیا تو ایران کو مکمل طور پر تباہ کردیا جائے گا۔ تاہم ایران کی جانب سے 6 عرب ممالک، یعنی اردن، کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور عراق کے کردستان میں امریکی اڈوں پر تباہ کن میزائل حملوں کے بعد ٹرمپ نے تیزی سے اپنے قدم پیچھے کھینچ لیے۔
تجزیہ کے مطابق قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران نے سعودی عرب میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا، کیونکہ سعودی حکومت نے اپنی سرزمین سے ایران کی جانب امریکی میزائل داغنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور امریکی میزائل حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود بھی بند کردی تھیں۔
کوئی بھی ایران کے نظام کا تختہ نہیں الٹ سکتا
رائے الیوم کے چیف ایڈیٹر نے تاکید کی کہ یہاں نیتن یاہو اور ان تمام لوگوں کو یاد دلانا ضروری ہے جو مسلسل کہتے ہیں کہ ایران کو اسرائیل پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2025 کی 12 روزہ جنگ کے دوران، جب امریکہ نے اسرائیل کی غیر محدود حمایت کی، ایران کے سیکڑوں ہائپر سونک اور کلسٹر وار ہیڈز سے لیس میزائلوں نے گریٹر تل ابیب، حیفا، دیمونا اور بیر السبع کے بیشتر علاقوں اور شہروں کو تباہ کردیا تھا۔
اس معروف عرب تجزیہ کار نے کہا کہ اس وقت سب نے دیکھا کہ نیتن یاہو کس طرح عجلت میں امریکہ کے سامنے گڑگڑانے لگا اور ایران سے اسرائیل پر حملے روکنے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کرنے لگا۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ماضی کی طرح نہ نیتن یاہو اور نہ ہی کوئی اور ایران کے نظام کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہوگا اور اس حوالے سے اس کی دھمکیاں بے بنیاد ہیں، کیونکہ ایرانی نظام پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوچکا ہے۔
تجزیہ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ 2 ماہ کے اندر گرنے والی 2 حکومتیں ایک نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت ہوگی، جو آئندہ انتخابات میں منگل 27 اکتوبر کو شکست سے دوچار ہوگی، جبکہ دوسری ٹرمپ حکومت ہوگی، جو نومبر کے اوائل میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد لازماً زوال کا شکار ہوگی۔
تجزیہ کے مطابق اس کے بعد نیتن یاہو بدعنوانی کے الزامات میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا، جبکہ ٹرمپ بالآخر امریکہ کی فوجی، سیاسی اور اخلاقی ساکھ کو تباہ کردے گا، اور وقت ہی ہر چیز کو ثابت کردے گا۔


مشہور خبریں۔
قرض پروگرام کا پہلا جائزہ، حکومت، آئی ایم ایف کے درمیان بیک اپ اقدامات پر اتفاق
?️ 10 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) مالیاتی اور زری اہداف سے انحراف کی صورت
نومبر
تل ابیب کی کارروائی اسرائیلی سکیورٹی نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا: مزاحمت
?️ 29 اکتوبر 2024سچ خبریں: آج شمالی تل ابیب میں موساد کے ہیڈ کوارٹر کے قریب
اکتوبر
پشاور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، ملک بھر میں ٹک ٹاک بند کرنے کا حکم
?️ 11 مارچ 2021پشاور(سچ خبریں)پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے پورے میں
مارچ
بین الاقوامی وکلاء: ایران پر اسرائیل کا حملہ غیر قانونی تھا/مرٹز جارحیت کو قانونی حیثیت دینے کی جدوجہد
?️ 10 جولائی 2025سچ خبریں: جرمن چانسلر نے آج (بدھ) ایران پر صیہونی حکومت کے
جولائی
اسلام آباد ہائی کورٹ: عمران خان کی 8 مقدمات میں عبوری ضمانت میں 3 مئی تک توسیع
?️ 19 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ نے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر
اپریل
’غزہ‘ میں اسرائیلی اقدام ’نسل کشی‘ ہیں، جینیفر لارنس
?️ 27 ستمبر 2025سچ خبریں: آسکر ایوارڈ یافتہ ہولی وڈ اداکارہ جینیفر لارنس میں فلسطین
ستمبر
حماس نے الحیا کے قتل کی خبروں کی تردید کی ہے
?️ 27 اگست 2025سچ خبریں: فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے
اگست
عمران خان کی اتنی مقبولیت نہیں دیکھی جتنی آج ہے:فیصل جاوید
?️ 26 مارچ 2022اسلام آباد ( سچ خبریں ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء سینیٹر
مارچ