اتنی بڑی صیہونی فوجی ٹیکنالوجی کے باوجود حزب اللہ کیسے میدان میں ڈٹی ہوئی ہے؟

حزب اللہ

?️

سچ خبریں:جنوبی لبنان میں حالیہ عسکری صورتحال نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان محاذ آرائی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس برتری کے باوجود اسرائیل کو حزب اللہ کے جنگی ڈھانچے اور پیچیدہ جغرافیے کے باعث سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

جنوبی لبنان میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والی عسکری صورتحل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صہیونی فوج اس محاذ پر محدود حملوں کی حکمت عملی سے آگے بڑھ کر زمینی پیش قدمی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد محاذی خطوط کو تبدیل کرنا اور لبنان کے اندر ایک نئی حفاظتی گہرائی قائم کرنا ہے۔

 تاہم مزاحمتی مجاہدین کی جنگی صلاحیتوں اور خودکش ڈرون جیسے جدید ہتھیاروں نے اس منصوبے کو صہیونی فوج، خصوصاً اس کے کمانڈروں کے لیے ایک خونریز ڈراؤنے خواب میں تبدیل کر دیا ہے۔

جنوبی لبنان کے مختلف محاذوں پر صہیونی فوج کی سرگرمیوں کا دائرہ سرحدی علاقوں سے آگے دریائے لیتانی کے شمالی حصوں اور نبطیہ و دریائے زہرانی کی سمت تک پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔

یہ صورتحال اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ تل ابیب اس محاذ کے سکیورٹی جغرافیے کو ازسرنو ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اسے سن 2006 کی جنگ کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سب سے اہم عسکری تبدیلیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

سن 2006 کی جنگ کو ایک ایسے تجربے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں فضائی برتری اور شدید بمباری کے باوجود صہیونی فوج زمینی میدان میں کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی اور حزب اللہ کے جنگی ڈھانچے کے سامنے اسے عملی جمود کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تاہم موجودہ صورتحال کئی حوالوں سے مختلف ہے۔ آج اسرائیل انٹیلی جنس برتری، ڈیٹا تجزیاتی نظاموں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے فائر پاور اور زمینی کارروائیوں کے درمیان مؤثر ربط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی کے ساتھ مشرقی پہاڑی علاقوں اور جنوبی لبنان کی مواصلاتی شاہراہوں پر نظر رکھنے والے اہم جغرافیائی مقامات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقصد صرف سرحدی کارروائیاں نہیں بلکہ حزب اللہ کی دفاعی لائنوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔

اسی تناظر میں لیتانی اور نبطیہ کے اطراف حالیہ پیش قدمیوں کو ایک نئی مدافعات مساوات قائم کرنے اور 2006 کی جنگ کے مختلف ماڈل کو آزمانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں جدید جنگی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کو ماضی کی عملی کمزوریوں کے ازالے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

جنوبی لبنان میں صہیونی فوج کی عملیاتی حکمت عملی

حالیہ عسکری سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ صہیونی فوج کی کارروائیاں صرف سرحدی خطرات کے جواب تک محدود نہیں بلکہ شمالی مقبوضہ علاقوں میں مدافعاتی توازن کو ازسرنو معین کرنے کی ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں، اس کا ایک مقصد صہیونی آبادکاروں کو ان علاقوں میں برقرار رکھنا بھی ہے۔

صیہونی افواج کی سرحدی خطوط سے شمالی دریائے لیتانی اور نبطیہ کے اطراف کی سمت بتدریج پیش قدمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ تل ابیب ایک نئی زمینی حقیقت قائم کرنا چاہتا ہے جس کے تحت صیہونی سرحدوں اور حزب اللہ کی عملیاتی صلاحیتوں کے درمیان فاصلہ بڑھایا جا سکے اور مزاحمتی مجاہدین کی سرحدی نقل و حرکت کو مزید مہنگا بنایا جا سکے۔

ان کارروائیوں کی ایک نمایاں خصوصیت جدید انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی پر انحصار ہے، سن 2006 کی جنگ کے برعکس، جب صہیونی فوج بنیادی طور پر فضائی طاقت اور بھاری گولہ باری پر تکیہ کرتی تھی، اب انٹیلی جنس، فضائی نگرانی اور زمینی پیش قدمی کے درمیان واضح ہم آہنگی دیکھی جا رہی ہے۔

جاسوسی اور حملہ آور ڈرونوں، مسلسل نگرانی کے نظاموں اور تیز رفتار ڈیٹا تجزیے کے ذریعے صہیونی فوج مزاحمتی فورسز کی رسد اور مواصلاتی نیٹ ورک کی شناخت اور ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد ان کمزوریوں کو کم کرنا ہے جو 2006 کی جنگ کے دوران نمایاں ہوئیں۔

جنوبی لبنان کا پیچیدہ جغرافیہ

اس تمام عمل میں جنوبی لبنان کا جغرافیہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ نبطیہ اور اندرونی مواصلاتی راستوں پر نظر رکھنے والے علاقوں میں کارروائیوں کا ارتکاز ظاہر کرتا ہے کہ صہیونی فوج جغرافیائی گزرگاہوں کو کنٹرول یا ان کے لیے خطرہ پیدا کرکے حزب اللہ کی نقل و حرکت اور ازسرِنو تنظیم سازی کی صلاحیت محدود کرنا چاہتی ہے۔

جغرافیائی سیاسی نقطۂ نظر سے ایسی کارروائیاں جنوبی لبنان کے اندر ایک دباؤ کے حصار کی شکل اختیار کر سکتی ہیں، جس کا مقصد وسیع زمینی قبضہ نہیں بلکہ مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں کے قریب مزاحمتی قوتوں کی موجودگی کو زیادہ مہنگا بنانا ہے۔

تاہم یہ حکمت عملی متعدد عملی اور ساختی چیلنجوں سے بھی دوچار ہے، کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جنوبی لبنان خطے کے پیچیدہ ترین نامتقارن جنگی ماحول میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں دفاعی پوزیشنوں، خفیہ راستوں، میزائل صلاحیتوں اور ڈرون نیٹ ورکس کا ایک وسیع ڈھانچہ موجود ہے۔

ایسے حالات میں اگر صہیونی فوج محدود زمینی کامیابیاں حاصل بھی کر لے تو ان کامیابیوں کو برقرار رکھنا بھاری انسانی، عسکری اور سیاسی قیمت کا متقاضی ہوگا۔

تاریخی تجربہ بھی یہی بتاتا ہے۔ سن 1982 کی لبنان جنگ کے دوران صہیونی فوج نے جنوبی لبنان میں واقع شقیف قلعے پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کامیابی کو ایک بڑی فتح قرار دیا گیا تھا، لیکن بعد میں یہی مقام مزاحمتی مجاہدین کی گھات لگانے والی کارروائیوں کے باعث صہیونی فوجیوں کے لیے ایک خطرناک میدان بن گیا۔

حزب اللہ کی حکمت عملی اور جنگی لچک

اس تناظر میں حزب اللہ کا رویہ بھی تدریجی جنگی انتظام پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران حزب اللہ نے اپنی عسکری ساخت کو اس انداز میں ترقی دی ہے کہ وہ جدید، مشترکہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی جنگی کارروائیوں کے مقابل بھی مؤثر لچک برقرار رکھ سکے۔

اس لیے مزاحمت کا جواب لازماً ہر زمینی کارروائی کے مقابلے میں براہِ راست اور وسیع جنگ کی صورت میں نہیں ہوگا، بلکہ یہ مختلف محاذوں پر دباؤ بڑھانے، رسد کے راستوں کو نشانہ بنانے یا تنازع کو دیگر میدانوں تک پھیلانے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

نتیجہ

جنوبی لبنان میں حالیہ عسکری صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ صہیونی حکومت اور حزب اللہ کے درمیان کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں دونوں فریق بازدارتی توازن کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسرائیل جدید انٹیلی جنس، مصنوعی ذہانت، نگرانی کے نظاموں اور مرحلہ وار زمینی پیش قدمی کے ذریعے اپنی عسکری برتری کا تاثر قائم کرنا چاہتا ہے، لیکن جنوبی لبنان کے پیچیدہ جغرافیے اور حزب اللہ کے نامتقارن مزاحمتی ڈھانچے کے باعث پائیدار کامیابی کا حصول اب بھی غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔

ماضی کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ جنوبی لبنان میں طویل المدتی فوجی موجودگی صہیونی فوج کے لیے شدید سکیورٹی دباؤ اور تدریجی عسکری تھکن کا سبب بن سکتی ہے۔ دوسری جانب حزب اللہ گزشتہ برسوں میں اپنی عسکری اور تنظیمی صلاحیتوں کو اس حد تک ترقی دے چکی ہے کہ وہ جدید جنگی نمونوں کے مقابل بھی قابلِ ذکر لچک اور استقامت کا مظاہرہ کر سکے۔

مشہور خبریں۔

کشمیری ہر قیمت پر حق خودارادیت حاصل کریں گے، کل جماعتی حریت کانفرنس

?️ 25 مارچ 2023سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت

اسرائیلی پارلیمنٹ میں تصادم اور زبانی بحث

?️ 3 مارچ 2022سچ خبریں:  اسرائیلی کنیسٹ کا پارلیمانی اجلاس مذہبی صہیونی پارٹی کے متعدد

بلوچستان: مقتول وکیل عبدالرزاق شر کے بیٹے نے مقدمے میں چیئرمین پی ٹی آئی کو نامزد کردیا

?️ 7 جون 2023کوئٹہ: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے مقتول سینئر وکیل ایڈووکیٹ عبدالرزاق شر

یورپ کا چین اور بھارت کی جانب جھکاؤ، کیا نیٹو اتحاد ٹوٹنے والا ہے؟

?️ 14 فروری 2026سچ خبریں:امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتے اختلافات کے باعث یورپی ممالک

پی آئی اے کا طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا

?️ 4 ستمبر 2021کراچی (سچ خبریں) اسلام آباد سے کوئٹہ جانے والا پی آئی اے

پوتین نے یوکرین کو نیٹو طرز کی سیکیورٹی گارنٹی دینے پر رضامندی ظاہر کی: ویتکاف

?️ 18 اگست 2025پوتین نے یوکرین کو نیٹو طرز کی سیکیورٹی گارنٹی دینے پر رضامندی

امریکی جنگی جہاز کا پاکستان کا دورہ ختم

?️ 27 ستمبر 2025سچ خبریں: پاکستانی میڈیا کے مطابق، امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس

عرب لیگ نے فلسطین پر قبضے اور نسل کشی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے

?️ 5 جون 2025سچ خبریں: جون 1967 کی جنگ میں فلسطینی سرزمین پر قبضے کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے