?️
سچ خبریں:دو ہفتے قبل امریکہ نے ایران کے سامنے 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا، مگر حالیہ دنوں میں صورتحال بدل گئی اور جنگ بندی کے لیے ایران کی 10 شرائط زیر بحث آ گئیں۔
تقریباً دو ہفتے قبل امریکہ نے ایران کے سامنے ایک 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا جسے بعض مبصرین ایران کی مکمل ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دے رہے تھے۔ تاہم حالیہ پیش رفت میں حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ بالآخر جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی 10 شرائط پر بات ہونے لگی۔
امریکی منصوبے میں ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنا، میزائل پروگرام محدود کرنا، افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنا، حزب اللہ کی حمایت ختم کرنا اور بین الاقوامی ایجنسی کے مستقل معائنہ کاروں کی موجودگی جیسے نکات شامل تھے۔ واشنگٹن کا خیال تھا کہ جنگ اور سیاسی دباؤ کے ذریعے وہ وہ اہداف حاصل کر لے گا جو میدان جنگ میں حاصل نہیں کر سکا۔
ایران نے اس منصوبے کے جواب میں خطے میں امریکی مفادات اور مقبوضہ علاقوں کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی۔ اسی دوران امریکی صدر بار بار ایران کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے رہے، تاہم ایرانی حکام نے اس کی تردید کی جبکہ مغربی ذرائع ابلاغ بھی اس دعوے پر شکوک کا اظہار کرتے رہے۔
رپورٹس کے مطابق اس عرصے میں براہ راست مذاکرات کے بجائے پاکستان کی ثالثی سے پیغامات کا تبادلہ ہوا جس میں ایران نے جنگ روکنے کے لیے اپنی شرائط پیش کیں۔
امریکہ نے ایران کو دباؤ میں لانے کے لیے بجلی گھروں اور توانائی کے ڈھانچے پر حملوں کی دھمکی بھی دی اور مختلف ڈیڈ لائنز مقرر کیں۔ ابتدا میں دو دن کی مہلت دی گئی، پھر اسے پانچ دن تک بڑھایا گیا اور بعد میں مزید دس دن کا وقت دیا گیا۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی ڈیڈ لائن ایران کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
اسی دوران امریکہ نے ایران کے اندر ایک زمینی آپریشن بھی کیا جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایک گرنے والے پائلٹ کو بچانے کے لیے تھا۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس کارروائی کا اصل مقصد ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں ایران نے مبینہ طور پر 10 سے زائد امریکی فضائی گاڑیاں تباہ کر دیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ اس جنگ میں نہ واضح فتح حاصل کر سکے تھے اور نہ آسانی سے اس سے نکل پا رہے تھے، اس لیے وہ ایک آخری بڑی کارروائی کے ذریعے عارضی کامیابی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ تاہم یہ کارروائی بھی امریکی حکمت عملی کے لیے ایک بڑی ناکامی میں بدل گئی۔
گزشتہ دنوں ٹرمپ بجلی گھروں پر ممکنہ حملے کی ڈیڈ لائن کے خاتمے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس دوران ایران کے بعض پیٹروکیمیکل مراکز پر حملے بھی ہوئے، لیکن ایران کے ردعمل کی شدت توقع سے زیادہ رہی۔
بالآخر عالمی سطح پر جو تاثر ابھرا وہ یہ تھا کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کی شرائط کو قبول کرنے پر مجبور ہو گیا۔
موجودہ صورتحال میں نہ تو امریکہ اور اسرائیل کے بنیادی اہداف — جیسے حکومت کی تبدیلی یا ایران کی جوہری صلاحیت کا خاتمہ — حاصل ہو سکے، بلکہ بعض مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے معاملے میں ایران کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایک مہنگی جنگ شروع کی، مگر جنگ بندی کے وقت ایران کی عسکری اور اسٹریٹجک طاقت بڑی حد تک برقرار رہی۔


مشہور خبریں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ نے 7 اکتوبر کی ناکامی پر متعدد اعلیٰ کمانڈرز برطرف کر دیے
?️ 25 نومبر 2025اسرائیلی فوج کے سربراہ نے 7 اکتوبر کی ناکامی پر متعدد اعلیٰ
نومبر
5لاکھ روپے سے زائد کے ڈپازٹس غیرمحفوظ ہونے کی خبریں مسترد
?️ 5 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک نے پانچ لاکھ روپے سے زائد
اکتوبر
ایف بی آر کے نئے چیر مین مقرر
?️ 10 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) حکومت نے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور آٹومیشن
اپریل
ٹرمپ اور مسک کے تنازعے کے امریکہ پر نقصانات
?️ 12 جون 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان تناؤ
جون
سی ڈی اے کی طرف سے ہمارے اوپر یلغار کی گئی، بیرسٹر گوہر خان
?️ 24 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے
مئی
اقوام متحدہ غیر مؤثر ادارہ بننے کی جانب گامزن
?️ 28 ستمبر 2025اقوام متحدہ غیر مؤثر ادارہ بننے کی جانب گامزن ایک مغربی میڈیا
ستمبر
ایس سی او اجلاس: ضلعی انتظامیہ کو اسلام آباد میں فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کا حکم
?️ 14 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر ضلعی
اکتوبر
شیخ رشید نے لال حویلی کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر دیا
?️ 20 اکتوبر 2021راولپنڈی (سچ خبریں) راولپنڈی میں وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے
اکتوبر